لنڈی کوتل بائی پاس پر مزدوروں   پر پابندی کیخلاف دھرنا جاری

لنڈی کوتل بائی پاس پر مزدوروں   پر پابندی کیخلاف دھرنا جاری

  

خیبر (بیورورپورٹ)لنڈیکوتل بائی پاس پر مزدور یونین اور تنظیم نوجوانا ن کا طورخم بارڈر بندش اور مزدوروں کو آنے جانے کی پابندی کیخلاف دھرنا چوتھے روز بھی جا ری ہے دھرنا چوبیس گھنٹے یعنی دن رات دیا جا رہا ہے علاقے کے مختلف مکاتب فکر کی لوگ مزدوروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے دھرنے میں شریک ہو تے ہیں طورخم بارڈر پر ایک اندزے کے مطابق تقریبا چار ہزار مزدور کام کرتے ہیں جو صبح افغانستا ن جاکر وہاں ہاتھ میں سامان لاکر یہاں بھیجتے  ہیں یا اس میں ایسے مزدور بھی شام ہیں جو ہتھ گاڑی چلا کر اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کماتے ہیں جبکہ اس میں معذور مزدور بھی شامل ہیں لیکن کچھ عرصے سے ان مزدورں پر پالسیاں سخت کر دی گئی ہے اور اب بارڈر مکمل عام لوگوں کی آمدورفت کیلئے بند کر دیا گیا ہے جس پر مزدوروں نے احتجاجا دھرنا دیا طورخم بارڈر سے صرف مزدوروابستہ نہیں بلکہ ٹیکسی ڈارئیوار ہوٹلز سمیت تاجر کا روزگا ربھی وازبستہ ہیں بارڈر کی بندش سے ہزاروں لوگ متاثر ہو گئے ہیں کیونکہ لنڈیکوتل اور طورخم میں بارڈر پر مزدوری کے علاوہ دوسرے زرائع نہیں ہے اس لئے ہزاروں کی تعداد میں لوگ صبح طورخم جا کر شام تک مزدوری کر تے ہیں اور اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کماتے ہیں احتجاجی دھرنا دینے والے مزدوروں کے صدر فرمان شینواری اور تنظیم نوجوانان کے سابق صدر اسرار شینواری نے بتا یا کہ تقریبا چار ہزار مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں یہ کہا جائیں گے ان سے مزدوری کا حق کیوں چھینناجا رہا ہے بارڈر پر مزدوری انکا حق بنتاہے وہ کورونا ایس او پیز پر عمل درامد کرتے ہیں اور بارڈر سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہر قسم تعاون کیلئے تیا ر ہیں اس لئے مزدوروں کیلئے بارڈر کھول دی جائے انہوں نے کہا کہ مزدور ہاتھ میں سامان لاتاہے یا ہتھ گاڑی چلاتا ہے جس وہ بمشکل پانچ سو روپے دن کماتا ہے لیکن اب یہ حق بھی ن چھین لیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ انہوں نے بار بار شکایا ت اور احتجاج بھی کیا لیکن حکومت ٹہس سے مس نہیں ہو رہے ہیں اس لئے شاہراہ پر دھرنا دینے کیلئے مجبور ہو گئے ہیں صدور نے کہا کہ صرف چار ہزارمزدورنہیں ہے بلکہ اسکے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں ٹیکسی گاڑیاں فلائنگ کوچزاور ہوٹلز بھی متاثر ہو ئے ہیں یہ تمام لوگ کہا جائیں گے انہوں نے دھمکی دی کہ اگر انکے ساتھ بارڈر پر نرمی نہیں کی گئی تو وہ شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -