مثبت تنقید سے حکومت کی اصلاح ہوتی ہے:مشتاق احمد غنی

مثبت تنقید سے حکومت کی اصلاح ہوتی ہے:مشتاق احمد غنی

  

     پشاور (نیوزرپورٹر)مثبت تنقید کو ہمیشہ خوش آمدید کہتیہیں. اس سے حکومت کی اصلاح ہوتی ہے. موجودہ حکومت نے کبھی صحافیوں کی راہ میں روڑے نہی اٹکائے. زرد صحافت اور بے جا پگڑیاں اچھالنا رائج ضابطہ اخلاق کی نہ صرف خلاف ورزی ہے بلکہ غیر اخلاقی کام بھی ہے. ان خیالات کا اظہار سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی نے روزنامہ سپریم راولپنڈی کے صدر دفتر کے افتتاح کے موقع پر کیا. روزنامہ سپریم پہنچنے پر اخبار کے چیف ایگزیکٹیو شوکت حیات عباسی, انوار عباسی و دیگر نے سپیکر مشتاق غنی کا استقبال کیا. روزنامہ سپریم کے صحافیوں اور سٹاف سے بات کرتے ہوئے سپیکر مشتاق غنی نے کہا کہ روزنامہ سپریم سے توقع ہے کہ وہ مثبت صحافت کو فروغ دیگی اور حکومت پر مثبت تنقید کے ساتھ ساتھ اس کی مفاد عامہ کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی مناسب تشہیر بھی کریگی. انہوں نے کہا کہ حکومت پر مثبت تنقید ہو تو حکومت کو غلطیوں کی اصلاح کا موقع ملتا ہے. بدقسمتی سے کچھ صحافی ساتھی ایسے ہیں جن کو حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے مثبت اقدامات نظر ہی نہی آتے. صوبہ خیبر پختونخوا نے صحت سہولت کارڈ کا اجرا کیا جو دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام ہے. اس پالیسی کے تحت شناختی کارڈ رکھنے والا صوبے کا ہر شخص دس لاکھ تک مفت علاج معالجے کی سہولت حاصل کرسکتا ہے. مغربی ممالک میں ہیلتھ انشورنس کا پریمیم بندہ خود بھرتا یے جبکہ یہاں پریمیم صوبائی حکومت بھرتی ہے. ہمارے منصوبے کو پنجاب نے کاپی کیا اور اب وہاں بھی صحت سہولت کارڈ کا اجرا ہوگیاہے. مھنگائی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب بھی ہم نے پچھلی حکومتوں کا لیا ہوا 12 ارب ڈالر کا قرضہ سود سمیت ادا کرنا ہے. ماضی کی حکومتیں قرضوں کی ادایگی کے لیے بھی مزید قرضے لیتی تھی اور اشیاے خوردنی پر سبسڈی دیکر نرخوں کو کچھ کم کرلیتی اور یوں قوم پر قرضوں کا ہمالہ لاکھڑا کردیا. انہی قرضوں کی سود سمیت ادایگی کی بدولت مھنگائی بڑھ گیی جو ان شا اللہ اب بتدریج نیچے کی طرف آنے والی ہے. ہم نے کرپشن کے خلاف سخت اقدامات اٹھا کر کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے. سمگلنگ منی لانڈرنگ کی بیخ کنی کردی یے. وسل بلور ایکٹ کے تحت عوام کو مکمل آزادی یے کہ جس بھی محکمے میں کرپشن ہورہی ہو, وہ انکی نشاندہی کرا سکتے ہیں اور انکی تفصیلات مکمل صیضہ راز میں رکھی جاتی ہیں. عوام کے تعاون سے ہی ہم کرپشن کو ختم کرسکتے ہیں. شہر شہر لنگر خانے, پناہ گاہیں کھول دی ہیں. غریب اور ہونہار بچوں کو وظائف کا سلسلہ شروع کیاہے. وزیر اعظم عمران خان وہ واحد حکمران ہے جس نے ڈومور کی پالیسی پر ایبسلوٹلی ناٹ کی مہر لگا کر اسے ہمیشہ کیلیے بند کردیا یے اور یہی ایک خوددار اور غیرت مند قوم کی نشانی ہے. اب ہم مزید کسی ڈومور کی خاطر اپنے بچوں کی قربانیاں نہی دینگے. ہم نے ملک کی تعمیر و ترقی کا بیڑا اٹھا لیا ہے. شہر شہر کھیل کے میدان بنا رہے ہیں, تعلیمی درسگاہوں میں یکساں نظام تعلیم رایج کررہے ہیں. اب غریب کا بچہ اور امیر کا بچہ ایک ہی نصاب پڑھے گا. ہماری حکومت نے کفایت شعاری مہم شروع کررکھی ہے. ہم نے اپنی اسمبلی میں پچھلے مالی سال میں 12 کروڑ روپے کی بچت کی ہے. ہماری اسمبلی واحد اسمبلی ہے جو پیپر لیس ہے.  صوبے میں افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے امن و امان کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان شا اللہ حالات مکمل کنٹرول میں ہیں اور جلد افغانستان میں بھی حالات کافی بہتر ہوجاینگے. ہماری بہادر پولیس اور فوج کے جانباز سپاہی عوام کے تعاون اور مدد کے ساتھ ملک کو اندرونی و بیرونی دشمنوں سے بچانے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں.

پشاور(نیوزرپورٹر)ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے شعبہ نفسیات کے زیر اہتمام عالمی دن برائے دماغی صحت کے حوالے سے سیمینار منعقد کیا گیا. پروگرام کے مہمان خصوصی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی تھے. سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی نے پروگرام کی انتظامیہ اور ہسپتال کے شعبہ سائیکاٹری کو اس طرح کے آگاہی پروگرام چلانے پر داد تحسین پیش کی. سپیکر مشتاق غنی نے کہا کہ بین القوامی مینٹل ہیلتھ ڈیمنانے کا مقصد دنیا بھر میں دماغی امراض کے حوالے سے آگاہی پھیلانا اور اس حوالے سے انفرادی و اجتماعی کوششوں پر روشنی ڈالناہے. اس دن کا مقصد ان تمام لوگوں کو موقع فراہم کرنا یے جنھوں نے دماغی و نفسیاتی امراض کے تدارک کے حوالے سے کوششیں کی ہیں, ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا اور اس بات کا ادراک کرنا کہ معاشرے کو نفسیاتی امراض سے بچانے کی خاطر مزید کیا کرنا ہے. انہوں نے شرکائے مجلس سے اپنے خطاب میں کووئیڈ 19 کی وجہ سے دنیا بھر اور خاص طور پر پاکستانی عوام میں ذہنی دباو اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والی ذہنی امراض کے حوالے سے کہا کہ کووئیڈ سے پیدا ہونے والے مسائل میں سرفہرست خوف اور شدید ذہنی دباو ہے جس پر شعبہ نفسیات سے تعلق رکھنے والے بے شمار ماہرین نفسیات نے قابو پانے کے لیے بہترین کام کیا ہے. اس سلسلے میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے شعبہ سائیکاٹری کی کوششیں قابل ستائش ہیں جنھوں نے سخت حالات میں ڈپریشن, انگزائٹی اور دیگر نفسیاتی امراض کی صحیح تشخیص کی. کووئیڈ وبا ایک آزمائش تھی جس نے تقریبا" ہر فرد کو شدید ذہنی دباو میں ڈالا. اس موقع پر ماہرین نفسیات کی شدید ضرورت محسوس کی گئی اور ماہرین نفسیات نے کووئیڈ کی وجہ سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مریضوں کی بحالی کا کام احسن طریقیسے کیا. حال ہی میں ایوب ٹیچنگ کے شعبہ نفسیات کے ڈاکٹروں نے ہزارہ ڈیویژن کے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا بیڑہ اٹھایا جو یقینا" ایک جہاد ہے. ان کی کوششوں سے لاتعدادگھرانے تباہ ہونے سے بچ سکتے ہیں, منشیات کے عادی افراد دوبارہ معاشرے کے مفید افراد بن سکتے ہیں. انہوں نے حاضرین سے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ طب کے شعبے سے وابستہ افراد اپنے مریضوں کی صحیح تشخیص کرکے مسیحائی کا حق ادا کریں. بے شمار ایسے مریض ہیں جن کی غلط تشخیص سے انکو مزید مالی و ذہنی مشکلات سے دوچار کردیا گیا. زیادہ تر معالج حضرات نفسیاتی امراض کے مریضوں کو یا نشہ آور ادویات تشخیص کرتے ہیں یا اینٹی ڈپریشن جو ان کا مسلہ حل کرنے کی بجائے انکو مزید اذیت سے دوچار کردیتے ہیں جبکہ ایسے مریضوں کو ماہرین نفیسات کی طرف بھیج کر انکو لاحق ذہنی امراض کا وقت پر علاج ہوسکتا ہے. انہوں نے اسلامی احکامات سے دوری اور رایج خاندانی نظام معاشرت سے دوری کو بھی نفسیاتی و دماغی امراض میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا. اسلامی احکامات کو پس پشت ڈال کر مغربی طور طریقوں کے اپنانے سے معاشرے میں منشیات کے استعمال میں اضافہ ہوا, نوجوان نسل میں خودکشیوں کا رحجان بڑھا, خاندانی نظام معاشرت تباہ ہوکر رہ گیا, چھوٹوں پر شفقت, بڑوں کا احترام ہماری نئی نسل نے بھلادیا, تدریسی اداروں میں پڑھنے والے بچوں میں لائق اور نالایق بچوں کی تفریق سے ان میں نفرت کا جذبہ پیدا کیا گیا, اور ایسے بہت سارے عوامل ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں عدم برداشت, نفرت, ذہنی دباو اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والے نفسیاتی امراض نے جنم لیا. سپیکر مشتاق غنی نے ڈین ایوب ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر عمر فاروق, چئیرپرسن سائیکاٹری ڈاکٹر آفتاب عالم, رجسٹرار سائیکاٹری ڈاکٹر امین رشید اور دیگر کا شکریہ ادا کیا جو شبانہ روز ہسپتال کے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ شعبہ نفسیات کی بہتری کے لئے کوششیں کررہے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -