جنوبی وزیرستان، ایگری پارک وانا میں لوٹ مار کا سلسلہ بدستور جاری

 جنوبی وزیرستان، ایگری پارک وانا میں لوٹ مار کا سلسلہ بدستور جاری

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)جنوبی وزیرستان: ایگری پارک وانا میں لوٹ مار کا سلسلہ بدستور جاری، روزمرہ کی بنیاد پر فروٹ، سبزیوں پر خود ساختہ ٹیکس کی مد میں لاکھوں روپے بھتہ وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرنے کی بجائے حصوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے، تفصیلات کے مطابق جنوبی وزیرستان سب ڈویژن وانا میں اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ایگری پارک جس میں چلغوزے کی پروسیسنگ کی جدید مشنری نصب ہونے سمیت فروٹ اور سبزیوں کو محفوظ بنانے کیلئے بڑے بڑے کول سٹوریج بنائے گئے ہیں، اس کے علاوہ پارک کے حدود کے اندر آڑھتیوں کیلئے سنکڑوں کی تعداد میں دوکانات ہوٹل تعمیر کرکے دیگر سہولیات مہیا کی گئی ہیں، دوسال قبل قبائلی علاقے خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے کے بعد مذکورہ پارک محکمہ لوکل گورنمنٹ کے دائرہ اختیار میں آنے کے بعد پارک کی کنٹرول لوکل گورنمنٹ کو دینے اور پارک کو ٹینڈر کے ذریعے سالانہ نیلامی اور بولی کرکے ٹھکیداروں کو دینے کی بجائے ضلعی انتظامیہ نے پارک کو چلانے کیلئے ایک پرائیویٹ وزیرستانی نامی شخص کو پارک کا انچارج بناکر پارک کی سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا ہے، جنوبی وزیرستان کے زمیندار اپنے باغات کے فروٹ اور سبزیوں کو ایگری پارک منتقلی کے بعد روزانہ سنکڑوں کی تعداد  میں ٹرک ایگری پارک سے اندرون ملک کے منڈیوں کو سپلائی ہوتے ہیں، ان ٹرکوں پر ضلعی انتظامیہ فی ٹرک ہزاروں روپے خود ساختہ ٹیکس لگا کر اس مد میں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے وصول کرکے مطلوبہ رقم کو قومی خزانے میں جمع کرنے کی بجائے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر وانا اور سکاوٹس حکام کے مابین بندر بانٹ کی نظر ہوجاتا ہے، واضح رہے کہ دو سال قبل ایگری پارک وانا میں چلغوزہ پر لگائے گئے ٹیکس کی مد میں وصول شدہ اربوں روپے کا خرد برد ہوا تھا، جس کا کیس تاحال قومی احتساب بیورو میں چل رہا ہے،

مزید :

پشاورصفحہ آخر -