تنازعات کے حل کیلئے جرگہ سسٹم کامیاب اور بہترین فورم ہے:جمشید خان مہمند

تنازعات کے حل کیلئے جرگہ سسٹم کامیاب اور بہترین فورم ہے:جمشید خان مہمند

  

     شیرگڑھ (نا مہ نگار) ممبر صوبائی اسمبلی جمشید خان مہمند نے کہا ہے کہ معاشرے امن و امان کے قیام اور تنازعات کے حل کیلئے جرگہ سسٹم ایک کامیاب اور بہترین فورم ہے باہمی تنازعات کورٹ اور کچہریوں کے بجائے مقامی عمائدین اور علماء کرام جرگوں کے زریعہ سے حل کرانا ممکن بنادیں امن زندگی کی ضمانت ہے امن کے بغیر ترقی اور علاقہ کی خوشحالی ممکن نہیں لوگ اپنے علاقوں میں تنازعات کو ختم کرانے کیلئے  مقامی عمائدین اور علماء کرام پر مشتمل جرگے تشکیل دیں یہ عمل عین عبادت ہے جرائم پر قابو پانے کیلئے اہل علاقہ پولیس کے ساتھ  بھی تعاون کریں وہ جلالہ غنوشاہ کے مقام پر فریق اول ماسٹر فضل ربی وغیرہ اور فریق دوم اعتبار خان وغیرہ کے درمیان صلح کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے کچھ عرصہ قبل فریقین کے مابین اراضی کے تنازعہ پر ہاتھا پائی اور فائرنگ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے تھے جرگہ ممبران حاجی وزیر گل میاں عبدالرحمن سابق ضلع کونسلر یوسی مدے بابا میاں سید اکبر خان فریدون ریدی گل سابق ویلج کونسل جلالہ کے ناظم میر عالم کی کوششوں سے فریق اول ماسٹر فضل ربی وغیرہ اور فریق دوم اعتبار خان وغیرہ کے مابین صلح ممکن ہو سکا صلح کے سلسلے میں اعتبار خان کی رہائش گاہ غنو شاہ پر صلح کے سلسلے میں ایک تقریب منعقد کی گئی تقریب میں علاقہ بھر کے عمائدین اور عام لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تقریب سے  ایس ایچ او شیرگڑھ سب انسپکٹر ارشدعلی خان میاں عبدالرحمن حاجی وزیر گل سابق نائب ناظم یوسی جلالہ جاوید خان نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہا کہ علاقہ میں امن و امان کے قیام کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں اس کیلئے علاقہ کے سفید پوش اور سماجی شخصیات کو علاقے کے باشندوں کے مابین پائے جانے والے ہر قسم کے تنازعات جرگوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے تاکہ علاقہ میں امن کا قیام ممکن ہوسکے کاروبار اور تعلیم کیلئے پر امن ماحول جز اول ہے انہوں لوگوں پر زور دیا کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون بھی ممکن بنا دیں بعد میں فریقین میں سے قرآن پاک پر آئندہ کیلئے بھائیوں کی طرح رہنے کا حلف لیا گیا یاد رہے فریقین ماسٹر فضل ربی وغیرہ اور فریق دوم اعتبار خان وغیرہ  کے مابین عرصہ سے اراضی پر تنازعہ چلا آرہا تھا جس نے آخر میں ہاتھا پائی اور فائرنگ کی شکل اختیار کی فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد گولیوں کا نشانہ بن کر زخمی ہوگئے تھے اور مزید خون خرابے کا خطرہ تھا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -