وزارت آئی ٹی کے تحت جدید اینیمیشن ٹریننگ سنٹر کے قیام منصوبے پر کام شروع

وزارت آئی ٹی کے تحت جدید اینیمیشن ٹریننگ سنٹر کے قیام منصوبے پر کام شروع

  

      کراچی(اسٹاف رپورٹر)وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت کراچی میں جدید اینیمیشن ٹریننگ سینٹر کے قیام منصوبے پر کام شروع ہوگیا۔ وزارت آئی ٹی کا 2 ارب روپے لاگت سے کراچی میں جدید اینیمیشن ٹریننگ کیلئے سینٹر آف ایکسیلینس قائم کرنے کا منصوبہ شروع ہوا ہے۔اس موقع پر مقامی ہوٹل میں تقریب منعقد کی گئی۔تقریب میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی پروفیسرخالد عراقی اوراگنائٹ کے چیف ایگزیکٹیوعاصم شہریار نے کیے۔تقریب میں سیکرٹری آئی ٹی ڈاکٹرسہیل راجپوت، آئی ایس پی آرسندھ کیڈائریکٹربریگیڈیئرجہانگیراحمد۔سیاسی و سماجی شخصیات، غیر ملکی مندوبین اورشوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے معروف فنکاروں نے بھی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق نے کہا کہ اگنائٹ تربیت و آلات کے لیے فنڈنگ جبکہ جامعہ کراچی 28 ہزار مربع فٹ جگہ فراہم کرے گی۔یہ مرکز پاکستان میں قائم کسی بھی انکوبیشن سینٹر سے بڑا اور سہولیات کے اعتبار سے منفرد ہوگا۔370 ارب ڈالرز کی عالمی اینیمیشن انڈسٹری سے ملک کیلئے ریونیو کی شکل میں بڑا حصہ لیں گے۔امین الحق نے کہا کہ بڑے ریونیو کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب نوجوان جدید تربیت اور سہولیات سے آراستہ ہوں۔میڈیا،انٹرٹینمنٹ،اشتہارات، گیمنگ، سمیت ہر شعبے میں  اینیمیشن بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیت اور جدت سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی قابلیت کسی سے کم نہیں۔کبھی ایسی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں کہ بین الاقوامی طور پر نوجوان اپنی صلاحیتوں کو منواسکیں۔امین الحق نے کہا کہ وزارت آئی ٹی نے نوجوانوں کو مہنگی ترین اور جدید سہولیات و تربیت فراہمی کا عزم کیا ہے۔اینیمیشن و تھری ڈی گرافکس تربیتی مرکز 6 سے 8 ماہ کی ریکارڈ مدت میں کام شروع کردے گا۔سفر یہاں نہیں رکے گا بلکہ ملک بھر میں اس طرح کے مراکز کھولے جائیں گے۔وفاقی وزیر آئی ٹی نیپاکستان میں اینیمیشن انڈسٹری کیفروغ کیلئیآئی ایس پی آرکے بھرپورتعاون پراظہارتشکر کیا اور کہا کہ آئی ایس پی آر کی سپورٹ پاکستان اور طلبہ و طالبات کو کامیابی کی راہ پر دیکھنے کے عزم کا اظہار ہے۔امین الحق  نے کہا کہ اینی میچن سینٹر آف ایکسیلینس کا قیام بہت ضروری تھا۔بہت بڑی مارکیٹ ہے جس میں ہمارا کوئی خاص حصہ نہیں۔ ہم اس پر فوری کام شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس سینٹر آف ایکسیلینس سے صرف کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ دیگر جامعات کے بچے بھی مستفید ہونگے۔اس پروجیکٹ کے لیے دو ارب روپے مختص کیے ہیں۔ ایک ارب روپے فوری فراہم کریں گیاکتیس ارب روپے اب تک خرچ کرچکے ہیں کنیکٹویٹی کے لیے۔ پورے ملک کو انٹرنیٹ سروس سے منسلک کرنا چاہتے ہیں۔ ملک میں اٹھارہ کروڑ افراد سے زائدلوگ موبائل فون استعمال کررہے ہیں۔اب پاکستان میں موبائل فون بھی تیار کیے جارہے ہیں۔ سمارٹ فون سب کے لیے۔ یہ ہمارا ویژن ہے۔ہم چاہتے ہیں سب چیزیں ڈیجیٹلائیز ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ دس کروڑ سے زائد افراد براڈ بینڈ سروس استعمال کررہے ہیں۔پارلیمنٹ کو ڈیجیٹیلائیز کرنے جارہے ہیں۔ اب سب ایجنڈا ٹیبلیٹس پر ہوگا۔بہت جلد 911ہیلپ لائن شروع کی جائے گی۔ فائیو جی 2022دسمبر تک شروع کی جائے گی۔ آئی ٹی ایکسپورات میں رواں سال ستاون فیصد اضافہ ہوا۔ واپڈا نے کے فور منصوبہ لے لیا ہے۔ اب یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہوجائے گا۔ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی حل ہورہا ہے۔ سندھ حکومت نے اس مسئلے کے حل کیلیے کچھ نہیں کیا۔نومبر میں گرین لائن منصوبہ شروع ہوجائے گا۔جدیدکے سی آر کو بھی تین سال کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔ چھ سے آٹھ ماہ کے اندر سینٹر آف ایکسیلنس کو مکمل کر لیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -