وزیراعظم نے رحمت العالمینﷺ اتھارٹی بنانے کا اعلان کردیا، یہ اتھارٹی کیا کام کرے گی؟ آپ بھی جانیے

وزیراعظم نے رحمت العالمینﷺ اتھارٹی بنانے کا اعلان کردیا، یہ اتھارٹی کیا کام ...
وزیراعظم نے رحمت العالمینﷺ اتھارٹی بنانے کا اعلان کردیا، یہ اتھارٹی کیا کام کرے گی؟ آپ بھی جانیے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے رحمت العالمینﷺ اتھارٹی بنانے کا اعلان کیا ہے، اتھارٹی  شہریوں  کو حضرت محمد ﷺ کی سیرت مبارک کے مطابق زندگی گزارنے کی تعلیم دے گی،اتھارٹی کا مقصد اسلام پر مزید ریسرچ کرنا ہوگا۔

عشرہ رحمتہ العالمینﷺ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ  12ربیع الاول سب مناتے ہیں لیکن نبی ﷺکی زندگی پرعمل نہیں کرتے، حضرت محمدﷺ رحمت اللعالمین تھے،رحمت المسلمین نہیں، حضرت محمدﷺ دنیا کیلئے رحمت بن کر آئے تھے، مدینہ کی ریاست کے اصولوں پرچلیں گے تو ملک ترقی کرے گا،رحمت اللعالمینﷺ اتھارٹی  کے ذریعے سیرت نبی ﷺ بچوں اور بڑوں کو پڑھانے کا طریقہ کار طے کریں گے،ہم نے اتھارٹی کے چیئرمین کی تلاش شروع کردی ہے، دنیا کے بہترین مذہبی سکالرز کو چیئرمین بنایا جائے گا، جو اسلام سےمتعلق دنیا کو آگاہ کرے گا،اتھارٹی کے ذریعے سکولوں کے نصاب کی نگرانی کی جائے گی،اتھارٹی کا ایک ممبر میڈیا پر نشر ہونے والے مواد پر نظر رکھے گا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں آج نئی نسل سے متعلق بات کرنا چاہتا ہوں، آج دیکھ رہا ہوں موجودہ دورمیں نوجوان  نسل انتہائی دباؤ کاشکار ہے، میری والدہ نے ہمیشہ سیدھے راستے پر چلنے کے لیے دعا مانگنے کی تلقین کی،تو ہم بہن بھائی بھی بچپن میں یہی دعا کرتے تھے لیکن میری تعلیم ایچیسن میں ہوئی جہاں ہمارے رول ماڈل کوئی اور تھے جو ہمیں کہا گیا تھا سیدھا راستہ ہے اور جو رول ماڈل تھے، اس میں زمین و آسمان کا فرق تھا، میں نے اللہ سے ہمیشہ سیدھے راستے پر چلنے کی دعا مانگی،میں نے نماز میں ایک ہی چیز مانگی کہ اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلائے،فلمی اداکار، پوپ سٹار، کھلاڑی اور گلیمرس والے لوگ تھے اور ان کی زندگیاں بالکل مختلف تھی جن کے بارے میں ہمیں کہا گیا تھا کہ سیدھے راستے پر چلا،سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ آج ہمارے نوجوانوں کے ساتھ یہی مسئلہ پڑا ہوا ہے،جیسا میں آج ہوں ویساپہلےکبھی نہیں تھا،میں روز اپنی زندگی کا تنقیدی جائزہ لیتاہوں،میں اس وقت تک نہیں سوتا تھا جب تک پورے دن کےکاموں کا جائزہ نہ لیتا تھا جو میں سمجھتا ہوں ایک صفت ہے،دن میں کیا کھویا کیا پایا؟ہمیشہ اپنا تجزیہ کرتا تھا تو جو اس وقت ہمارے رول ماڈل تھے،اُن کی زندگی کو  قریب سے دیکھا تو مجھے آہستہ آہستہ سمجھ آنی شروع ہوئی ،ہم جو نماز میں کہتے ہیں کہ اللہ ان کے راستے پر چلا جن کو آپ نے نعمتیں بخشی ہیں ، وہ بڑے عظیم لوگ تھے,میں نے اپنی زندگی میں بہت دیرسےنبی ﷺکی زندگی کامطالعہ کیا،جب میں پہلی دفعہ انگلینڈ گیا تو 18 سال کا تھا تو وہاں جو ماحول دیکھا وہ زمان پارک سے بالکل مختلف تھا اور اس وقت جو رول ماڈل تھے ہم نے ان کی پیروی کی, ہم جن کورول ماڈل سمجھتےہیں ان کوتباہی کی طرف جاتےدیکھا،انسان کےپاس ہمیشہ دو  ہی راستےہوتےہیں ، ایک ناجائز دولت کمانے اور دوسرا نبی ﷺکی سیرت پر چلنا ہے، اللہ ہمیں حکم دیتاہےنبی کریم ﷺ کی زندگی سے سیکھو۔

عمران خان نے کہا کہ  دنیا کا سب سے بڑا انقلاب 625 اور 636 اور 637 کے درمیان آیا تھا، یہ کبھی نہیں ہوتا لیکن اگر یورپ میں یہ ہوتا کتنی کتابیں لکھی جاتیں اور فلمیں بنی ہوتیں،مجھے اپنی زندگی میں اتنی دیر بعد پتہ چلا تو یہاں بیٹھے ہوئے اکثر لوگوں کو یہ نہیں پتہ کہ کیا ہوا تھا، وہ دنیا کی تاریخ کا بہت فینومینا تھا، جس کو آپ سمجھ نہیں سکتے، 625 میں جنگ بدر میں 313 لوگ ہوتے ہیں، 636 اور 637 میں دو سپر پاورز نے 11 اور 12 سال میں گھٹنے ٹیک دیے، یہ کیا ہوا تھا، اس پر کوئی تحقیق ہوئی؟کوئی ہمیں بتایا گیا؟ ہمارے بچوں کو پتہ ہے کہ ہوا کیا تھا؟جب آپ اس کے پیچھے جائیں گے تو ایک چیز پتہ چلے گی کہ نبی ﷺ وہ شخصیت تھے جو یہ انقلاب لے کر آئے تھے، ایک تو ان کی شخصیت تھی دوسرا مدینے کی ریاست تھی جو ان کی سنت تھی، تو تب مجھے پتہ چلا کہ اللہ کیوں کہتے ہیں کہ ان کی زندگی سے سیکھو ،اللہ ہمیں اس لیے حکم کر رہا ہے کہ اگر اپنے ملک کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کروگے تو آپ کا ملک اٹھ جائے گا، آپ اگر ان کے کردار کو اپنانے کی کوشش کروگے تو آپ اوپر جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم ربیع الاول مناتے ہیں، پٹاخے اور آتش بازی کرتے ہیں، خوشیاں مناتے ہیں لیکن کیا آپﷺ کی زندگی پر ہم عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟یہ ایسے ہی ہے کہ ہم قرآن مجید کو گھر میں رکھا ہوا اور سارے اس کو بڑے ادب سے اٹھا رہے ہیں لیکن  پڑھ نہیں رہے ہیں کہ اس کے اندر کیا لکھا ہوا ہے؟ہم حضورﷺ کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں لیکن ان کے کردار سے تو سیکھیں، کیا ہم آپﷺ کے کردار پر چل رہے ہیں یا نہیں؟ اللہ کا حکم ہے کہ آپﷺ کی سنت پر عمل کرو ،حضورﷺ کی ساری محنت انسانوں کے لیے تھی، دنیا کی بڑی جمہوریتیں ہیں وہاں کوئی یہ تصور کرسکتا ہے کہ خلیفہ وقت حضرت علیؓ ایک یہودی شہری سے عدالت میں کیس ہار جاتے ہیں، حضرت علیؓ کا مقام دیکھیں کتنا بڑا تھا لیکن جج کہتا ہے میں آپؓ کی بیٹی کی گواہی قبول نہیں کرتا، یہ انسانیت کا نظام تھا اور سب انسان برابر تھے، ایک یہودی کو بھی ملک کے سربراہ سے وہی انصاف مل رہا تھا، یہ انسانوں کو اکٹھا کرنےکا تصور تھا، قیادت کا پیمانہ دیا کہ ایک قائد انسانوں کو اکٹھا کرتا ہے، تقسیم نہیں کرتا نفرتیں پھیلا کر، یہ نہیں کہتا ہے کہ ہندو سب سے عظیم قوم ہے باقی سب نیچے ہیں، انصاف سارے انسانوں کے لیے ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جہاں قانون کی بالادستی نہیں وہ ملک اوپر نہیں جاسکتے،مغربی ممالک میں انصاف کانظام بہت مضبوط ہے،مغربی ممالک  میں کرپشن کےالزام پرمستعفی ہوناپڑتاہے،برطانیہ میں کسی پرپیسہ لوٹنےکاالزام لگ جائےوہ آگےنہیں آسکتا، دنیاکےبہترین ممالک میں قانون کی بالادستی کانظام ہوتاہے،کمزور انسان انصاف اور طاقتور این آر او چاہتا ہے،سب سے پہلے معاشرے کی اخلاقی تباہی ہوتی ہے،معاشی تباہی اس کے بعد آتی ہے،جن قوموں میں قانون کی بالادستی نہیں ہوتی وہ اوپرنہیں جاسکتیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم حکومت میں ہوتے ہوئے پہلی بار الیکشن کو ٹھیک کرنے کی بات کررہے ہیں،جو دھاندلی کی بات کرتے تھے  اب وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف ہیں،میں چاہتا ہوں ایسے الیکشن ہوں کہ اس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے،دھاندلی کے الزامات سے بچنے کے لیے اقدمات کررہے ہیں، آج موسمیاتی تبدیلی سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی معاشرے میں سرایت کرچکی،معاشرے میں جنسی جرائم میں اضافہ ہوتا جارہا ہے،موجودہ دور میں نوجوان نسل بہت دباؤ کا شکار ہے،اسلامی فلاحی ریاست بنناپاکستان کیلئےناگزیرہے، ایک اسلامی سکالرنےکہامغرب میں مسلمان تونہیں لیکن اسلام نظرآیا,برطانیہ گیا تو وہاں دیکھا کہ ان کی اخلاقیات ہم سے بہت اوپر ہیں اور برطانیہ میں جو جھوٹ بولنے پر پکڑا جائے تو اسے استعفیٰ دینا پڑتا ہے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -