پنجاب کے دیہی عوام کی بغاوتیں

پنجاب کے دیہی عوام کی بغاوتیں
پنجاب کے دیہی عوام کی بغاوتیں

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:70 

 شہروں اور قصبوں کے عوام کے علاوہ دیہاتی لوگوں نے بھی 1857ءکی جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لیا”پنجاب کی بغاوت کی رپورٹ“ میں جن باغی برادریوں اور قبیلوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے پیش پیش رانگھڑ، گجر، ڈھنڈ، فتیانے، وٹو اور کھرل تھے ان سب نے پنجاب سے انگریزوں کا وجود ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہ سب قبائل دیہاتوں کے باسی تھے۔

 پنجاب کے دیہاتیوں نے اس قدر طوفان برپا کیا کہ انگریزوں کے لیے دہلی تک رسد اور فوجی کمک بھیجنا مشکل ہوگیا اب اس کام کے لیے بہت وقت لگنے لگا کارل مارکس نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا۔”انگریزوں کو رسد اور باربرداری کے لیے جانور حاصل کرنے میں جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ انگریزوں کی افواج کے ایک جگہ اکٹھا ہونے کی راہ میں بنیادی رکاوٹ کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دیہات کے لوگ انگریزوں کے بارے اچھی رائے نہیں رکھتے۔“

 1857ءمیں جنگ آزادی کے شروع ہوتے ہی پنجاب میں انگریزوں کے خلاف آگ بھڑک اٹھی۔ بظاہر اس کی وجہ مذہبی نظر آتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جاگیرداری سماج میں سیاست کا اظہار بھی مذہبی روپ ہی کیا جاتا ہے۔ چین میں انیسویں صدی کی انگریز مخالف عوامی جنگ”آسمانی بادشاہت“ کے نام سے لڑی گئی تھی، سوڈان میں غیر ملکی لٹیروں کے خلاف جنگ میں قیادت کرنے والے نے ”مہدی“ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ دلی کا شہنشاہ مسلمان تھا اور اس کے غیر ملکی دشمن عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے تھے اس لیے پنجاب کے دیہاتی مسلمانوں میں دلی کے بادشاہ سے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوئے۔ رابرٹ منٹگمری لکھتا ہے۔ ”سیدوں نے جو مسلمانوں کے مذہبی پیشوا ہیں لوگوں سے کہا کہ اگر وہ اپنی عاقبت سنوارنا چاہتے ہیں تو کافروں کے خلاف جہاد شروع کر دیں۔ بہرحال ہم ان سے اچھی طرح نمٹنے میں کامیاب ہوئے اور ہمیں امید ہے کہ انہوں نے اس تجربے سے اچھا سبق سیکھا ہوگا۔“

 فریڈرک کوپر کا بھی کہنا تھا کہ پنجاب کے مسلمان1857ءکی جنگ آزادی میں مذہب کی وجہ سے شامل ہوئے تھے۔ وہ کہتا ہے:”اگر ہم(پنجاب میں) سارے مشتبہ لوگوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے تو مسلمانوں کی تعداد انگریزوں کے لیے درد سر بن جاتی۔“

تاہم1857ءکی جنگ آزادی میں پنجابی مسلمانوں نے ہی حصہ نہیں لیا بلکہ سکھوں اور ہندوﺅں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ غدار مسلمانوں میں بھی موجود تھے اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں میں بھی۔ یہ جنگ ان علاقوں میں بھی لڑی گئی جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی(گوگیرہ، سیدوالہ، چیچہ وطنی، سیالکوٹ اور مری) اور ان علاقوں میں بھی جہاں ہندو اور سکھ آبادی اکثریت میں تھی(جالندہر، لدھیانہ، ہریانہ، فیروز پور، تھانیسر)۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -