پاکستان زندہ باد

پاکستان زندہ باد
پاکستان زندہ باد

  



 وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ذرا جھکے اور میری طرف دیکھ کر سرگوشی کی کہ میاں جو بھی کرلو پاکستان نہیں بچے گا۔ اب صرف تین سال باقی ہیں اور اوبامہ کی میز پر پاکستا ن توڑنے کے منصوبے اور نقشے بھی زیر بحث آ چکے ہیں۔ جس انداز میں یہ بات کی گئی اور جس شخصیت نے یہ بات کی اس سے مجھے بہت دھچکا لگا۔ یہ ایک اہم پارٹی کے ایک اہم رکن ہیں جن کی حب الوطنی پر نہ میں کل شک کر سکتا تھا اور نہ آج۔ مزید یہ کہ وہ بہت ہی سنجیدگی سے یہ بات کر رہے تھے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ ہی دیر پہلے میں ان کے ساتھ ایک ٹی وی شو ریکارڈ کرکہ فارغ ہو ا تھا جس میں ہم نے مل کر ان لوگوں پردل کھول کر تبریٰ بھیجا تھاجو کہ وطن عزیز کے متعلق مایوسی پھیلاتے ہیں۔ یہ بھی بتا دوں کہ یہ باتیں کوئی نئی بھی نہیں۔ عہدجوانی میں یہ باتیں سننا شروع کیں اور اب جب کہ آتش بوڑھا ہو رہا ہے تو کان ہی پک گئے ہیںسن سن کر۔ مگر ذرا سوچئے کہ ایک ذمہ دار پارٹی کا ایک ذمہ دار سیاستدان یہ کہے تو آپ پر کیا گزرے گی۔ مجھے رنج تو بہت ہو ااور میں نے خفیف نوعیت کا احتجاج بھی کیا مگربوجوہ آداب مہمانداری میں یہ بات پینے پر مجبورتھا۔ اوراب بھی ان صاحب کا نام نہ بتاﺅںگا۔ مگر ضروری ہے کہ ان کی اس بات کا تجزیہ بغور کیا جائے۔ یہ نہ ہو کہ ہم شیر آیا شیر آیا کے نعروں میں کوئی حقیقی خطرہ بھی فراموش کر بیٹھیں۔  پاکستان کے مستقبل کے متعلق یوں تو ہر وقت ہی چہ مگوئیوں کا بازار گرم رہتا ہے اور مغربی میڈیا میں چھپتی خبروں سے تو یوں لگتا ہے کہ یہ ملک آج گیا کہ کل۔اب ظاہر ہے ان باتوں میں زیادہ تر تو پراپیگنڈہ ہی ہوتا ہے۔مگر جب ملک پہلے ہی دو لخت ہو چکا ہو اور ملک کے پچاس فیصد سے بھی زیادہ رقبے میں شورش جاری ہو تو سوال تو ہر ذہن میں اٹھتا ہی ہے نہ۔پھر کبھی ہمیں رالف پیٹرز کا بنایا ہوا نقشہ نظر آتا ہے جس میں میرے ملک کے ٹکڑے دکھائے گئے ہیں توکبھی روہرا باکر کی بلوچستان سے متعلق کانگریشنل میٹنگ سنائی دیتی ہے۔ان حالات میں انسان کیا کرے۔ آج تک اس ملک کی بدنصیبی یہ رہی ہے کہ اس نے جس کو نوازا وہی اس کے متعلق مایوسی اور انتشار پھیلانے میں مصروف ہے۔ ورنہ میرے جیسے پھٹے حال لوگ جنہیں ہر روز اپنی قابلیت نئے سرے سے منوانی پڑتی ہے ، کفران نعمت کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ نہ بیرون ملک کوئی اثاثے ہیں جو دل میں وطن سے بیزاری پیدا کریں نہ ہی ایسا کوئی سامان پیدا کرنے کی طمع۔ تو جب بھی کسی سے ایسی کوئی تاویل سنی تو پھراسی فکر میں کھو گیا کیسے ایسی باتوں کا توڑ تلاش کروں۔ایک بات تو خیر طے ہے۔ موجودہ ملکی حالات اور مشرقی پاکستان کے سقوط میں کوئی اہم قدرمشترک نہیں۔ یہ درست ہے کہ احساس محرومی آج یہاں اسی شدت سے موجود ہے مگرآج کا پاکستان ایک جغرافیائی اکائی ہے۔ایسے متصل حصے اتنے آرام سے علٰحدہ نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس مشرقی پاکستان کی تو بات ہی اور تھی۔ اس زمانے میں میں ملک کے دونوں حصوں میں بہت فاصلہ تھا اوردرمیان میں بھارت حائل۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے پاس روٹھوں کو منانے کے لئے خاطر خواہ وقت موجود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جانی نقصان کو کم کرنے کے لئے جتنی جلدی کی جائے کم ہے۔ اور سقوط ڈھاکہ کے اسباب کے مطالعہ سے فائدہ اٹھانا بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔  مغربی میڈیا میں بھی یہ معاملہ کل پندرہ سال ہی پرانا ہے۔اس سے پہلے مجھے کوئی زیادہ مستند جریدہ یاد نہیں جس میں یہ باتیں چھپتی ہوں۔کارگل کے دنوں میں امریکہ بہادر جو پہلے ہی ایٹمی دھماکے کرنے پر ہم سے ناراض تھابھارت کو دل دے بیٹھا۔ انہی دنوں ایسی رپورٹیں آنے لگیں جن میں پاکستان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہرکیا گیا تھا۔پھر گیارا ستمبر ہوا اور ہماری اہمیت پھر بڑھ گئی۔ بدقسمتی سے پرویز مشرف کی حکومت نے بہتر ہوتے تعلقات کو صرف اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے استعمال کیا۔ جہاں ایک طرف ملک حاصل ہوسکنے والے بے شمار فوائد سے ہاتھ دھو بیٹھا وہیں مشرف اپنے رفقاءاور سپورٹروں کے ذریعے جاتے جاتے دونوں طرف غلط فہمیاں بھی پیدا کر گئے۔ نتیجہ یہ کہ امریکہ کو پاکستان ٹوٹتا ہوا اور ہم پاکستانیوں کو امریکہ اپنا دشمن نظر آتے ہیں۔ ان ابہام کو موثرسفارتکاری سے با آسانی ختم کیا جاسکتا ہے۔پھر دیکھئے کہ اگر آج ہمیں کسی چیز سے در حقیقت کوئی خطرہ ہے تو وہ ہے ہماری تعلیم کی کمی اورکمزور ہوتی معیشت۔ کہتے ہیں کہ کمزور کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔ یہی حالت ہماری ہے۔اب دوست جو کم ہیں تو ہم سمجھنے لگے ہیں کہ ملک کو کوئی نقصان ہونے چلا ہے۔ ہر گز نہیں۔ اصل خطرہ یہ نہیں کہ ملک کو کوئی نقصان نہ ہو بلکہ یہ کہ حالات ایسے ہی نہ چلتے رہیں۔ تعلیم و ترقی کی طرف توجہ دیجیے اور پروپیگنڈہ سے منہ موڑ لیجیے تو ایک دن یہی اوبامہ یا اس کے بعد آنے والے امریکی صدورہماری ترقی سے اتنے متاثرہونگے کہ وہ بھی بے ساختہ پکار اٹھیں گے، پاکستان ز ندہ باد ۔

مزید : بلاگ