جارج بش اور ٹونی بلیئر پر مقدمہ

جارج بش اور ٹونی بلیئر پر مقدمہ
جارج بش اور ٹونی بلیئر پر مقدمہ

  

امریکہ اور برطانیہ کے بارے میں ہم بے حد جذباتی ہیں۔ جب آنکھ کھولی اپنے اِردگرد، آس پاس، دُور نزدیک برطانیہ کو پایا، ہر وہ چیز جس پر ”میڈ اِن برطانیہ“ لکھا تھا، معیار بنی، یہاں تک کہ کھانے لگانے کے لئے ”مکھن“ بھی برطانیہ کا ہی پولسن استعمال ہوتا تھا۔ جب آغاز سفر ہوا تو سب سے پہلے لندن پہنچے۔ سفر نامہ لکھنے کا آغاز ہوا تو ابتدا ”لندن لندن“ سے ہوئی۔برطانیہ وہ ملک ہے، جس کے ہم نے تین سفر نامے لکھے ہیں۔ جب پاکستان سے ہجرت کی تو امریکہ آ بسے۔ یہاں کھاتے پیتے، گھومتے پھرتے، کسی نے فیض احمد فیض سے پوچھا: ”آپ پاکستان میں رہتے ہیں۔ ہندوستان سے کیا رشتہ ہے؟“ وہ بولے: ”ہندوستان میری محبوبہ ہے اور پاکستان منکوحہ“۔کوئی ہم سے پوچھے نہ پوچھے، خود ہی بتا دیتے ہیں پاکستان ہماری منکوحہ اور امریکہ محبوبہ ہے، ہم کسی صورت میں رقیب برداشت نہیں کرتے، اس لئے امریکہ کے بارے میں کچھ غلط نہیںسن سکتے اور برطانیہ ہماری نوجوانی کا عشق ہے،کوئی اسے تنقید کا نشانہ بنائے، یہ گوارا نہیں۔ امریکہ برطانیہ کے رہنما جو کچھ کریںصحیح، جو کہیں درست، ہماری حمایت انہیں حاصل ہے۔ ان کے بارے میں جب کوئی تبصرہ یا تنقید کرتا ہے، ہمیں اچھا نہیں لگتا۔ اس کی وجہ ”نمک“ نہیں، بلکہ وہ وفا ہے جو ہماری فطرت میں شامل ہے۔

برطانیہ کے نوبل انعام یافتہ آرچ بشپ نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور امریکہ کے سابق صدر جارج بش پر عراق جنگ میں اُن کے کردار پر بین الاقوامی کریمنل کورٹ ہیگ میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ دونوںرہنماﺅں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا تھا اور عراق پر حملہ کیا تھا، جس کی وجہ سے دُنیا تاریخ کے کسی بھی دوسرے تنازع کے مقابلے میں زیادہ غیر مستحکم اور تقسیم کا شکار ہو گئی۔

آرچ بشپ نے اخبار ”آبزرور“ میں لکھا ہے کہ ”صدام حسین“ کو ہٹانے کے لئے امریکہ اور برطانیہ کی قیادت میں کی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں شام میں خانہ جنگی کی راہ ہموار ہوئی، جس سے مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہوا ہے اور ایران کی شمولیت بھی صاف نظر آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”عراق جنگ کے دوران اور اس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد اُن کے خلاف مقدمے کے لئے کافی جواز ہے۔ جس طرح بعض افریقی اور ایشیائی رہنماﺅں کے خلاف مقدمات چلائے جاتے رہے ہیں، اسی طرح ان دونوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے“۔آرچ بشپ ایک سمجھدار انسان ہیںاور ان سے منسوب یہ بیان کسی بھی امن پسند انسان کو اچھا نہیں لگے گا۔ امریکی صدر جارج بش کا یہ ایسا بڑا کارنامہ ہے کہ تاریخ کیا، اُنہیں تو جغرافیہ بھی یاد کرے گا، دونوں کو متاثر کیا ہے۔ عراق کے لوگ امریکی صدر کے کتنے ممنون ہیں یہ تو وہی جانیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ پہلے بڑے بش اور اس کے بعد چھوٹے بش نے وہ کام کر دکھایا کہ صدام جیسا شخص عراق سے صاف ہو گیا۔

جارج بش نے اپنی قائدانہ صلاحیتوںسے عراق میںجمہوریت قائم کر دی۔ایک ایسی جمہوریت، جس میں جو چاہے، جسے اُڑا دے۔ لوگ جو عرصے سے اپنے دلوں میں نفرت چھپائے ہوئے تھے، اس کا اظہار کر دیا اور اب ایک نیا عراق پیدا ہو چکا ہے۔ جہاں تک لوگوں کے مارے جانے کا تعلق ہے،تو جنگ کے علاوہ امن کے زمانے میں بھی لوگ مارے جاتے ہیں۔ سیلاب، طوفان، زلزلے،حادثے کتنے لوگوں کو ختم کر دیتے ہیں۔ عراق میں مارے جانے والے لوگوں کا ایک مقصد تھا.... جمہوریت.... ملک میں اُن کی حکومت اور یہ جارج بش کی وجہ سے ممکن ہوا۔ برطانیہ کے ٹونی بلیئر تو جارج بش کے دائیں بازو تھے،جنہوں نے اس ”نیک کام“ میں ان کا ساتھ دیا۔ بھلا اس میں ان کا کیا قصور؟ ایک وقت تھا کہ بہت سے لوگ انہیںجارج بش کا پالتو کہتے تھے، سچ ہے.... د وستی، محبت ،وفا کا کوئی نام رکھ لو، وہ اپنی جگہ اٹل رہتی ہے۔ جارج بش اور ٹونی بلیئر پر کسی عدالت میں کوئی مقدمہ قائم نہیں ہو سکتا، کیونکہ دُنیا میں کتنے ہی ایسے رہنما ہیں، جنہوں نے دُنیا کو اس لئے ہلا کر رکھ دیا کہ یہ ضروری تھا۔     ٭

مزید :

کالم -