حُکمران شیروانی اور جناح کیپ پہنیں

حُکمران شیروانی اور جناح کیپ پہنیں
حُکمران شیروانی اور جناح کیپ پہنیں

  

صدر پاکستان آصف علی زرداری سندھی ٹوپی پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔یہ ٹوپی سرزمین سندھ اور بلوچستان کے کچھ حصوں میں ”ستر“ کا ایک ہردلعزیز پہناوا تصور ہوتا ہے۔پاکستان کے دیگر کچھ علاقوں میں یہ ٹوپی کہیں کہیں لوگ پہنتے ہیں۔چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بھی کبھی کبھار یہ ٹوپی پہنتے ہیں۔سندھ ہمارے دل کا ایک ٹکڑا ہے۔مذہب اسلام سرزمین سندھ سے ہوتا ہوا ہندوستان بنگلہ دیش اور وسط ایشیائی ملکوں تک پھیلا تھا۔اسی سرزمین میں ہمارے قائداعظم محمد علی جناحؒ پیدا ہوئے اور اسی زمین کے شہر کراچی میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔اس لحاظ سے ہمارے لئے سندھ کا ذرہ ذرہ ایک مخصوص متبرکمقام رکھتا ہے۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ جیسے رہنما دنیامیں کبھی کبھار پیدا ہوا کرتے ہیں۔انہوں نے پاکستان بنانے کا ناممکن کام ممکن کر دکھایا تھا۔اگر وہ کچھ اور سال زندہ رہتے تو وہ پاکستان کو دنیا کی ایک عظیم طاقت ور قوم بنا لیتے۔یہ سرسید احمد خان تھے، جنہوں نے برصغیر کے گہری نیند سوئے ہوئے مسلمانوں کو جگایا تھا۔وہ مسلمانوں کو انگریزی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم سیکھنے کا لگاتار درس دیا کرتے تھے۔یہ سرسید احمد خان، علامہ اقبال اور حضرت قائداعظم محمد علی جناح تھے،جن کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان بنا تھا۔ پاکستان کے بنانے کا کام دراصل مسلمانوں کی صدیوں کی سوچ کی وجہ سے معرض وجود میں آیا تھا۔ مسلمان ہندوﺅں کی معاشی غلامی میں پس چکے تھے، اُن کے معاشی خون کا آخری قطرہ تک” نان مسلم“ نے چوس رکھا تھا۔ وہ تو چلتے پھرتے ہڈیوں کے ڈھانچے بن چکے تھے۔وہ وقت ہرگز دور نہ تھا جب ”نان مسلم“ اُن کی ہڈیوں کو چبا لیتے۔

گویا مسلمانوں کا وہی حال ہونا تھا جو سپین کے مسلمانوں کے ساتھ عیسائیوں نے کیا تھا۔وہاں سے مسلمانوں کو چُن چُن کر ختم کردیا گیا تھا۔ اُن کی عظیم الشان صدیوں پرانی عبادت گاہوں کو گرجا گھروں میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ تاریخ تو ہمیں یہی بتاتی ہے کہ آخرکار برصغیر کے مسلمانوں کا بھی سپین کے مسلمانوں جیسا حشر ہونا باقی تھا۔خدا کی قدرت کا کمال ہے کہ ایسے خطرناک ترین حالات میں سر سید احمد خاں پیدا ہوئے جو مسلمانوں کو جہالت کی اَتھاہ گہرائیوں سے نکال کر موجودہ دو رمیں لے آئے تھے۔علامہ اقبال نے مسلمانوں کو الگ وطن کی سوچ کا سبق سکھایا۔قائداعظمؒ کی بے مثال انقلابی قیادت میں”نان مسلم“ کو بھی پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنا پڑا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح ،خان لیاقت علی خان اور دیگر تحریک پاکستان کے رہنما”ٹوپی اور شیروانی“ پہنا کرتے تھے۔اِسی ٹوپی کو ” جناح کیپ“ کا قومی نام دیا گیا ہے۔ محترم آصف علی زرداری آج اُسی کرسی پر بیٹھے ہیں، جس پر کبھی قائداعظم بیٹھا کرتے تھے۔آج بھی صدر آصف علی زرداری کی میز پر قائداعظم کی ٹوپی والی تصویر نظر آتی ہے ۔

آصف علی زرداری کو چاہیے کہ وہ بانی پاکستان کی راہ پر چلتے اور وہی لباس پہنتے جو قائداعظم پہنا کرتے تھے،سندھی ٹوپی خود مجھے بھی پسند ہے ،کیونکہ یہ ٹوپی ہمارے سندھ کے پیارے بھائی پہنتے ہیں۔ ہمارے لئے قومی سطح پر قائداعظم کا معروف لباس انتہائی اہم ہے۔ہر پاکستانی کو یہی قائداعظم والا لباس ہی زیب تن کرنا ہوگا۔وزیراعظم راجہ پرویز اشرف مغربی لباس کو پسند کرتے ہیں۔فی الحال تو مجھے اُن کے دائیں ہاتھ کی انگوٹھی پر اعتراض ہے۔دایاں ہاتھ ملانے سے ملاقات کا آغاز ہوتا ہے۔ مَیں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ دوسرے شخص کو وزیراعظم پاکستان کے ساتھ انگوٹھی والے ہاتھ ملانے پر خاصی تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہوگی۔یہ انگوٹھی دوسروں کو سوئی کی طرح چبھتی ہے۔وزیراعظم یہ انگوٹھی دائیں ہاتھ سے اُتار کر بائیں ہاتھ پر پہن لیں۔میرا خیال ہے کہ وزیراعظم نے یہ انگوٹھی کسی پیر فقیر کے کہنے پرپہن رکھی ہے۔ اگر ایسا ہے تو وہ اِس دقیانوسی خیال سے باہر نکل آئیں۔وہ”سوٹ بوٹ اور ٹائی“ کو بھی بہت پسند کرتے ہیں۔و ہ اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں۔”جناح کیپ اورشیروانی“زیب تن کریں۔اِس سے اُن کی شخصیت واقعی پاکستانی بن جائے گی۔

 راجہ پرویز اشرف کی زندگی کے متعلق ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔یہ بات بہت ہی پُرانی ہے۔اُس وقت راجہ پرویز اشرف پرواز کے لئے اپنے پروں کو پھڑ پھڑ ا رہے تھے۔مَیں راولپنڈی کی طرف جارہا تھا۔گوجر خان میں گاڑی میں پٹرول دلوانے کی خاطر رُکنا پڑا۔پٹرول پمپ پر راجہ پرویز اشرف کا ایک کارکن لوگوں سے اِس طرح مخاطب ہورہا تھا کہ”میں خود راجہ پرویز اشرف ہوں“۔ وہ جلد ہی میری گاڑی کی طرف لپکا۔کھڑکی کے اندر ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہنے لگا کہ” میں راجہ پرویز اشرف ہوں“.... گویا وہ کارکن گوجر خان کے علاوہ دیگر شہریوں کو بھی راجہ پرویزاشرف کے نام سے متعارف کروا رہا تھا۔اِس طرح کی محنت اور کام کرنے کا نتیجہ ہی تو تھاکہ راجہ پرویز اشرف مشکلات کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔آج وہ پاکستان کے وزیراعظم کی گدی پر بیٹھ چکے ہےں۔اُن کے متعلق کئی ایک قصے کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔اُن کے کردار پر بھی شک وشبہ کیا جاتا ہے۔”شک“ شک ہی ہوا کرتا ہے۔

 بہرحال جو کچھ بھی ہے وہ اپنی جگہ موجود ہے اور وہ اپنی جگہ موجود رہے گا۔میرے نزدیک اُن کے لئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک ”نیٹ اینڈ کلین “ سیاست دان ثابت کریں۔ دیانت وامانت کا شاندار مظاہرہ کریں۔ خدا نخواستہ واقعی اگر اُن کی شیروانی پر بدنما داغ لگے ہوئے ہیں تو وہ خود بخود مٹ جائیں گے۔اتفاق سے اُن کو جو بھی عزت واحترام کا مقام ملاہے، وہ تاریخ میں صفائی سے شامل ہوگا۔محترم آصف علی زرداری کے متعلق بھی اِس طرح کے خیالات سننے کو ملتے ہیں۔اُن کے لئے بھی میرا یہی مشورہ ہوگا۔دونوں اپنے آپ کو دیانت اور امانت کا مجسمہ ثابت کریں۔وہ ایسے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیں کہ پاکستان دیکھتے ہی دیکھتے ایشیا کا اکنامک ٹائیگر بن جائے۔پاکستان کے کونے کونے تک موٹر ویز کا جال بچھا دیں۔جگہ جگہ کارخانے اور ٹیکسٹائل ملیں لگائیں۔ بے روزگاری کا خاتمہ کردیں۔ غرباءکو زندگی کی تمام سہولتوں سے آراستہ کردیں۔دن رات کام کرتے چلے جاﺅ۔ایک ایک کرکے لوگوںکے مسائل کو حل کرو۔ لوگ خوشحال ہوں گے تو پاکستان بھی عظیم تر بن جائے گا۔ پاکستان کو صحیح معنوں میں قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان بنا ڈالو۔ سابق وزیراعظم پاکستان محمد خان جونیجو مجھے ہر وقت یاد رہتے ہیں۔وہ ایک عظیم تر پاکستانی تھے۔وہ قائداعظم کی راہ پر چلتے تھے۔وہ حددرجہ کفایت شعار تھے۔”پاکستانیت“کا جذبہ اُن میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ایک شام میں نے خود اُن کو وزیراعظم ہاﺅس کی فالتو بتیوں کو بندکرتے ہوئے دیکھا تھا۔میری دلی دُعا ہے کہ آپ دونوں ”محمد خان جونیجو “ بن جائیں۔(آمین)     ٭

مزید :

کالم -