پاک بھارت مذاکرات

پاک بھارت مذاکرات
پاک بھارت مذاکرات

  

پاک بھارت تعلقات بار بار راستے کے اس بھاری پتھر تک آکر ٹھہر جاتے ہیں۔ جسے 65 سال میں ہٹایا جا سکا، نہ توڑا جا سکا۔ راستے کی مجبوری کچھ ایسی رہی کہ بدلا نہ جا سکا۔ دوست بدلے جا سکتے ہیں،ہمسائے نہیں۔ بداعتمادی اور ماضی کے معاملات و حادثات کی مجبوری بھی کچھ ایسی رہی کہ اس بھاری پتھر نے پاک بھارت تعلقات کے راستے محدود ہی رکھے۔ ماضی کی بیشتر کوششیں پاش ہوگئیں، مگر یہ پتھر پاش پاش نہ ہوسکا۔ رواں سال میں حکومت اس راستے کو ایک بار پھر کھولنے پر کمربستہ ہے۔ بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اسلام آباد پہنچ کر دورہ کر چکے، ایک معاہدے پر دستخط بھی ہو گئے، دیکھئے اب اِس بار بھی نتیجہ وہی نکلتا ہے یا کچھ اور....؟

چند ہفتے قبل بھارت کی جانب سے پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھارت میں سرمایہ کاری کی اجازت دے دی گئی۔ اِس سے قبل دونوں ملکوں کے مابین بینکوں کی نئی برانچیں کھولنے کی اجازت پر بھی اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ گزشتہ سال حنا ربانی کھر کا بھارتی دورہ، بھارتی پریس میں اُن کے مہنگے پرس اور پاکستانی حکومت کی تعلقات کی بحالی کے لئے بے تابی پر خوب زیر بحث رہا۔ برسوں سے زیر التوا بھارت کو تجارتی مقاصد کے لئے ”پسندیدہ ترین ملک“ قرار نہ دینے کا اصولی مو¿قف پل بھر میں بدلنے کا فیصلہ ہوگیا۔ ادھر حنا ربانی کھر نے اس کا اعلان کیا، مخالفت کا طوفان ابھی اُٹھ ہی رہا تھا کہ وفاقی کابینہ نے اس ”کارخیر“ کی اجازت دے دی۔ مخالفت زیادہ بڑھی تو تسلی دلا دی گئی کہ اس فیصلے پر عمل درآمد فوری نہیں ہوگا۔ چند مزید گرہیں کھل جائیں، کچھ مزید وعدے وعید ہو جائیں تو اس کے نفاذ کی نوبت آئے گی۔ اب رات گزرنے کے بعد کسے یاد رہتا ہے کہ کتنی گرہیں باقی ہیں اور کمزور لمحوں میں کئے گئے کل وعدوں کی کتنی کلیاں ابھی تازہ ہیں۔

پاک بھارت تعلقات کی ناہموار تاریخ میں بے اعتمادی، بدمزگی، حادثات اور بدمعاملگی کا خاصا سُلگتا ہوا مواد ہے۔ دونوں ممالک میں ایک خاصا مو¿ثر حلقہ سیاست، اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا میں ہمیشہ نمایاں رہا ہے، جس کی بقاءدونوں ملکوں کے مابین دشمنی کی بقاءسے وابستہ ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے احباب کی کمی نہیں، جن کی حتمی رائے یہ ہے کہ طاقت اِن تعلقات کی اُلجھنیں سُلجھا سکتی ہے۔ اس رائے میں حکومتی آشیر باد بھی گاہے بگاہے شریک کار رہی۔ بھارت میں پاکستان دشمنی کچھ مخصوص گروہوں اور سیاسی جماعتوں کے لئے ”ایمان“ کا درجہ رکھتی ہے۔ بھارت میں سفر کے دوران ہمیں میڈیا پر پاکستان کے بارے میں منفی خبروں کے حوالے سے لذت پسندی کے کریہہ مناظر کئی بار دیکھنے کو ملے۔ جن پر غصہ کم، اُن کی عقل پر ماتم زیادہ کرنے کو جی چاہا۔ کچھ یہی عالم اخبارات کا ہے۔ بیشتر انگریزی، علاقائی اور مقامی زبان کے اخبارات میں پاکستان کے لئے دو تین صفحات ”وقف“ ہوتے ہیں۔ میڈیا کے اس مستقل جنون نے یقیناً عوام کے ذہنوں اور سیاسی جماعتوں کے مو¿قف کو منفی انداز میں متاثر کیا ہے۔ اس قدر شدید مخاصمانہ میڈیا اور سیاسی مخالفت میں پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے بیشتر پروگرام ماضی میں ادھورے رہ گئے۔ رہی سہی کسر ممبئی اور بھارتی پارلیمینٹ پر حملے جیسے واقعات نے پوری کر دی۔

تاریخ کا جبر کہیے یا تاریخ کا سبق، ماضی سے سیکھا جاسکتا ہے، ماضی میں زندہ رہنا مشکل ہے۔ یورپ کی ہزار سالہ خاک و خون کی تاریخ اور دو عالمی جنگوں سے اُن کے عوام نے یہی سیکھا کہ برداشت اور مل جل کر زندہ رہنے کا راستہ نکالنے کے علاوہ دیگر تمام راستے امن و سکون کی جانب نہیں جاتے۔ ویت نام نے امریکہ کے ہاتھوں تباہی اور آگ کی صعوبت جھیلی۔ ایک ملک اور نسل جنگ کی بھینٹ چڑھ گئی۔ دوسری اور تیسری نسل بھی ان زخموں سے چور ہے، لیکن تاریخ کے جبر کو جھیل کر ویت نام اور امریکہ میں تعلقات بحال ہو چکے۔ آج سے ایک دہائی قبل باہمی تجارتی معاہدے نے غربت کا بھاری ملبہ راستے سے ہٹانے کا عمل شروع کر دیا۔ تائیوان اور چین کے مابین سفارتی جنگ کے باوجود تجارتی اور عوامی سطح پر تعلقات معمول پر آچکے ہیں۔ اسی طرح بہت سے دیگر ممالک کے درمیان ”جنگ اوردشمنی“ ایک ”حل“ کے طور پر موجود نہیں ہے، بلکہ امن اور بقائے باہمی کے دیگر راستوں کی کھوج اور آزمائش زیادہ قابل قبول متبادل پایا جا رہا ہے۔ پاکستان، بھارت دُنیا کے اِس تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

 تاریخ کے تضادات اور متضاد توقعات کے مابین اعتماد اور بقائے باہمی کا پل بنانا آسان نہیں، لیکن مستقل مسائل کا پرتو جس انداز میں دونوں ممالک کی معیشت، سیاست اور معاشرت کو متاثر کر رہا ہے، اِس کے پیش نظر گزشتہ سال اور حالیہ اقدامات کے ذریعے پاک بھارت تعلقات کے راستے کا بھاری پتھر ایک بار ،پھرہٹانے کی کوشش ایک مناسب اقدام ہے۔ ویزا میں نرمی، تجارت میں سہولت اور سرمایہ کاری میں فروغ جیسے اقدامات اعتماد سازی میں معاون ضرور ہوں گے، لیکن تا دیر امن اور دیرپا تعلقات کے لئے جلد یا بدیر بنیادی مسائل کے حل کی طرف جانا ہوگا۔ ایک قابلِ عمل منصوبے کے تحت اعتماد سازی کے ان ابتدائی اقدامات کی کامیابی سے بنیادی مسائل کی طرف قدم بڑھانے میں یقیناً مدد ملے گی۔ پاکستان دھیرے دھیرے پانی کی شدید قلت کی طرف بڑھ رہا ہے اور دونوں ملکوں کے مابین پانی کے مسئلے پر پیش رفت تسلی بخش نہیں ہے۔ ممبئی اور پارلیمینٹ حملے کے تانے بانے ابھی تک بکھرے ہوئے اور تعلقات کو اُلجھائے ہوئے ہیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزم ابھی تک کیفر کردار تک نہیں پہنچے۔

 پاکستان کے بیشتر حلقوں کو یقین ہے کہ بلوچستان میں اپنی غلطیوں کے ساتھ ساتھ بھارت کی ایجنسیوں کا پوشیدہ ہاتھ بھی کار فرما ہے۔ یہی ہاتھ کراچی میں بھی محسوس کرنے کے شواہد بتائے جاتے ہیں۔ افغانستان میں بھارتی اثر و نفوذ کا محور پاکستان ہی نظر آتا ہے۔ اعتماد سازی کی دیرپا فضا کے لئے مرحلہ وار ان تلخ حقائق کو زیر بحث لائے بغیر تاریخ کا سامنا کرنا دونوں ملکوں کے لئے مشکل ہوگا۔بین الملکی بے اعتمادی اور غیر دوستانہ فضا کے باوجود واہگہ بارڈر پر سال ہا سال سے دونوں ممالک کے درمیان فروٹ، سبزی، اجناس اور دیگر اشیاءکی تجارت پھل پھول رہی ہے۔ براہ راست تجارت سے کئی گنا زیادہ تجارت دبئی کے ذریعے ہو رہی ہے۔ بند گلی میں پھنسے ہوئے سفارتی مسائل کے باوجود یہ تجارت ہو رہی ہے اور بڑھ رہی ہے۔ بھارتی میڈیا کا اثر و نفوذ اور دیکھنے والے پاکستان کے ہر محلے میں ہیں۔ تضادات کے اس مجموعے میں ایس ایم کرشنا اور حنا ربانی کھر اس بھاری پتھر کا کیا حل نکالتے ہیں؟ اِس کے لئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔     ٭

مزید :

کالم -