سخت سزا سے پہلے غربت جیسے معروضی حالات سامنے رکھے جائیں : سپریم کورٹ

سخت سزا سے پہلے غربت جیسے معروضی حالات سامنے رکھے جائیں : سپریم کورٹ
سخت سزا سے پہلے غربت جیسے معروضی حالات سامنے رکھے جائیں : سپریم کورٹ

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ قتل سمیت سنگین جرائم میں بھی سب سے بڑی سزا عمر قید ہے تاہم مخصوص حالات میں موت کی سزا بھی سنائی جاسکتی ہے لیکن اس کی ٹھوس وجوہات کا الگ سے ذکر کرنا لازم ہے جبکہ فیصلوں اور سز اکے تعین سے قبل معروضی حالات کو ضرور مدِ نظر رکھنا چاہئے ۔ یہ رولنگ مسٹر جسٹس مکھو پاڈیا اور مسٹر جسٹس کریان جوزف نے تہرے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا کو عمر قید میں بدلتے ہوئے دی ہے ۔ملزم نے غربت اور معاشی حالات سے تنگ آکر بیوی اور دو بیٹے قتلر کردیے تھے اور خود بھی مرنے کی کوشش کی تھی جس پر عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی تھی جو سپریم کورٹ نے اب عمر قید میں تبدیل کردی ہے ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ قتل سمیت سنگین جرم میں عمر قید کی سز اصولی ہے تاہم بعض حالات میں سزائے موت بھی سنائی جاسکتی ہے مگر عدالت کو فیصلے کرتے ہوئے سخت سزا سنانے سے پہلے وقت معاشی ، نفسیاتی ، سماجی حالات ،غربت، مجبوری اور جرم کے معروضی حالات بھی پیشِ نظر رکھنا چاہئیں ۔عدالت نے قراردیا ہے کہ قتل مین اصولی طور پر عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے لیکن بعض ناگزیر خصوصی حالات میں موت کی سزا بھی دی جاسکتی ہے تاہم اس کی وجوہات بھی لکھنا لازم ہیں ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس کیس میں ملزم نے غربت سے تنگ آکر پورے خاندان کا صفایا کرنا چاہا ، بیوی اور دو بیٹے قتل کرنے کے بعد اپنی جان لینے کی بھی کوشش کی لیکن وہ بچ گیا مگر ماتحت عدالت نے اسے موت کی سزا سناتے ہوئے ان حالات اور حقائق کو نظر انداز کردیاتھاجبکہ ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ ملزم معاشی و نفسیاتی مجبوریوں اور مسائل کا شکار تھا ممکنہ حد تک اس نے مسائل پر قابو پانے کی کوشش کی ہوگی ، وہ اس سے پہلے ریکارڈ یافتہ یا عادی مجرم نہیں تھا اور اس واقعے کے بعد بھی وہ معاشرے کیلئے خطرہ نہیں ہے ۔ اس لئے اس کی موت کی سزا عمر قید مین تبدیل کی جاتی ہے ۔

مزید : بین الاقوامی