افغانستان میں شراکت اقتدار کا معاہدہ ناکام

افغانستان میں شراکت اقتدار کا معاہدہ ناکام

 کا بل(آن لائن)افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے دوبارہ ووٹنگ کے نتائج کو مسترد کر دیا۔افغان دارالحکومت کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ الیکشن دھاندلی کے ذریعے آنے والے نتائج کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا حریف امیدوار اشرف غنی سے ان کے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہو گئے ہیں اور اب دوبارہ گنتی کے بعد سامنے آنے والے نتائج بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ امریکی کوششوں کے باوجود تنازع حل نہیں ہو سکا۔ سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ کی طرف سے دیے گئے اس تازہ بیان سے ایک مرتبہ پھر ایسے خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ افغانستان میں شراکت اقتدار کا معاہدہ ناکام ہو سکتا ہے۔عبداللہ عبداللہ کے اس تازہ بیان پر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ واشنگٹن حکومت توقع کرتی ہے کہ دونوں افغان صدارتی امیدوار شراکت اقتدار کی ڈیل کا احترام کریں گے۔

 ان کا کہنا تھا، ”ڈاکٹر عبداللہ نے بارہا کہا ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کریں گے۔“ تاہم ابتدائی نتائج کے مطابق اشرف غنی سے کافی پیچھے عبداللہ عبداللہ نے ووٹوں کے آڈٹ سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ ملک کا آزاد الیکشن کمیشن دھاندلی کے پتہ چلانے میں دلچسپی نہیں رکھتا کیونکہ وہ خود اس فراڈ کا حصہ ہے۔ تاہم جین ساکی کے بقول اقوام متحدہ کے مبصرین کی نگرانی میں ووٹوں کے آڈٹ کا عمل جاری رہے گا اور واشنگٹن صدارتی امیدواروں کے مابین اختلافات کو دور کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ افغان صدارتی انتخابات کے آڈٹ کا عمل آئندہ ہفتے تک مکمل کر لیا جائے گا لیکن اب اس تازہ پیشرفت سے افغان سیاسی بحران ایک مرتبہ پھر شدید ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

مزید : عالمی منظر