واسا اور دھرنے والوں کو شاباش

واسا اور دھرنے والوں کو شاباش
 واسا اور دھرنے والوں کو شاباش

  



سنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور شہر میں بارش سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران واسا کے اہلکاروں کو بہترین کارکردگی پر شاباش دی ہے اورانعام کا اعلان بھی کیا ہے۔واسا اہلکار وزیراعلیٰ کے اس رویے پر خوش بھی ہیں اور پریشان بھی کہ ہم نے کون سا تیر مارا ہے جس پر خادم اعلیٰ ہمیں تھپکیاں دے رہے ہیں ۔اچھی بات ہے کہ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ ہی نہیں ہونی چاہئے۔کبھی کبھی کچھ خامیوں اور کمزوروں کے باوجود بھی اہلکاروں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔

یہ بات تو سب کے علم میں ہے کہ صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں میں بارش سے شدید تباہی ہوئی ہے ۔برسات بھی کھیت کھیت اور آنگن آنگن برسی ہے اور رم جھم کے قطروں نے خوف کی کیفیت پیدا کر دی ہے ۔پانی کی تیز دھار بوندوں نے سینکڑوں افراد کی جان لے لی۔ شور شرابے کی مسلسل برسات نے کچے مکانوں کے مکینوں سے چھت کا آسرا بھی چھین لیا ہے۔شہر کے نشیبی علاقوں میں ہر طرف پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے اور لوگ پانی کے سامنے بے بس نظر آ ئے۔سیلابی پانی سے دریاؤں کی موجیں بپھر گئیں اور دریا کنارے آباد کئی بستیاں سیلاب میں بہہ گئیں ۔وسطی پنجاب کے کھیتوں میں باسمتی چاول کی خوشبو بکھرنے سے پہلے ہی فصلیں تباہ و برباد ہو گئیں ۔ چھوٹے کاشتکاروں کی کل متاع مال مویشی پانی کی موجوں میں بہہ گئے اور لوگ آسمان سے گرنے والی باران رحمت کو زحمت بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔دیکھا جائے تو شدید بارشیں اور سیلاب ہمارے ہاں اب معمول کی بات ہے ،مگر افسوس یہ ہے کہ ہم نے اس خطرے سے نمٹنے کی لئے تیاریاں نہیں کیں۔بارشیں ہوتی ہیں،سیلاب آتے ہیں،امدادی کیمپ لگتے ہیں، سیلاب متاثرین کے نام پر پیسہ اکٹھا ہوتا ہے،مگر پتہ نہیں کہاں چلاجاتا ہے اور پھر اگلے سال سیلاب کی تباہ کاریاں ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتی ہیں ۔

بدقسمتی یہ ہے کہ لاہور شہر سمیت صوبہ پنجاب کے بڑے شہروں میں ایسے میگا پراجیکٹ تو شروع کئے جاتے ہیں، جن میں گلیمر ہوتا ہے اور جن کی شان و شوکت دور دور تک نظر آتی ہے، لیکن ان شہروں میں سیوریج جیسے اہم مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی جاتی ۔شاید اس لئے کہ زمین کے نیچے مکمل ہونے والے منصوبے حکمرانوں کی کامیابیو ں کا واضح اعلان نہ کر سکیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایسے منصوبوں کی تکمیل سے شہریوں کو صحیح معنوں میں فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔آج جن علاقوں میں برسات کے پانی نے زندگی اجیرن کر دی اور معمولات روک دیئے، اس کی بنیادی وجہ سیوریج سسٹم کی ناکامی ہے ۔ہمارے شہروں میں ویسے تو واپڈا والوں کی بڑی مہربانیاں ہیں، لیکن شہر میں بجلی کی ننگی تاریں اور بجلی کابوسیدہ سسٹم بھی برسات کے دنوں میں انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا ہے اور ہر سال ایسا ہوتا ہے، لیکن افسروں کو ایسا سوچنے کی کبھی زحمت نہیں ہوئی ۔

کچھ ایسی ہی صورت حال دیہی علاقوں میں بھی ہے ۔دریاؤں میں سیلابی پانی ہر سال اپنے کنارے پر آباد مکینوں کی جان و مال کے لئے خطرہ بن جاتا ہے ۔دریاؤں کے پشتوں پر پڑنے والے چھوٹے چھوٹے شگاف علاقے میں کتنی تباہی پھیلاتے ہیں، اس کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں جنہوں نے سیلابی پانی کے تھپیڑے محسوس کئے ہوں۔ شہروں کی طرح ان علاقوں میں بھی سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لئے خاطر خواہ حکمت عملی اختیار نہیں کی جاتی ۔جب حالات بہتر ہوتے ہیں، پشتوں کو مضبوط نہیں کیا جاتا ۔دریاؤں کے کنارے آباد دیہات کی حفاظت کے حوالے سے منصوبہ بندی نہیں کی جاتی ،یوں سیلابی پانی جان و مال کو بہا لے جاتا ہے ۔ بارشوں اور سیلاب متاثرین کے لئے مدد ضرور مانگیں ،لیکن خدارا ! متعلقہ حکام کوشش کریں کہ ان خطرات سے محفوظ رہنے کے لئے مناسب منصوبہ بندی کی جائے اور ایسے منصوبوں پر بھی خطیر رقم خرچ کی جائے جو منصوبے ظاہری طور پر نظر نہیں آتے، لیکن ان کی بے پناہ افادیت ہے ۔کچی آبادیوں کی حفاظت کے لئے سروے کئے جائیں اوروہاں کے لوگوں کی ما لی سرپرستی کرکے پکے مکان بنانے میں مدد کی جائے ۔

ویسے حالیہ بارش نے جہاں شہروں اور دیہی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے، وہاں اسلام آباد میں موجود دھرنے والوں پر بھی باران رحمت کھل کر برسی ،شاباش تو دھرنے والوں کو بھی ملنی چاہئے، جنہوں نے شدید بارشوں کی پرواہ تک نہیں کی اور پانی کے چھینٹوں کے سامنے مضبوط دیوار ثابت ہوئے ۔ بادلوں کو ہمارا مشورہ ہے کہ وہ اب دھرنے والوں پر برسنا چھوڑ دیں، کیونکہ اگر عمران خان اور طاہرالقادری صاحبان کو غصہ آ گیا تو وہ بارش کے فرشتوں سے بھی استعفے کا مطالبہ کر دیں گے ۔

مزید : کالم