دھرنے اور دھاندلی....؟

دھرنے اور دھاندلی....؟
دھرنے اور دھاندلی....؟

  


طاہر القادری اور عمران خاں شاہراہِ دستور خالی کر کے واپس ڈی چوک پہنچ گئے ہیں جہاں دھرنے جاری ہیں۔ دونوں حضرات نے الگ الگ وجوہات کو اپنے لانگ مارچ اور دھرنوں کی بنیاد بنا رکھاہے۔ طاہرالقادری کا دھرنا انقلاب کے لئے ہے جبکہ عمران خاں مئی 2013کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کو جواز بناتے ہوئے ”نیا پاکستان“ بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ عمران خان نے الیکشن کے بعد چار حلقوں میں دھاندلی کا واویلا شروع کیا تھاجن میں این اے 110 خواجہ آصف، این اے 125سعد رفیق ، 122سردار ایاز صادق اور لودھراں کا جہانگیر ترین والا حلقہ شامل ہے، ان سب کا معاملہ الیکشن ٹربیونل میں چل رہا ہے۔ خواجہ آصف کے حلقے سے پی ٹی آئی کے اُمیدوار عثمان ڈار ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے ٹربیونل میں پیش نہ ہوسکے، جبکہ این اے 122 کے لئے بنائے گئے ٹربیونل میں پی ٹی آئی کے چیئرمین کو 12نوٹس جاری ہونے کے باوجود کوئی جواب نہیں آیا۔ این اے 125 کا معاملہ بھی الیکشن کمیشن میں زیرسماعت ہے۔قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں پی ٹی آئی نے 767 اُمیدوار کھڑے کئے تھے جبکہ اس کی طرف سے الیکشن ٹربیونلز میںقومی اسمبلی کے حوالے سے صرف 30اورصوبائی اسمبلیوں کی 28 شکایات کی گئیں۔

عمران خاں جس الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دے رہے ہیں وہ پاکستان کی تاریخ کا شفاف ترین الیکشن تھا۔ گیلپ کے تازہ ترین سروے کے مطابق 63% افراد الیکشن کو شفاف قرار دیتے ہیں ۔پاکستان میں پہلی مرتبہ حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے نگران حکومتیں بنیں، آزاد الیکشن کمیشن بنا اور اس کے سربراہ اور ارکان پر سب نے اعتماد کیا، پہلی مرتبہ کمپیوٹرائزڈ ووٹرز لسٹیں بنیں۔ اس سب کچھ کے بعد دھاندلی کا الزام؟

خود پی ٹی آئی کی اپنی رپورٹ میں اس کی شکست کی کچھ وجوہات بیان کی گئی ہیں جن میں ”انٹراپارٹی الیکشن“ کو عام انتخابات میں شکست کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے جس سے پارٹی تقسیم ہوئی، اس کے علاوہ ٹکٹوں کی تقسیم میں میرٹ کو نظر انداز کرنا بھی شکست کا اہم سبب بنا۔ پارٹی ورکرز کو نظر انداز کرنا اور الیکشن کی مناسب تیاری نہ ہونا بھی انتخابی شکست کا بنیادی سبب قرار پایا۔ الیکشن کے بعد خود عمران خان نے اعتراف کیا کہ ہمارے پاس مناسب پولنگ ایجنٹ نہیں تھے تو کیا آپ کو ایجنٹ بھی دوسری پارٹیوں نے دینے تھے؟ ویسے ایک فارمولا ہے دھاندلی ثابت کرنے کا کہ پولنگ ایجنٹس کو فراہم کردہ نتائج اگر ریٹرننگ افسروں کے جاری کردہ نتیجے سے مختلف ہوں تو دھاندلی ثابت کرنا مشکل نہیںہوگا۔

چار حلقوں کے بعد سارا الیکشن خان صاحب نے دھاندلی زدہ قرار دے دیااور ہاں یاد آیا، 35 پنکچروں والی بات بھی دُہرائی جاتی رہی اُسکا بھی ایک سرسری جائزہ لے لیتے ہیں کہ اِن 35حلقوں میں سے 12حلقے پنجاب، 5 کے پی کے، 5 سندھ، 7بلوچستان اور 3فاٹا کے ہیں، ان میں سے نون لیگ 12نشستوں پر کامیاب ہوئی تو کیا باقی 23 حلقوں میں کسی اور کے لئے ”پنکچرز“ لگائے گئے؟

عمران خان نے اپنے دھرنے میں عوام سے سول نافرمانی کرنے کو کہا کہ اب کوئی شخص بجلی اور گیس کے بل اور ٹیکس نہیں دے گا۔ گیلپ کی سروے رپورٹ کے مطابق 81فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ وہ بل اور ٹیکس دیں گے۔ جہانگیر ترین نے مختلف ٹیکسوں کی مد میں ایک کروڑ روپے سے زائد ادا کیا۔ ایف بی آر کے مطابق اگست میں ریکوری معمول سے ایک ارب روپے زیادہ رہی۔

طویل دھرنوں اور تقریروں کے باوجود بھی دونوں حضرات نواز شریف حکومت کے خلاف عوامی حمایت حاصل نہیں کرسکے ۔ عوام نے دونوں لیڈروں کی ہر کال کو بری طرح مسترد کردیا۔ اب عوامی پذیرائی کا عالم یہ ہے کہ خان صاحب اپنے کارکنوں اور عہدیداروں سے کہہ رہے ہیں کہ بندے لاو¿۔۔۔ میڈیا کی ایکسٹرا کوریج کے باوجود دونوں دھرنے عوامی حمایت کے حصول میں بری طرح ناکام ہیں۔ عمران خان نے 2013 کے عام انتخابات میں 76لاکھ ووٹ حاصل کئے مگر وہ 76ہزار کیا، 76سو لوگ بھی جمع نہ کرسکے۔

انہی دھرنوں کے باعث چین کے صدر کا دورہ¿ پاکستان بھی ملتوی ہوگیا جس میں 34ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہونا تھی۔ پہلے تو عمران خان حکومت کو جھوٹا کہتے رہے کہ چین کے صدر کا دورہ شیڈول نہیں تھا لیکن خود چینی وزارتِ خارجہ کے وضاحتی بیان کے بعد دھرنے کے شرکاءسے کہا کہ چین نے 34ارب روپے سرمایہ کاری نہیں، قرضہ دینا تھا۔ کیا نئے پاکستان میں ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جائے گا؟ پچھلے ہفتے سے سیلاب نے پنجاب اور آزاد کشمیر میں تباہی مچائی ہوئی ہے اور حکومت بروقت اقدامات کررہی ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ۔ خادمِ اعلیٰ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے طوفانی دورے کر رہے ہیں، جبکہ وزیراعظم صاحب نے بھی پنجاب اور آزاد کشمیر کا دورہ کیا۔ اللہ پاک پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھے اور دھرنے والوں کو بھی توفیق دے کہ اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کے لئے دھرنے ختم کر کے، ان کی خدمت کے لئے آگے بڑھیں۔

مزید : کالم