نیا عمرانی معاہدہ یا قادیانی معاہدہ؟

نیا عمرانی معاہدہ یا قادیانی معاہدہ؟
نیا عمرانی معاہدہ یا قادیانی معاہدہ؟

  


آزادی اور انقلاب کے دھرنوں کے پس پردہ کون ہے۔یہ سوال روز اول سے پوچھا جا رہا ہے، لیکن اب بھی تشنہ ءجواب ہے۔ان دھرنوں سے کون کون اپنا اُلو سیدھا کر رہا ہے۔ یہ بھی ایک الگ موضوع ہے، اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو اس پر بھی کچھ عرض کروں گا۔فی الحال تو مَیں جناب چودھری خادم حسین کے تجزیئے کی داد دیتا ہوں کہ اگر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب مستعفی بھی ہوجائیں تو عمران خان اور قادری کے دھرنے ختم نہیں ہوں گے۔انقلاب اور آزادی کے دھرنے یوں تو روز اپنے مطالبات بدل لیتے ہیں اور ہر روز نئے مطالبات کا اضافہ ہوتا رہتا ہے، لیکن ماحصل کے طور پر صرف ایک ہی بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ یہ پارلیمنٹ بھی غلط ہے۔ یہ آئین بھی غلط ہے۔ قادری صاحب تو واضح طور پر فرماتے ہیں کہ انہوں نے سارا نظام از سر نومرتب فرمانا ہے۔عمران خان ٹیکنو کریٹس یا غیر سیاسی حکومت کے پردے میں ایسی ایک حکومت کے متمنی ہیں جو سب کچھ از سر نو مرتب کرے۔ دونوں حضرات نے بھی غالباً اور ان کے دائیں بائیں والوں نے بھی ایک نئے معاہدہ عمرانی کی تجویز پیش کی ہے۔کچھ تجزیہ نگاروں اور دانشوروں نے بھی ہر چیز کو فرسودہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ اب ایک نیا معاہدہ عمرانی طے پائے۔

عوام کا لانعام تو شاید یہ سمجھتے ہوں کہ عمران خان کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ شاید معاہدئہ عمرانی کہلائے گا، ایسے معاہدے کے نتیجے میں عمران کے سر پر وزارت عظمیٰ کا تاج سجا دیا جائے گا اور پھر ہر طرف دولت اور انصاف کی برسات شروع ہو جائے گی۔معاہدہ عمرانی انگریزی کے "Social Contract" کا ترجمہ ہے اور یہ معاشرے کے وجود میں آنے اور ریاست کے جواز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔اس کی جڑیں تاریخ میں روم اور یونان کے معاشروں میں بھی تلاش کی جاتی ہیں اور انجیل کے قوانین کو بھی اس کا سرچشمہ قرار دیا جاتا ہے۔جدید مفکرین میں ٹامس ہابز، جان لاک وغیرہ نے اس کا پرچار کیا۔ ژاں ژیکولیس روسو نے اس پرپہلی کتاب لکھی۔لیکن یہ تمام تر تخیلاتی تانا بانا ہے جو مفروضات کے بل بوتے پر بُناگیا ہے۔ حقیقت میں عملی طور پر اگر ایسے کسی معاہدئہ عمرانی کا ثبوت ملتا ہے تو وہ ”میثاق مدینہ“ ہے ،جس کی بنیاد پر مدینے کے اسلامی معاشرے اور اسلامی ریاست کی بنیاد استوار ہوئی۔

گویا اس معاہدے کا وجود تب ظہور پذیر ہوا، جب اس سے پہلے کوئی ریاست کوئی معاشرہ یا کوئی منظم نظام موجود نہیں تھا۔ نئے معاہدئہ عمرانی کے طلب گار پاکستان کو ایک بار پھر سرزمین بے آئین بنانا چاہتے ہیں۔ عملاً خواہ اسے نئے معاہدئہ عمرانی کا نام دیا جائے یا نہ دیا جائے۔ قادری اور عمران خان کے مطالبات اسی منزل کی طرف لے جاتے ہیں۔اگر ان مطالبات کوپورا کرنے کے لئے آئین کی اکھاڑ پچھاڑ کی گئی تو پھر مطالبات از سر نو آئین مرتب کرنے تک چلے جائیں گے۔چودھری خادم حسین نے دراصل انہی خدشات کا اظہار کیا ہے۔جو لوگ بنچوں کے بل اُچھل اُچھل کر فوج کی راہ دیکھ رہے ہیں یا گلے کا پورا زور لگا کر فوج کو آوازیں دے رہیں، وہ بھی باندازِ دگریہی چاہتے ہیں۔فوج کی مداخلت بھی آئین کی منسوخی پر منتج ہوگی، کیونکہ اب کوئی اس آئین کو محض معطل کرکے یا سردخانے میں رکھ کر اس کی دوبارہ بحالی کا خطرہ مول نہیں لے گا، ورنہ اسے آئین کی شق چھ کا پھندا صاف نظر آ جائے گا۔

اگر وہ اپنی کسی نام نہاد پارلیمنٹ یا کسی دست آموز عدلیہ سے شق چھ کو ختم بھی کرا دے گا تو آئین کی بحالی کے بعد آنے والے اس شق کو پھر آئین کا حصہ بنا دیں گے، جیسے 2(58) بی بار بار نکالی گئی اور بحال ہوتی رہی۔ کوئی جسٹس افتخار محمد چودھری یہ بھی کہہ دے گا کہ گویا یہ شق آئین سے کبھی نکالی ہی نہیں گئی تھی۔ اس لئے ایسے کسی ڈکٹیٹر کے لئے اب ضروری ہوگا کہ وہ اس آئین کو ہمیشہ کے لئے ختم کرکے فوجی مداخلت کو آئینی حیثیت دینے والا ایک نیا نکور آئین تراشے۔ اگر کسی نے اس آئین کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی تو ایک تو یہ سفر اتنا طویل ہو جائے گا کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور اگر کبھی ممکن ہوگیا تو موجودہ آئین بحال نہیں ہوگا، بلکہ ایک اور نیا آئین مرتب کرنا پڑے گا۔ جیسے ایوب خان نے 1956ءکے آئین کو منسوخ کر دیا، اپنا آئین نافذ کیا، لیکن جب ایوب خان کے آئین کے خاتمے کا وقت آیا تو 1956ءکا آئین بحال نہیں ہوا۔

1973ءکا آئین لانا پڑا۔ اس سارے عمل میں ایک بے آئینی کا دور بھی ضرور ہوگا،جس میں کوئی وقتی آئینی حکم نامہ نافذ العمل ہوگا۔یحییٰ خان کے دور میں اسی بے آئینی کے سبب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی راہ ہموار ہوئی، اگر آئین موجود ہوتا تو آئین وفاق کے کسی یونٹ کو الگ ہونے کی اجازت ہر گز نہیں دیتا۔محمود خان اچکزئی کے چادر اوڑھنے کے انداز سے کسی کو خواہ کتنی تکلیف ہوئی ہو، لیکن ان کایہ کہنا کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ اگر آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی اور جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا تو وفاق کی سلامتی داﺅ پر لگ جائے گی اور پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔(خاکم بدہن) اب یہ بات تو واضح ہو گئی کہ دھرنے والوں کے غیر آئینی مطالبات کو تسلیم کرنا، نیا معاہدہ عمرانی یا فوجی مداخلت سے اصل مقصود پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور اس مقصد کے لئے اسے سرزمین بے آئین بنانا ہے۔اول تو یہ دونوں مقاصد ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ایک پورا ہوا تو دوسرا بھی پورا ہو کر رہے گا، لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ ملک ٹکڑے ہونے سے بچ جائے گا، صرف ”نیا معاہدئہ عمرانی“ طے کرنا ہوگا اور یہ نیا معاہدہ عمرانی ملک کو بچا لے گا تو اس کے نتائج بھی پاکستان کے بدخواہوں کے حسب منشا ہی ہوں گے۔

میرے نہایت ہی محترم اور شفیق برادر بزرگ جناب سعود ساحر ان دنوں روزنامہ ”امت“ کراچی میں ”تحریک ختم نبوت، آغاز سے کامیابی تک‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ وار رپور تاثر لکھ رہے ہیں۔جناب سعود ساحر کا صحافت میں نصف صدی کا حصہ ہے۔ دوچار برس کی بات نہیں وہ خود تاریخ بھی ہیں، تاریخ ساز بھی اور تاریخ کے چشم دید گواہ بھی۔ مَیں ان سے اکثر اپنی یادداشتیں فلم بند کرنے کی درخواست کرتا رہتا ہوں، لیکن وہ طرح دے جاتے ہیں۔ اگر آپ میرے استدلال سے متفق نہ بھی ہوں تو جناب سعود ساحر کایہ کالم ضرور پڑھیں، اس سے آپ پر معلومات کے بے شمار دریچے وا ہوں گے۔ جناب سعود ساحر نے اس تحریر میں روسی بلاک کا تذکرہ کیا ہے، جن کا مطالبہ تھا کہ ہمارے خلاف لکھیں اور جو چاہے لکھیں جو دو تین فقرے ہم بتائیں، وہ بھی لکھ دیا کریں اور ہم سے اس کا اجر بھی پائیں۔انہوں نے اس مثال کو قادیانیوں کے طریقہ ءواردات پر منطبق کیا ہے اور دیگر مثالوں کے علاوہ ایوب خان کے پیر صاحب، دیول شریف کے خضری یونیورسٹی بنانے کے منصوبے میں قادیانیوں کے گھس کر اسے ناکام بنانے کی مثال بھی دی ہے۔یہاں ایک بات اور بھی سمجھنے کی ہے کہ شیعہ سنی الگ الگ پہچانے جاتے ہیں، لیکن قادیانی دونوں میں گھس کر دونوں کو دھوکا دے سکتے ہیں۔بالخصوص جب وہ بطور مشن شیعہ یا سنیوں میں گھسیں تو انہیں پہچاننا ناممکن ہو جاتا ہے۔

قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کو آج تک تسلیم نہیں کیا۔وہ برملا کہتے ہیں کہ اس عمل کی وجہ سے پاکستان پر عذاب نازل ہوگا اور اب تک جتنی بلائیں پاکستان پر نازل ہوئی ہیں، وہ ان کی بددعا کا نتیجہ ہے اور آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔پاکستان بھی ان کی آنکھوں میں کھٹکتا ہوا خار ہے اور پاکستان کا آئین بھی ان کے سینے میں خنجر کی طرح ہے۔حیفہ اسرائیل میں ان کا جہاں مرکز ہے، اس ملک کے لئے بھی پاکستان کا وجود اور پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کلیجے کی پھانس ہے، اگر خدانخواستہ پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے تو قادیانیوں کو اپنی بددعاﺅں کی قبولیت کی سند مل جائے گی، ان پر سے غیر مسلم ہونے کا لیبل ختم ہو جائے گا۔دوسرے اگر ان کی کوششوں سے ایسا ہو جائے تو حیفہ اسرائیل میں ان کی قدرو منزلت اور بھی بڑھ جائے گی اور اگر پاکستان کا آئین ہی منسوخ ہو جائے اور ایک اور آئین آ جائے تو بھی ان کی غیر مسلم کی حیثیت ختم ہو جائے گی اور وہ دنیا بھر میں مسلمان بن کر اسلام کی بنیادوں میں قادیانیت کا بارود بچھاتے پھریں گے۔

اور آج کل ان دھرنوں کے ساتھ ساتھ یہ خیال پھیلایا جا رہا ہے کہ پاکستان کاآئین ناکام ہو گیا ہے۔پاکستان کی ریاست کی ناکامی کا ثبوت دھرنوں نے فراہم کردیا ہے۔سارے نظام کو بدلنے کے لئے انقلابی بے قرار ہیں۔مخصوص دانشور جمہوریت اور آئین کی ناکامی کا رونا رو کر نئے معاہدئہ عمرانی کا سُر چھیڑ رہے ہیں۔عوام کو خواب دکھائے جا رہے ہیں کہ نظام بدلتے ہی سارے دلدر دور ہو جائیں گے۔آسمانوں سے ہُن برسنے لگے گا، اسی کرپٹ بیورو کریسی سے انصاف کے دھارے رواں ہو جائیں گے۔گویا قوم یا قوم کے افراد کو بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔بس نیا معاہدئہ عمرانی طے پا جائے۔سارے نظام پر پانی پھیر کر انقلاب بپا کر دیا جائے تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا۔قادیانی، بھارت، اسرائیل اور جانے کس کس دشمن پاکستان سے تمغے پائیں گے۔یاد رہے کہ حیفہ کے بعد دوسرا گڑھ قادیانیوں کا لندن ہے اور اس سارے منصوبے کا تانا بانا لندن میں بُنا گیا ہے۔پیشہ ءصحافت میں کوئی ایسا نوجوان پاکستانی شیر ہے جو ڈاکٹر اعجاز حسین کی بیک گراﺅنڈ کا کھوج لگائے اور پاکستان کو تورنے اور سرزمینِ بے آئین بنانے کی سازش کا پردہ چاک کرے۔

مزید : کالم