اب تک سیلاب کیوجہ سے165اموات اور 303لوگ زخمی ہو چکے ہیں

اب تک سیلاب کیوجہ سے165اموات اور 303لوگ زخمی ہو چکے ہیں


لاہور(انویسٹی گیشن سیل) پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ ۔اب تک سیلاب کیوجہ سے165اموات اور 303لوگ زخمی ہو چکے ہیں ۔14سو گاؤں،4لاکھ کے قریب جانور ،2لاکھ ایکٹر رقبہ متاثر ہوا اورپانچ بڑی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں۔ چناب کے علاوہ باقی دریاؤں میں سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار پنجاب حکومت کے ترجمان زعیم قادری نے شجاع خانزادہ اوربلال یٰسین کے ہمراہ سول سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ ریلیف کی نگرانی وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف خود کر رہے ہیں اور حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے بھر پور کام کر رہی ہے۔چئیرمین فلڈ ریلیف کمیٹی شجاع خانزادہ نے کہا کہ ضرورت کیمطابق بند توڑنے کا فیصلہ جھنگ میں موقع پر موجود کمیٹی کرے گی تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔سیلاب کیوجہ سے تاحال 165اموات اور303بندے زخمی ہو چکے ہیں ۔نیوی کی دو بڑی کشتیوں اور18آپریٹرز سمیت 250کشتیاں کام کر رہی ہیں جبکہ ٹوٹل بارہ ہیلی کاپٹرزبھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔21اضلاع کیلئے 800ملین فنڈز جاری کئے گئے ہیں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 16لاکھ مکمل تباہ گھروں کو ایک لاکھ اور کچھ حصہ تباہ ہونیوالے گھروں والے افراد کو 50ہزار امداد دی جائے گی۔55ملین لوگوں کو آگاہی ایس ایم ایس جبکہ ہیلپ لائن1129بھی کام کر رہی ہے۔جھنگ میں 100تنبو ؤں کا کیمپ لگا دیا گیا ہے جہاں پر خوراک،ادویات ،ونڈا اور دیگر اہم اشیاء تقسیم کی جا رہی ہیں۔صوبائی وزیر خوراک بلال یٰسین نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے ہیلی کاپٹرز بھی امدادی کاروائیوں کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔1400گاؤں اور چار لاکھ گاؤں متاثر ہوئے ہیں ،22ہزار لوگوں کو ریسکیو کیا گیا اور سردیوں کی آمد کی پیش نظر10ہزار رضائیوں کا اہتمام بھی کیا جا چکا ہے۔زعیم قادری نے کہا کہ 486موبائل ٹیمیں کام کر رہی ہیں جبکہ13ہزار لوگوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔اب تک بخار کے480،گیسٹرو کے870،متعدد جلدی امراض کے825اور دیگر بیماریوں کے1500مریض جبکہ سانپوں کے کاٹنے کے 466کیسز سامنے آئے ہیں۔محکمہ لائیوسٹاک کیطر ف سے بتایا گیا کہ سیلاب کیوجہ سے4لاکھ جانور متاثر ہوئے ہیں۔جن کیلئے722کیمپ اور 89موبائل ڈسپنسریاں بنائی گئی ہیں ،50ہزار جانوروں کو ویکسین اور80ہزار کلو گرام ونڈا تقسیم کیا جا چکا ہے جبکہ تاحال 215جانور مر چکے ہیں۔

مزید : علاقائی