حکومتی امداد صرف بیانات تک محدود، متاثرین مسیحا کے منتظر

حکومتی امداد صرف بیانات تک محدود، متاثرین مسیحا کے منتظر


لاہور(محمد نواز سنگرا//انویسٹی گیشن سیل)حکومتی امدادبیانات سے نکل کرعوام تک نہ پہنچ سکی۔ سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سامان تاحال نہ پہنچ سکالوگ مایوسی کا شکار ہونے لگے ۔ خوراک کے کمی کے ساتھ ساتھ بیماریوں میں بھی اضافہ سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے مسیحا کے منتظرہیں۔حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے 8سو ملین روپے کے فنڈسے سیلاب متاثرین کی داد رسی نہ ہو سکی انسانوں کے علاوہ جانوروں کی خوراک مکمل نایا ب ہو گئی متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ۔ملک میں تاریخی سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی لیکن حکومت کی طرف سے امدادی کاروائیاں حکومتی نمائندوں اور سرکاری افسران سے عوام تک منتقل نہ ہو سکیں۔بیماریوں اور اموا ت میں اضافے کا خطرہ بڑھنے لگا اور محدود حکومتی امدادی کاروائیوں کے باعث عوام اپنی مدد آپ کے تحت سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹتے نظر آتے ہیں۔سیلاب کے پیش نظر حکومت کی امدادی کاروائیاں انتہائی محدود نظر آئیں حکومتی امدادبیانات سے باہر نہ نکل سکی سیالکوٹ،ناروال،وزیر آباد،بھالیہ،پنڈی بھٹیاں ،چنیوٹ اور جھنگ میں تاحال امدادی سامان نہ پنچ سکا لوگ خادم اعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بنانے لگے۔سیلاب کی بڑے پیمانے پر تباہ کاریوں کی صورت میں جہاں لاکھوں انسان اور جانور متاثر ہوئے وہاں داد رسی کیلئے لوگ مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں کہ کون ان کے تباہ شدہ گھروں کی تعمیر کیلئے ان کی مدد کرے گا اور کون ان کو ایک وقت کا کھانا دے گا جبکہ عوامی نمائندے اور حکمران بیانات سے باہر نہ نکل سکے۔سیلاب زدہ علاقوں میں خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے اور دو لاکھ زرعی رقبہ کے سیراب ہونے سے جانوروں کاچارہ مکمل طور پر نایاب ہو چکا ہے جس کیلئے حکومت 80ہزار کلوگرام ونڈے کا دعویٰ تو کرتی ہے لیکن یہ امداد عوام تک تاحال نہیں پہنچ سکی۔آشوب چشم،ڈینگی،گلے کی خرابی سمیت دیگر جلدی بیماریوں میں شدید اضافہ ہو رہا ہے لیکن حکومت کیطرف سے امدادی کاروائیاں شہروں سے تاحال دیہاتوں میں منتقل نہیں ہو سکیں ۔لوگوں کو سیلابی پانی سے نکالنے میں بھی حکومتی کاروائیاں انتہائی سست روی کا شکار رہیں اور غفلت کیوجہ سے ڈیڑھ سو سے زائد لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں۔سیلاب کی تباہ کاریوں کیوجہ سے دور دراز کے علاقوں میں لو گ خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مزید : علاقائی