استعفیٰ مانگنے والے آئینی ادارے کا مینڈیٹ چیلنج کر رہے ہیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تقریریں

استعفیٰ مانگنے والے آئینی ادارے کا مینڈیٹ چیلنج کر رہے ہیں پارلیمنٹ کے ...

اسلام آباد (آئی این پی) پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو پوری پارلیمان کا اعتماد حاصل ہے، استعفی مانگنے والے سپریم آئینی ادارے کے مینڈیٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، آزادی اور انقلاب مارچ والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آزادی 1947ء میں حاصل کر لی تھی جب کہ نظام کو بدلنے اور انقلاب لانے کا احتیار صرف پارلیمان کو حاصل ہے، انتخابی تحقیقات کرانا حکومت کے اختیار میں نہیں، آئین کے آرٹیکل 155 ے تحت الیکشن کمیشن اور انتخابی ٹربیونلز دھاندلی کی تحقیقات کرانے کے مجاز ہیں، سینیٹ کا پوسٹ آفس کا کردار ختم کر کے ایسے مالیاتی اختیارات سمیت بجٹ منظور کرنے کا اختیارات اسے مالیاتی اختیارات سمیت بجٹ منظور کرنے کے اختیارات بھی دیئے جائیں۔ منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پختونخواہ میٹ کے سینیٹر عبدالرؤف لالہ، بلوچستان نیشنل پارٹی کی سینیٹر کلثوم پروین اور فنکشنل لیگ کے سینیٹر مظفر حسین شاہ نے ملکی سیاسی صورتحال پر جاری بحث میں حصہ لیا۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر عبدالرؤف لالہ نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے ٹوٹ جنگلے مرمت کرنے کی بجائے انہیں اسی حالت میں رہنے دیا جائے اور وہاں تختی لگائی جائے جس پر تاریخ اور سن کے ساتھ درج کیا جائے کہ جمہوریت اور آئین کو نہ ماننے والوں نے پارلیمنٹ پر حملہ آور ہو کر انہیں توڑا تھا، وفاق میں دھرنا دینے کی بجائے تحریک انصاف کے پی کے میں کارکردگی دیکھائیں اور اس صوبے کو ماڈل کے طور پر پورے پاکستان میں متعارف کائیں تا کہ لوگ ان کی پارٹی کو ووٹ دیں، فنکشنل لیگ کے رکن سینیٹ مظفر حسین شاہ نے کہا کہ ان کی پارٹی وزیراعظم نواز شریف کی حمایت کرتی ہے کیونکہ وہ ایک منتخب وزیراعظم ہیں، پارلیمنٹ کو موجودہ سیاسی بحران کے خاتمے کے لئے کردار ادا کرنا چاہیے، ہم 1947ء میں آزاد ہو گئے تھے پھر کون سی آزادی مانگی جا رہی ہے اور انقلاب کا راستہ اس پارلیمنٹ سے گزرتا ہے، اگر کوئی انقلاب چاہتا ہے تو پھر اسے پارلیمنٹ کے اندر آ کر نظام بدلنا ہو گا، پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی بنائی جائے جو معاشی اور سماجی تبدیلیوں کے لئے آئینی ترامیم تجویز کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاست کو وفاقی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو سینیٹ کو بھی بجٹ منظور کرنے اور مالیاتی اختیارات دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے حکومت سے چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا لیکن یہ حکومت کے اختیارات سے باہر ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 155 کے تحت انتخابی شکایات کا ازالہ الیکشن کمیشن اور انتخابی ٹربیونلز کر سکتے ہیں، بلدیاتی انتخابات صرف اسی وجہ سے نہیں کرائے جا رے کہ تمام صوبائی حکومتیں اپنے اختیارات بلدیاتی اداروں کو منتقل نہیں کرناچاہتیں، نواز شریف مسائل کے حل کے لئے ملک کی قیادت کریں ساری پارلیمنٹ اور عوام آپ کے ساتھ ہوں گے، سینیٹ کا پوسٹ آفس کاکردار ختم کر کے اسے با اختیار ایوان بالا بنایا جائے۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ وزیر داخلہ نے جس درگزر کا مظاہرہ کیا اس سے ان کا سیاسی قد کاٹھ بڑھا ہے، اپوزیشن کا سیاسی جرگہ بات چیت کے ذریعے سیاسی بحران حل کرانے کی کوششیں کر رہا ہے، ہماری کوششوں سے ڈیڈ لاک ختم ہوا، جوڈیشل کمیشن کی تشکیل ایکٹ آف پارلیمنٹ یا آرڈیننس سے کرنے پر بات چیت جاری ہے، موجودہ حکومت کا تعلق گزشتہ انتخابات کے انعقاد سے نہ تھا پھر حکومت کو جواز پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے، گزشتہ انتخابات تو نگران حکومت نے کرائے تھے، وزیر اعظم کو گھر بھجوانے کی باتیں درست نہیں، اس سے غلط روایت قائم ہو جائے گی، جمہوریت ایک دھرنے کی مار نہیں ہے ،اگر کسی کو جمہوریت سے شکایت ہے تو ایوان کے اندر آ کر اظہار کرے، دھرنے صرف پنجاب کا مسئلہ نہیں بلکہ پارلیمنٹ کا مسئلہ ہیں، پارلیمنٹ کو اس کے حل کیلئے کوششیں کرنا ہوں گی۔ وزیراعظم پر برا وقت گزر گیا اب وہ ملک سے جہالت ،بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کیلئے ڈٹ جائیں

مزید : علاقائی