شہباز شریف کشتی کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ،سیلاب زدگان میں امدادی اشیاء اور کھانا تقسیم کیا

شہباز شریف کشتی کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ،سیلاب زدگان میں امدادی ...

لاہور(پ ر)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے 10گھنٹے تک جھنگ ،چنیوٹ،وزیرآباداور سرگودھا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ۔سیلاب کی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ۔وزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دوروں کے موقع پر اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے انتظامیہ کو ریسکیو و ریلیف آپریشن کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کیں۔انہوں نے سیلاب متاثرہ افراد سے ملاقاتیں بھی کیں۔وزیراعلیٰ نے جھنگ میں ہیڈ تریموں کا دورہ کیااوردریائے چناب میں پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا۔ہیڈ تریموں پر بریفنگ اجلا س کے دوران وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ سیلاب سے نمٹنے کیلئے تمام حفاظتی انتظامات بروقت مکمل رکھے جائیں اور لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ہیو ی مشینری اور متعلقہ عملہ موقع پر پہنچ گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف نے ہیڈ تریموں کے دورہ کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کو 1972ء کے بعد تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا ہے۔غیر معمولی سیلاب کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں ۔ ایک ایک زندگی عزیز ہے اوراسے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔عوام کے تحفظ کیلئے کوئی کسر اٹھانہ رکھیں گے۔وزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دوروں کے موقع پر سیاسی و انتظامی ٹیم کو ساتھ رہنے سے منع کر دیااور کہا کہ سیاسی و انتظامی ٹیم میرے ساتھ رہنے کے بجائے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے اورسیلاب کے پانیوں میں گھرے لوگوں کی مدد کرے۔انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی وزراء، عوامی نمائندے و انتظامی افسران سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے فرائض سرانجام دیں۔دوروں کے دوران میرے ساتھ رہنے کی کوئی ضرورت نہیں،آپ سب ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کیلئے فیلڈ میں موجود رہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی و انتظامی ٹیم کی کارکردگی کا تعین ان کی سیلاب زدہ علاقوں میں گھرے افراد کی زیادہ سے زیادہ خدمت پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کے انخلاء اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ متاثرین کی مدد کیلئے اقدامات بھی مکمل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بیلوں اور دریاؤں کے نزدیک رہنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔عوام منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے متاثر ہونے والے علاقے فوری خالی کردیں۔ ہیڈ تریموں سے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف چنیوٹ کے سیلاب متاثرہ علاقے بھوانہ پہنچے اور کشتی میں امدادی سامان اور کھانے پینے کی اشیاء لے کر بھوانہ کے سیلاب زدہ گاؤں ڈالی منگینی اور دیگر دیہاتوں میں گئے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ساتھ آنے والی حفاظتی کشی کو واپس بھجوا دیااور ہدایت کی کہ تمام کشتیوں کو صرف اور صرف لوگوں کے انخلاء اور امدادی اشیاء کی فراہمی کیلئے استعمال کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے متاثرہ دیہات میں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیااور متاثرین میں امدادی سامان اور کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کیں۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کشتی کے ذریعے سیلاب میں گھرے بھوانہ کے دور دراز دیہات بیروالا، راموں کے ٹھٹھہ، نوشہرہ، ابیاں اور ٹھٹھہ عصمت کا دورہ کیا۔سیلاب کی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔انہوں نے سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء اور کھانے پینے کا سامان تقسیم کیا۔انہوں نے سیلاب میں گھرے اوڑھ بستی کے افراد کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے امدادی اشیاء بھجوانے کی ہدایت کی۔شہبازشریف کی آمد پر اوڑھ بستی کے سینکڑوں افراد جمع ہو گئے اور شہبازشریف زندہ باد کے نعرے لگائے۔وزیراعلیٰ نے اوڑھ بستی میں سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بستی کی ایک ایک ضرورت پوری کریں گے اورمتاثرین کو اشیائے ضروریہ ترجیحی بنیادوں پر پہنچائیں گے۔وزیراعلیٰ نے بھوانہ میں سیلاب متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب کے پانیوں میں گھرے افراد کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے اوران کی مدد کیلئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اگر کہیں کوئی فرد پانی میں محصور رہ گیا تو اس ضلع کے ڈی سی او کی خیر نہیں ہوگی۔ لوگوں کے محفوظ انخلاء کے حوالے سے کوئی عذر قبول نہیں کروں گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ لوگوں کو خطرے والے علاقوں سے نکالنے کیلئے ہر مناسب طریقہ اختیار کیا جائے۔ شہباز شریف نے متاثرین سے اپیل کی کہ وہ خطرے والے علاقوں کو خالی کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور محفوظ انخلاء کے حوالے سے انتظامی افسران کی ہدایت پر عمل کیا جائے۔ بھوانہ سے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف وزیرآبادکے علاقے سکندر پور ہ میں جاں بحق ہونے والے کمسن بچے کے گھر گئے اور سوگوار خاندان سے تعزیت اورہمدردی کا اظہارکیا۔انہوں نے لواحقین کو مالی امدادی کاچیک بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ معصوم بچے کی ناگہانی موت پر میں بے حد غمگین اور افسردہ ہوں اور متاثرہ خاندان کے غم میں برابر کا شریک ہوں ۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ منہدم شدہ مکان کا معائنہ کر کے اس کی جلد از جلد مرمت کرائی جائے۔وزیراعلیٰ نے وزیر آباد کے محلہ سکندر پورہ میں لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارشوں اورسیلاب سے مکانات اورفصلوں کوپہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے گاجن لوگوں کے مکانات کو نقصان پہنچا ہے حکومت ان کی مرمت کروائے گی جبکہ فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بارشوں اورسیلاب سے ہونے والے قیمتی جانی و مالی نقصان پر دلی دکھ ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ نے وزیرآباد کے سیلاب متاثرہ علاقوں کو ٹ جعفر،کلاری،رتووالی،فرید کوٹ اوردیگر علاقوں کا دورہ کیا اورمتاثرین سے ملاقات کی۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف سرگودھا کے سیلاب زدہ علاقے کوٹ مومن گئے جہاں انہیں بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 3ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 1972ء کے بعد اتنا بڑا ریلہ کبھی نہیں آیا۔پوری تندہی ،اخلاص اورمحنت سے صورتحال کا مقابلہ کررہے ہیں ۔فوج سمیت تمام قومی اداروں کو شکر گزارہوں ۔یقین ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس امتحان میں کامیاب کرے گا۔قربانی، ایثار اورشبانہ روز محنت سے متاثرین کی خدمت میں کوئی کمی نہیں آنے دیں گے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی کوٹ مومن آمد پر متاثرین اورعوام کا غیر معمولی رش ہوگیا۔وزیراعلیٰ کی گاڑی کا ڈرائیور ہجوم میں پھنس گیا۔وزیراعلیٰ خود گاڑی چلا کر اگلی منزل پر پہنچے۔وزیراعلیٰ کو دیکھ کرپر جوش لوگوں نے زبردست نعرے لگائے ۔

مزید : صفحہ اول