نواز حکومت کے دور میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا برطانوی میڈیا

نواز حکومت کے دور میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا برطانوی میڈیا ...

                              لندن(اے این این) برطانوی اخبار”فنانشل ٹائمز “نے کہاہے کہ پاکستان میں نواز شریف حکومت کے دورمیں مالی توازن میں بہتری اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا، چین کے صدرکے دورے کی منسوخی پاکستان کےلئے ناخوشگوار موڑ ہے۔گزشتہ روزاخبارنے اپنی رپورٹ میں موڈیز کے حوالے سے لکھا کہ چینی صدر کے دورے کی منسوخی پاکستان کے لئے کریڈٹ منفی ہے۔ دورے کی منسوخی پاکستان کے لئے ایک اور ناخوشگوار موڑ ہے۔چینی صدر ژی جن پنگ نے تین ہفتوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کی وجہ سے اپنا سرکاری دورہ منسوخ کردیا۔ نواز شریف کے وزیر اعظم بننے سے مالی توازن میں بہتری اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوادنیا کی تین بڑی بین الاقوامی کریڈٹ ڑیٹنگ ایجنسیوں میں سے ایک موڈیزنے خبردار کیا ہے کہ چینی امداد اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں میں تاخیر پاکستان کے لئے کریڈٹ منفی ہے۔چین کے ساتھ پاکستان کے 34ارب ڈالر کے معاہدے ہونے والے تھے،حال ہی میں پاکستان کی معاشی نمو میں تیزی سے اضافہ ہوا۔جولائی میں سعودی عرب کی فنڈنگ،عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور کامیاب یورو نے مالیاتی اکاونٹ میں مدد کی جس کے بعد موڈیز نے پاکستان کے ریٹنگ کومنفی سے نکال کر مستحکم میں رکھا۔گزشتہ سال نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد مالی توازن اور اس کے غیر ملکی ذخائر کی سطح میں بہتری ہوئی۔مالیاتی خسارہ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور میں بہت زیادہ ہوگیا تھا۔نواز شریف کے ناقدین کہتے ہیں کہ ا ن کی اصلاحات کے نفاذ میں ناکامی اور ملک کی طاقتور فوج کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی نہ ہونےکی وجہ سے طاہر القادری اور عمران خان کے مظاہروں کی حوصلہ افزائی کی اسکے بعد بحران کو مزید بھڑکایا گیا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ بات چیت پراتفاق کیا گیا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اس بات چیت کے ذریعے حل نظر آنا قبل از وقت ہے۔چینی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر میںچین اور پاکستان کی حکومتوں کے باہمی اتفاق سے اس ماہ کے آخر میں شیڈول چینی صدر کے دورے کو ملتوی کیا گیا ۔ایک نوٹ میں، موڈیز نے خبردار کیا کہ پاکستان کے طویل سیاسی بے چینی نے اسٹرکچرل اصلاحات پر پیش رفت میں خدشات پیدا کردیئے ۔ایک کمزور حکومت ملکی چیلنجوں کی وجہ سے پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے میں زیادہ قابل نہیں ہوں گی۔حکومت کے اندر تبدیلی سے جاری پروگرام میں آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات میں خلل ہو سکتا ہے۔آئی ایم ایف کے پروگرام کی ادائیگیوں، منسلک کثیر جہتی فنڈنگ اور دو طرفہ حمایت سے پاکستان کی بیرونی لیکویڈیٹی پوزیشن کو برقرار رکھنا اہم عنصر ہے، سنگاپور سے موڈیز کے تجزیہ کارانوشکا شاہ کا کہنا ہے کہ درجہ بندی کا نیچے جانے سے جاری آئی ایم ایف پروگرام میں کمی اوربیرونی ادائیگیوں کی پوزیشن میں خرابی اور بگڑتاہوئی سیاسی ماحول ہو گا۔پاکستان مالیاتی اصلاحات کے حصول کےلئے درست سمت میں ہے موڈی نے ایک گراف بھی شائع کیا کہ کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کی وجہ سے مضبوط مالی کارکردگی اور بیرونی لیکویڈیٹی ایک دوسرے کے ساتھ نتھی ہیں

برطانوی میڈیا

مزید : صفحہ آخر