سیلاب سے ہزاروں ادارے متاثر 22 اضلاع میں تعلیمی سرگرمیاں جمود کا شکار

سیلاب سے ہزاروں ادارے متاثر 22 اضلاع میں تعلیمی سرگرمیاں جمود کا شکار

                 لاہور(ذکاءاللہ ملک) حالیہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث صوبہ بھر کے 22اضلاح میں ہزاروںتعلیمی ادارے بری طرح متاثر ہو گئے ،تعلیمی سال 2014 متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔سیلابی ریلوں نے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کی تمیز نہ رکھتے ہوئے سیلاب زرہ علاقوں میں تباہی مچا دی ہے ،دریاﺅں کے گردونواح میں واقع سرکاری سکولوں کوبڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حافظ آباد، وزیر آباد، جہلم،گورجرانوالہ،سیالکوٹ،پنڈی بھٹیاں،منڈی بہاﺅ الدین، ساہیوال، چنیوٹ، ہڑپہ، جھنگ، اوکاڑہ، مریدکے راجن پور،لیہ کے علاقوں میں واقع تعلیمی اداروں کو سیلاب نے بری طرح متاثر کیا ہے جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر جمود کا شکار ہو چکی ہیں۔ حکومت پنجاب کے زرائع نے بتایا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی تعمیر نو اور مرمت کے لئے بین الاقوامی فلاحی تنظیموں سمیت اقوام متحدہ کے اداروں سے تعاون کرنے کی اپیل پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ صوبہ پنجاب کے مختلف اضلاح میں تباہ ہونے والے سرکاری سکولوں میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا نے کے بعد بین الاقوامی این جی اوز سمیت اقوام متحدہ کے زیلی اداروں سے رجوع کیا جائے گا۔چار سال قبل آنے والے سیلاب کے باعث پنجاب سمیت پورے ملک میں 15ہزار سے زائد سکول مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے جنکی تعمیر نو کے لئے دنیا بھر کی فلاحی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا تھا ۔حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں صوبہ کے مختلف اضلاح میں 10ہزار سے زائد تعلیمی ادارے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

تعلیمی ادارے

مزید : صفحہ آخر