وزیرخزانہ کی دھرنوں سے مذاکرات پر پارلیمنٹ کو بریفنگ، مخصوص حلقوں کے نتائج پر پارلیمنٹ کو قتل نہیں کرسکتے : اسحاق ڈار

وزیرخزانہ کی دھرنوں سے مذاکرات پر پارلیمنٹ کو بریفنگ، مخصوص حلقوں کے نتائج ...
وزیرخزانہ کی دھرنوں سے مذاکرات پر پارلیمنٹ کو بریفنگ، مخصوص حلقوں کے نتائج پر پارلیمنٹ کو قتل نہیں کرسکتے : اسحاق ڈار

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیرخزانہ اور مذاکراتی کمیٹی کے رکن سینیٹراسحاق ڈار نے بتایاکہ دھرنے میں بیٹھی دونوں جماعتوں کے بیشترمطالبات مان لیے گئے ہیں اورواضح کیاکہ ایک مطالبہ نہیں ماناجاسکتا، پارلیمنٹ بھی مطالبہ مستردکرچکی ہے تاہم تحریک انصاف کی قیادت کوبتایاکہ 30حلقوں کی بنیاد پر پوری پارلیمنٹ کو قتل نہیں کیاجاسکتا، اگر دھاندلی یاسانحہ ماڈل ٹاﺅن میں کسی بھی حکومتی شخص کے ملوث ہونے کا ثبوت ملاتووہ خود ہی استعفے دے جائیں گے ۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق کی زیرصدارت ہونیوالے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بتایاکہ وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ مذاکرات میں اب تک کی پیش رفت پر پارلیمان کو اعتماد میں لیاجائے ۔اُنہوں نے بتایاکہ تحریک انصاف کے چھ مطالبات میں سے ساڑھے پانچ مطالبات مان لیے گئے ہیں اور اُن سے پیچھے ہٹنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ۔اُنہوں نے بتایاکہ تحریک انصاف نے تحریری طورپر 30اگست کو مطالبات پیش کیے جن میں سے ایک پرپارلیمنٹ کا موقف بھی آچکاہے اوراُنہوںنے واضح کیاکہ اس پر بات نہیں ہوسکی ، چند ہزارلوگ لاکر وزیراعظم کا استعفیٰ نہیں لیاجاسکتا۔ پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات پر چارستمبرکو پارلیمانی قیادت کی مشاورت سے جواب سپردکردیاگیااورواضح کیاکہ اگر اگرچھٹامطالبہ نہیں چھوڑسکتے تو باقی کا فائدہ ہی نہیں ، پی ٹی آئی نے بات دیگرمطالبات پرجاری رکھنے کا عندیہ دیا۔کچھ مطالبات دیگرجماعتوں اور حکومت کے بھی تھے جن میں قوانین کو تبدیل کرنا، ٹیکنالوجی لاناوغیرہ پر کوئی اعتراض نہیں جس پر کمیٹی نے کام شروع کردیاگیالیکن دھرنوں کی وجہ سے کام سست ہے۔ اُنہوں نے بتایاکہ جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے دس مطالبات میں سے آٹھ مان لیے ، پی ٹی آئی کا موقف تھاکہ ایسی قانون سازی کرلیں جس سے ایک ایوان کے بعد فوری طورپر دوسراایوان بھی منظوری دیدے جس پر بتایاگیاہے کہ ایسا آرڈیننس بھی ہوسکتاہے ۔

وزیرخزانہ کاکہناتھاکہ تحریک انصاف چاہتی ہے کہ 30مخصوص حلقوں کی بنیاد پر 272حلقوں کا فیصلہ کرلیں ، پوری دنیا میں سیمپلنگ کا ایساکوئی طریقہ نہیں ، چند نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے پارلیمنٹ کو قتل نہیں کیاجاسکتالیکن اس پر اتفاق کرلیا کہ چیف جسٹس ایک کمیٹی بنادیں ،اگر حکومتی عہدیداروں کی طرف سے کسی کی مداخلت یا دھاندلی ثابت ہوئی تو برسراقتداررہنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔پی ٹی آئی نے دوصفحوں پر مشتمل جواب میں لکھاکہ اس کا بیلٹ باکس ، اس کا فلاں دیکھیں گے ، وہ کوئی سیشن جج نہیں بلکہ عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان ہوں گے اورپارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ آخری مرتبہ پی ٹی آئی سے رابطہ کرتے ہیں اوراُنہیں کہتے ہیں کہ عدالت پر معاملہ چھوڑدیں ، حکومت کی نیت صاف ہے اور چیلنج کے طور پر مطالبات قبول کیے کہ نتائج کی تسلی کرلواور اگردھاندلی ثابت ہوجائے توہمارابرسراقتداررہنا مناسب نہیں بنتا۔

اُن کاکہناتھاکہ عوامی تحریک کے مطالبات میں ایف آئی آر، جے آئی ٹی ، جوڈیشل کمیشن ، اصلاحاتی کونسل اور وزیراعظم کااستعفیٰ شامل تھاجس پر پی اے ٹی کی قیادت کو بھی ایک مطالبے پر پارلیمان اور مسلم لیگ ن کے موقف سے آگاہ کردیااورواضح کیاکہ اگر کسی کی مداخلت ثابت ہوئی تو وہ خود ہی استعفیٰ دے دیں گے ۔ اُنہوں نے کہاکہ اگردونوں صدق دل سے بات کریں تومعاملات حل ہوسکتے ہیں جبکہ حکومت کھلے دل سے معاملات حل کرناچاہتی ہے کہ وہ دونوں پاکستانی قومی کی جان چھوڑیں ۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں