تحریک انصاف، حکومت مذاکرات، اندرونی کہانی سامنے آ گئی، ملاقاتوں میں عسکری نمائندوں کی موجودگی کا انکشاف

تحریک انصاف، حکومت مذاکرات، اندرونی کہانی سامنے آ گئی، ملاقاتوں میں عسکری ...
تحریک انصاف، حکومت مذاکرات، اندرونی کہانی سامنے آ گئی، ملاقاتوں میں عسکری نمائندوں کی موجودگی کا انکشاف

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے مندرجات منظر عام پر آ گئے ہیں جن کے تحت جوڈیشل کے قیام پر تو اتفاق ہو گیا ہے لیکن اس کے دائرہ اختیار پر تنازع برقرار ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان جوڈیشل کمیشن کو آرڈیننس کے ذریعے بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے لیکن دائرہ اختیار پر تنازع برقرار ہے جبکہ دھاندلی کی تعریف پر ابھی تک کوئی اتفاق نہ ہو سکا۔ چیئرمین نادرا، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور ڈی جی ایف آئی اے کو تبدیل کرنے پر بھی اتفاق کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ معاہدے پر دستخط کے بعد 7 روز کے اندر جوڈیشل کمیشن کا قیام ضروری ہو گا جو 45 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا اور اگر جوڈیشل کمیشن نے دھاندلی ثابت کر دی تو وزیراعظم اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے نواز شریف کی درخواست پر مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی حامی بھری تھی جس کے بعد تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان کنونشن سنٹر میں ہونے والی پہلی دو ملاقاتوں میں عسکری نمائندے بھی موجود تھے تاہم وزیراعظم نواز شریف کی قومی اسمبلی میں تقریر کے بعد فوج سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے عمل سے باہر ہو گئی۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءجہانگیر ترین نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلی دو ملاقاتوں کے دوران 4 ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کے بارے میں نہیں جانتے تھے اور جب حکومتی اراکین سے ان افراد کے بارے میں استفسار کیا گیا تو کوئی تسلی بخش جواب بھی نہ ملا جس پر ہم بھی خاموش ہو گئے۔

مزید : قومی /اہم خبریں