کہہ دو یہ جھوٹ ہے

کہہ دو یہ جھوٹ ہے
کہہ دو یہ جھوٹ ہے

  


پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان تو ویسے بہت کچھ کہہ جاتے ہیں لیکن منگل کی شام تو انہوں نے حد ہی کردی اور تمام قومی رہنماﺅں کو ٹیکس چو ر قرار دے دیا۔اپنے کنٹینر پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہابڑے بڑے لیڈر کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہیں لیکن ٹیکس بہت ہی کم دیتے ہیں.انہوں نے الزام لگایا کہ احسن اقبال 11000 روپے ، مولانا فضل الرحمن 13462روپے، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ 64000روپے،وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ 33000ہزار  اور وزیر اعظم کا بھانجہ عابد شیر علی 22000ہزار روپے ٹیکس دیتے ہیں۔مجھے یہ سن کر بہت حیرت ہوئی کہ اتنے بڑے لیڈر جو دن رات عوام کی خدمت میں مصروف ہیں اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اتنا کم ٹیکس دیں کیونکہ اتنا ٹیکس تو مجھ جیسے نوکری پیشہ افراد بھی دےدیتے ہیں۔مجھے عمران خان پر بھی بہت غصہ آیا کہ صرف الزامات ہی لگا رہے ہیں لیکن مجھے یقین تھا کہ جب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوگا تو یہ تمام رہنما عمران خان کے الزامات کا بھرپور جواب دیں گے اور اپنے ساتھ وہ تمام ٹیکس کاغذات بھی لے کر آئیں گے جو انہوں نے جمع کروا رکھے ہوں گے۔وہ اپنے ٹیکس ثبوتوں کے ساتھ عمران خان کے الزامات کا جواب دیں گے اور کہیں گے کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹ ہیں لیکن جب پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوا تو کسی بھی ’الزام زدہ‘ لیڈر نے یہ بات نہ کہی کہ یہ جھوٹ ہے لیکن انہوں نے یہ ضرور کہا کہ وہ جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی صورت عمران خان کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔اجلاس ختم ہوگیا اور میرے کان یہ سننے کو ترس گئے کہ کوئی اٹھتا اور کہتا کہوہ ٹیکس چور نہیں لیکن اجلاس ختم ہوگیا۔

شام کو احسن اقبال کی جانب سے یہ بات ضرور کہی گئی کہ وہ زیادہ ٹیکس دیتے ہیں لیکن انہوں نے یہ نہ بتایا کہ انہوں نے کتنا ٹیکس دیالیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان غیر ذمہ دارانہ بیان دے کر دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟خورشید شاہ بھی بولے لیکن انہوں نے کہا کہ وہ سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں ،عمران خان جب سیاست میں آئے تھے تو میں ان کی بہت عزت کرتا تھا لیکن اب میں ان سے مایوس ہو چکے ہیں۔

میرے کان یہ سننے کو ترس گئے کہ شاہ صاحب یا کوئی اور رہنما  کہہ دیتاکہ یہ جھوٹ ہے۔

مزید : بلاگ