معاشی بحران نے فرانسیسی خواتین کو شرم دلا دی

معاشی بحران نے فرانسیسی خواتین کو شرم دلا دی
معاشی بحران نے فرانسیسی خواتین کو شرم دلا دی

  


پیرس (نیوز ڈیسک) یوں تو یورپی معاشرے میں عمومی طور پر ہی خواتین کی برہنگی کو غیر مناسب نہیں سمجھا جاتا لیکن فرانس اس حوالے سے مشہور رہا ہے کہ یہاں خواتین ساحلوں پر برہنہ ہونا بہت ہی پسندیدہ فعل سمجھتی تھیں۔حال ہی میں کئے گئے ایک سروے سے سامنے آنے والی صورتحال البتہ بہت مختلف ہے اور معلوم ہوا ہے کہ اب صرف دو فیصد خواتین ہی ساحلوں پر برہنہ ہونا پسند کرتی ہیں جبکہ 98 فیصد کی بھاری تعداد تن ڈھانپنے کو ہی بہتر سمجھتی ہیں۔

برہنگی کی شوقین فرانسیسی خواتین میں یہ تبدیلی کیونکر پیدا ہوئی؟ اس کا جواب ایک ماہر عمرانیات جین کلاڈ کاف مین نے دیا ہے جو خواتین کی برہنگی کے متعلق ایک کتاب بھی تصنیف کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فرانس کے اقتصادی مسائل نے خواتین کو مناسب لباس پہننے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کا نظریہ ہے کہ مالی اور اقتصادی مشکلات سے معاشرے میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور ایسی صورت میں لوگ اور خصوصاً خواتین پرخطریا بولڈ قسم کے اقدامات سے گریز کرتی ہیں اور لباس بھی ان میں سے ایک ہے۔ برہنگی غیر محفوظ جبکہ لباس حفاظت کے احساسات پیدا کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ساحلوںپر برہنہ گھومنے کی دلدادہ فرانسیسی خواتین آج کل اقتصادی حالات کی پریشانیوں کی وجہ سے غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں اور لباس میں حفاظت ڈھونڈتی ہیں۔ بے لباسی سے پرہیز کی ایک اور وجہ فون کیمرے بھی بتائے گئے ہیں کیونکہ اکثر ساحلوں پر معمر مرد برہنہ نوجوان خواتین کی تصاویر بنانے کی کوشش کرتے دیکھے گئے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس