دل کا ٹوٹنا بھی موت کا باعث بن سکتا ہے

دل کا ٹوٹنا بھی موت کا باعث بن سکتا ہے
دل کا ٹوٹنا بھی موت کا باعث بن سکتا ہے

  


لندن(نیوزڈیسک)جب کوئی شخص اپنے کسی پیارے کی یاد میں روتے روتے جان سے گزر جائے تو ہم کہتے ہیں کہ اس کی موت دل ٹوٹنے سے ہوئی ہے۔ سائنس دانوں کے بقول بڑھاپے نے اس نظریے کو سچ کر دکھایا ہے کہ کیونکہ غم کی شدت اور ہونے والا نقصان آپ کے مدافعتی نظام کو مہلک نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک سٹڈی میں مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جیون ساتھی کسی دوست یا قریبی رشتہ دار کی موت انسانی جسم میں موجود متعدی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت پر بہت بُرا اثر ڈالتی ہے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کوئی بیوہ عورت یا مرد کیوں اپنے ساتھی کی موت کے فوراً بعد جان سے گزر جاتے ہیں، حالانکہ ان کی صحت اس حادثے کے وقت بظاہر ٹھیک ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف برمنگھم ٹیم نے اس موضوع پر تحقیق کی ہے جس کے مطابق ہمارے خون کے مخصوص خلیے ہوتے ہیں جنہیں نیو ٹروفلز کہا جاتا ہے جو بیکٹیریل انفیکشن کے خلاف لڑ کر ہمیں مہلک بیماریوں مثلاً نمونیا وغیرہ سے محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ نیوٹروفلز صدمے کے اثرات سے بُری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اس تحقیق کے انعقاد کے وقت سائنس دانوں نے حالیہ صدمے سے متاثرہ مرد اور عورتوں کے خون سے نیوٹروفلز کے نمونے کے کر مشاہدہ کیا کہ صدمے نے ان خلیوں کی جراثیم کے خلاف لڑنے کی صلاحیت پر کیا اثر ڈالا ہے؟ تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ نوجوانوں کے نیو ٹروفلز صدمے سے متاثر نہیں ہوئے جبکہ 65سال سے زائد عمر کے لوگوں کے نیو ٹروفلز صدمے کے نتیجے میں زیادہ دیر تک جراثیم سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہے، جس سے وہ مہلک بیکٹیریل انفیکشن کا مقابلہ نہ کر سکے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس ضمن میں نمونیا عمر رسیدہ لوگوں کا قاتل ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ مہلک بیماریاں پھیلانے والے جراثیم ہمارے اردگرد ہی موجود ہوتے ہیں اور یہ اس وقت مہلک ہو جاتے ہیں جب کسی شخص کے نیو ٹروفلز ان کے خلاف لڑنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہوں اور بعض لوگوں پر صدمے کے اثرات اس قدر غالب آ جاتے ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ ضروری ادویات لینا ہی بھول جاتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس