ایمپائر صرف پاکستانی عوام ہیں،طالبعلم دھرنے میں پہنچیں،ہفتے کے روز یہاں عوام کا سمندر دیکھنا چاہتا ہوں: عمران خان

ایمپائر صرف پاکستانی عوام ہیں،طالبعلم دھرنے میں پہنچیں،ہفتے کے روز یہاں ...
ایمپائر صرف پاکستانی عوام ہیں،طالبعلم دھرنے میں پہنچیں،ہفتے کے روز یہاں عوام کا سمندر دیکھنا چاہتا ہوں: عمران خان

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان نے کہا کہ وہ وقت ضرور آئے گا جب ایک بار پھر سے پاکستان کرکٹ، ہاکی اور اسکوائش کا چیمپئن ہو گا، ہماری سیاست میں ایمپائر صرف اور صرف پاکستانی عوام ہیں، ہفتے کے دن دھرنے کو ایک مہینہ مکمل ہو جائے گا، اس پوری قوم کو متحد کریں گے اور یہاں عوام کا سمندر اکٹھا کریں گے، ملک میں اس وقت جمہوریت نہیں’مک مکا‘ چل رہا ہے،جعلی جمہوریت کے پیچھے چھپنے والوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اصل جمہوریت کیا ہے۔ طالبعلموں کے بغیر کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوتی، یہاں طالب علموں کو دیکھنا چاہتا ہوں۔

آزادی مارچ کے شرکاءسے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ہمارے تمام مطالبات آئینی اور قانون کی حدود کے اندر ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ دھاندلی کی تحقیقات تک یہ جعلی وزیر اعظم استعفیٰ دے۔اس ملک میں کوئی ذمہ داری ہی قبول نہیں کرتا، یہاں لاہور میں لوگوں کو گولیاں مارنے پر بھی کو استعفیٰ نہیں دیتا۔ آج جمہوریت کے پیچھے بڑے بڑے چور چھپے ہیں، میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ اصلی جمہوریت میں کیا ہوتاہے، جنوبی کوریا میں ایک کشتی ڈوبنے پر وزیر اعظم نے استعفیٰ دے دیا تھا، مگر یہاں سیلاب سے پورا ملک ڈوب گیا مگربوٹ ڈال کر تصویریں بنوانا شروع کر دی گئی ہیں۔ حکومت کو محکمہ موسمیات نے اگست میں بتا دیا تھا کہ سیلاب آ سکتا ہے، مگر حکومت نے کوئی تیاری نہیں کی، اس سے پہلے بھی فلڈ کمیشن کی رپورٹ پر عمل نہیں کیا گیا۔میں اس حکومت سے پوچھتا ہوں کہ بارش اور سیلاب تو بھارت میں بھی آئے ہیں مگر وہاں کیوں نقصان نہیں ہوا؟ کیونکہ وہاں حکومت پہلے سے تیار بیٹھی تھی کہ سیلاب آنے والا ہے اور پانی کو محفوظ کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس ملک کے مظلوم طبقے کو حقوق کے لئے سیاست میں آیا ہوں،ہم پر امن ہیں اوریہاں کسی کو تنگ نہیں کر رہے، ن لیگ میں ویسے ہی کم پڑھے لکھے لوگ ہیں تو ان میں جو تھوڑا سا پرھا لکھا ہوتا ہے وہ اندھوں مین کانا راجا بن جاتا ہے، تو حکومت کا ’ارسطو‘ کہتا ہے کہ ہم نے یہاں احتجاج کر کے ملک کو ایک ہزار ارب روبے کا نقصان پہنچا چکے ہیں۔مظاہرین پر گولیاں کو حکومت کی جانب سے چلائی گئی ہیں، اور ۴۵ لوگوں کو گولیاں لگی ہیں، میں نے اپنی آنکھوں 2لوگوں کو شہید ہوتے دیکھا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ میاں صاحب حکومت نہیں کاروبار چلا رہے ہیں، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے مطابق شریف بران کی شوگر ملز 91کروزڑ کی مقروض ہیں، ان کے دوستوں کی ملز 200سے کروڑ سے زائد کی مقروض ہیں۔ ان لوگوں نے پیسے لے لئے مگر چینی نہیں دی ، اب وہی چینی مہنگی کر کے بیچیں گے۔2006میں حکومت پاکستانی رپورٹ کہتی ہے کہ شریف برادران یورپ میں320 کروڑ روپے کی سرمایہ کے مالک ہیں، یہ پیسہ باہر منتقل کرنے کے لئے منی لانڈرنگ کی گئی اور آج برطانیہ میں 200ارب کی انویسٹمنٹ حسین نواز نے کی ہے، وزیر اعظم کا بیٹا 800کروڑ روپے کے فلیٹ میں رہتا ہے، یہ رقم کہاں سے آئی ہے؟خیبر پختونخواہ میں حکومت میں آ کر کاروبار کرنا ممکن نہیں رہا، ہم نے اس کے خلاف قانون سازی کر دی ہے، کیونکہ کاروباری شخصیت کاروبار ہی چلایا کرتی ہیں۔عمران خان نے دھرنے کے شرکاءسے پوچھا کہ یہاں کتنے طالبعلم موجود ہیں؟دنیا میں کبھی کوئی ایسی تحریک کامیاب نہیں ہوئی جس میں طالبعلم شامل نہیں تھے، اس لئے میری طالب علموں سے درخواست ہے کہ وہ آزادی مارچ میں پہنچیں اور اپنا مستقبل محفوظ بنائیں کیونکہ یہ وقت دوبارہ نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے کے روز دھرنے کو ایک مہینہ پورا ہو جائے گا، اس دن پوری قوم کو متحد کریں گے اور سب لوگوں کو اکٹھا کریں گے، یہاں اس دن سب سے زیادہ لوگ ہوں گے، اس دن یہاں سب سے اہم انکشافات کئے جائیںگے۔تو ملک بھر سے لوگ یہاں پہنچیں، میں اس دن یہاں عوام کا سمندر دیکھنا چاہتا ہوں۔

کپتان کا کہنا تھا کہ ہمارے دیکھتے ہوئے پاکستان ترقی کر رہا تھا اور پھر اچانک یہ زوال کا شکا ہو گیا، میں جب پہلی بار بھارت گیا تو واپسی پر محسوس ہورہا تھا کہ میں کسی غریب ملک سے واپس ترقی یافتہ ملک میں آگیا ہوںاور آج یہ حال ہے کہ اس ملک میں انصاف خریدا جاتا اور عوام کا برا حال ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں جمہوریت نہیں ’مک مکا‘ چل رہا ہے۔چوہدری نثار اور اعتزاز احسن کے درمیان جمہوریت کے نام پر مک مکا کروا دیا گیا۔ یہ تحریک اس ملک میں اصلی جمہوریت کی تحریک ہے، زندہ قوموں کی نشانی ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے اٹھ نکلتی ، وہ ظلم سہتی نہیں رہتی۔ میں نے اس مہینے بجلی کا کوئی بل ادا نہیں کیا اور تب تک نہیں ادا کروں گا جب تک یہ حکومت میرے سوالوں کے جوابات نہیں دے گی، میںعوام کو بھی کہتا ہوں کہ وہ سول نافرمانی کی تحریک کو کامیاب بنائیں۔

مزید : قومی /Headlines