امریکی خفیہ ادارے تشدد میں بھی دنیا پر بازی لے گئے

امریکی خفیہ ادارے تشدد میں بھی دنیا پر بازی لے گئے
امریکی خفیہ ادارے تشدد میں بھی دنیا پر بازی لے گئے

  


واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکہ میں ستمبر 2011ءکی دشت گردی کے بعد بدلے کی آگ میں سلگتی سپر پاور سے نہ صرف دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا بلکہ سینکڑوں مبینہ ملزمان کے خلاف بھی وحشیانہ کارروائیاں کیں۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے درجنوں لوگوں کو بدنام زمانہ گوانتا نامو بے جیل میں انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا۔ تحقیقات کے نام پر کئے گئے یہ مظالم اس قدر خوفناک تھے کہ خود حکومت کو اس کے خلاف تقیقات کا آغاز کرنا پڑا اور امریکی سینیٹ نے تحقیقات کے نام پر کئے گئے جرائم کے متعلق ایک رپورٹ بھی تیار کی ہے جو چند ہفتوں میں منظر عام پر آنے والی ہے۔ برطانوی اخبار ”ٹیلی گراف“ نے اس رپورٹ کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ سی آئی اے اہلکاروں نے گوانتا ناموبے جیل میں رکھے گئے القاعدہ کے کارکنوں پر ہر قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خوفناک تشدد کیا۔ ان قیدیوں میں پاکستان سے گرفتار کئے گئے خالد شیخ محمد بھی شامل ہیں جن پر ستمبر 2011ءکے حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ اخبار کے مطابق خالد شیخ محمد سمیت متعدد قیدیوں کو ”وائر بورڈنگ“ تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن امریکی اہلکاروں نے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اس طریقہ تحقیق کی آڑ میں قیدیوں کو ڈبو ڈبو کر قریب المرگ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق قیدیوں کی ناک پر گیلا کپڑا رکھنے کی بجائے انہیں پانی سے بھرے ٹب میں ڈبویا جاتا اور تب تک ڈبویا جاتا جب تک کہ وہ مرنے کے قریب نہ پہنچ جائے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ خالد شیخ محمد پر یہ تشدد 183 مرتبہ جبکہ اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی ابو زبیدہ پر 83 مرتبہ کیا گیا۔ سی آئی اے کے جرائم پر مبنی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ان مظالم سے مزید پردہ اٹھنے کی توقع کی جارہی ہے۔

مزید : انسانی حقوق