کیا داعش کا جنگجو شامی مہاجر کا روپ دھار کر یورپ پہنچ گیا؟ ایک تصویر جس نے دنیا میں ہنگامہ برپا کردیا، حقیقت بھی سامنے آگئی

کیا داعش کا جنگجو شامی مہاجر کا روپ دھار کر یورپ پہنچ گیا؟ ایک تصویر جس نے ...
کیا داعش کا جنگجو شامی مہاجر کا روپ دھار کر یورپ پہنچ گیا؟ ایک تصویر جس نے دنیا میں ہنگامہ برپا کردیا، حقیقت بھی سامنے آگئی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) شام سے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد یورپ کا رخ کر رہی ہے، ایسے میں ان یورپی ممالک کی حکومتوں کو سب سے بڑا خدشہ لاحق ہے کہ کہیں پناہ گزینوں کے روپ میں داعش کے شدت پسند ان کے ملکوں میں داخل نہ ہوجائیں۔آج کل سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر دو ایسی تصویریں گردش کر رہی ہیں جو ان یورپی ممالک کے خدشے کو تقویت دے رہی ہیں۔ان دونوں تصاویر میں ایک ہی نوجوان کو دکھایا گیا ہے۔ پہلی تصویر میں اس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور جنگجوؤں کی وردی میں ملبوس ایک رائفل اٹھائے کھڑا ہے جبکہ دوسری تصویر میں وہ کلین شیو ہے، اس نے ٹی شرٹ اور پینٹ پہن رکھی ہے اور اپنی پشت پر ایک بیگ اٹھا رکھا ہے۔دونوں تصاویر میں موجود نوجوانوں کے چہرے مہرے میں بہت حد تک مماثلت ہے۔

فیس بک پر ان دونوں تصاویر کے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ پہلی تصویر شام کے کسی علاقے میں لی گئی جب یہ نوجوان داعش کے لیے کام کر رہا تھا اور دوسری مقدونیہ کے بارڈر پر لی گئی جب یہ پناہ گزینوں کے ساتھ مل کر یورپ کا سفر کر رہا تھا۔ فیس بک پر اس تصویر کوچند دنوں میں 70ہزار سے زائد مرتبہ شیئر کیا جا چکا ہے۔ صارفین اس تصویر پر طرح طرح کے کمنٹس دے رہے ہیں لیکن ایک واضح اکثریت کا کہنا ہے کہ اگر یہ تصویر جعلی بھی ہے تو وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہزاروں نہیں تو کم از کم سینکڑوں داعش کے جنگجو پناہ گزینوں کے روپ میں ضرور یورپ میں داخل ہو رہے ہوں گے۔

دوسری جانب فیس بک پر ان تصاویر کو شئیر کرنے والے انٹرنیٹ صارف نے یہ کہہ کر معافی مانگ لی ہے کہ تصویر میں نظر آنے والا شخص داعش کا جنگجو نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ تصویر ٹوئیٹر سے لی گئی تھی اور یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اس شخص کا نام لیت الصالح ہے اور گزشتہ ماہ وہ ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک پروفائل کا موضوع تھا جس میں اس کی یہ دو تصاویر پہلی دفعہ سامنے آئیں۔ لیت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ فری سیرین آرمی کا حصہ رہا ہے اور القاعدہ اور داعش کے خلاف بھی لڑ چکا ہے۔ اس کی تصاویر ٹوئٹر پر بغیر سیاق و سباق کے شئیر کی گئیں جس کے بعد اسے پناہ گزینوں کا روپ دھارنے والے داعش کا جنگجو قرار دے دیا گیا، جبکہ حیققت میں وہ داعش کے خلاف لڑتا رہا ہے ۔

مزید : بین الاقوامی