چھ ستمبر کا تاریخی پس منظر

چھ ستمبر کا تاریخی پس منظر
 چھ ستمبر کا تاریخی پس منظر

  

جنگ کوئی بھی ہو اس کے پیچھے ایک خاص مقصد ہوس کشور کشائی ہے یا کمزور قوموں پر تسلط قائم کرنے کے لئے مکرو فریب کا ایک جال، لیکن یہ حقیقت ہے کہ جنگ اقوام کو تباہ کر کے ہی چھوڑتی ہے ۔ بد قسمتی سے بھارتی حکمران طبقہ جنگجو ذہنیت کا مالک ہے اسی باعث وہ اسلحے کا انبار لگا نے میں مصروف ہے اور یہ وطیرہ اس کا اب سے نہیں شروع سے ہے اور اس کو جاننے کے لئے ماضی میں جانا ہو گا ۔کشمیر پر ڈوگرہ راجہ کی حمایت کے نام پر بھارتی جارحیت یعنی پہلی پاک بھارت لڑائی کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ہونے والی جنگ بندی کو دو سال بھی نہیں گزرے تھے کہ 1951ء میں امریکہ نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا اور سات سال بعد 1958ء میں اس معاہدے کی امریکہ نے یہ جانتے ہوئے توثیق کر دی تھی کہ بھارت غیر جانبدار ممالک کی صف میں شامل روس کا اتحادی تو دوسری طرف پاکستان امریکہ اور یورپ کا اتحادی بن چکا تھا ۔جواہر لال نہرو نے چین مخالف ممالک کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے نومبر 1962 ء میں چین کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کا آغاز کر دیا اور یہ سلسلہ جنگ کی صورت اختیار کر گیا ۔

بھارت کے کمیونسٹ چین کے ساتھ اس ٹکڑاؤ اور حملہ پر اور اس کے یورپی اتحادیوں نے بھارت کو بھاری مقدار میں جنگی سازو سامان مہیا کر دیا،حالانکہ چین اور بھارت کی جنگ اچانک شروع نہیں ہوئی تھی ۔اس خطے میں بھارت ہمیشہ سے بالادستی کا خواب دیکھ رہا تھا اور اس وقت کی بھارتی فوج اور سیاسی قیادت نے فوج اور عوام کا مورال بلند کرنے کیلئے سب سے پہلے مالا بار کے ساحل پر پرتگالی کالونی ’’گوا‘‘ کا انتخاب کیا اور ’’گوا‘‘ پر چڑھائی کر دی اور اس پرفوجی قبضہ کر لیا اور خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کا ارادہ کر لیا قبضے کے ساتھ ہی پورے بھارت میں عجیب و غریب جنونی قسم کے جشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔پنڈت نہرو نے اس قبضے کے نشے میں پریس کانفرنس کے دوران چین کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال پر کہا :’’بے شک ہمارے پاس طاقت کے استعمال کا طریقہ موجود ہے جسے مناسب موقع پر استعمال کیا جانا چاہئے ‘‘۔

پنڈت نہرو کی اس پریس کانفرنس کے اگلے ہی روز بھارت کے وزیر داخلہ لال بہادر شاستری نے ایک جلسہ عام میں چین کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ چینیوں اگر تم نے ہمارا علاقہ خالی نہ کیا تو ہمیں گوا والا واقع دہرانا پڑے گا اور پھر ہم چینی فوجیوں کو پرتگالیو ں کی طرح اٹھا کر اپنے علاقے سے باہر پھینک دیں گے اور اسی جلسہ میں کانگرس کے صدر سنجیو اریڈی نے جوشیلے اندا زمیں کہا ’’اپنی سر زمین سے چین اور پاکستان دونوں سے یکساں سلوک کرتے ہوئے جلد ہی ان کی جارحیت کو ختم کر کے رکھ دیں گے ۔ ابھی گوا کے جشن کا نشہ کم نہیں ہواتھا کہ پنڈت نہرو نے بارہ اکتوبر 1962 ء کو بھارتی فوج کو حکم دیا کہ وہ متنازع علاقہ فوری طور پر چین سے خالی کرائیں اور پھر بیس اکتوبر کو بھارتی فوج نے شمالی مشرقی سرحدی ایجنسی میں چینی فوجوں پر حملہ کر دیا چند دن کی شدید لڑائی کے بعد نومبر میں چینی فوجوں نے بھارت کو ناکوں چنے چبواتے ہوئے بھارت کے مزید دو ہزار مربع میل کے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد نیغا کی طرف پیش قدمی شروع کر دی، جس سے صاف لگ رہا تھا کہ اگلے چند دنوں میں چین آسام پر بھی قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا کہ امریکہ میدان میں آدھمکا اور چین کو خوفناک قسم کی دھمکیاں دینی شروع کر دیں جس پر چین نے 21نومبر کو یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا ۔

چین پر یلغار نے بھارت کو سخت خطرے میں ڈال دیا ،جس پر 29دسمبر کو ’’ناساو‘‘ میں ہونے والے ایک اجلاس میں بھارت کو بارہ کروڑ امریکی ڈالر کی فوجی امداد دینے کا فیصلہ کیا دوسری طرف امریکہ ، برطانیہ اور کینیڈا کی ٹیم نے بھارت کی فضائیہ کی ضروریات کا جائزہ لینے کے لئے بھارت کا دورہ کیا ۔بھارت کو مزید مضبوط کرنے کے لئے 20جون 1963 ء کو مزید جدید قسم کے ہتھیار ریڈار کے ذریعے وسیع مواصلاتی نظام ، فضائی نقل و حمل اور تربیتی سہولتوں کی فراہمی پر مشتمل اسلحہ کی سپلائی شروع کر دی ۔امریکہ اور مغربی ملکوں کی طرف سے بحری اور فضائی فوج کو ملنے والے اسلحے کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے بھارت کی فوج کو گیارہ ڈویژن تک بڑھا دیا گیا۔اسلحہ ملنے کے بعد بھارت نے یہ راستہ اختیار کیا کہ وہ اپنی توجہ پاکستان پر مرکوز کر دے اور اس کے خلاف وہ ہتھیار استعمال کرے جو اسے امریکہ ،برطانیہ اور کینیڈا سے حاصل ہوئے ہیں تا کہ چین کے ہاتھوں مار کھانے کے بعد اپنے عوام اور دنیا کی رائے عامہ میں اپنی بچی کچھی شہرت کو بر قرار رکھ سکے۔ پنڈت نہرونے اپنی بری فوج کو امریکی اور روسی اسلحے سے لیس کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف تیاری کا حکم دیا۔

27جون 1964ء کو وہ اچانک انتقال کر گئے اور ان کی جگہ لال بہادر شاستری بھارت کے نئے وزیراعظم بن گئے اور پھر نہرو کے پلان کے تحت پاکستان کو زبردست جھٹکا دینے کے لئے 21دسمبر 1964 ء کو بھارت نے اپنے 1950ء کے آئین کے آرٹیکل میں نئی شقوں کا اضافہ کیا اور بھارتی صدر کو اختیار دے دیا کہ وہ کسی بھی وقت اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کشمیر کی ریاستی حکومت ختم کرتے ہوئے وہاں صدر راج نافذ کر سکتا ہے اور کشمیر میں چیف آف سٹیٹ اور وزیراعظم کا عہدہ ختم کرتے ہوئے اسے بالترتیب گورنر اور وزیراعلیٰ کا درجہ دے دیا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کویہ پیغام دیا گیا تھا کہ کشمیر اب ریاست نہیں، بلکہ باقاعدہ بھارتی صوبہ بن چکا ہے ۔پھر اپنی طاقت دکھانے کے لئے بھارتی جی ایچ کیو میں تیار کیے گئے ’’ آپریشن کبڈی ‘‘ کے لئے میجر جنرل پی اوڈن کور کمانڈر کلو مقرر کرتے ہوئے پانچ اور چھ اپریل کی درمیانی شب رن آف کچھِ میں پاکستان پر حملہ کر دیا، لیکن پاک فوج ہر طرح کے حملے کے لئے تیار تھی اور یہاں بھی انڈیا کو منہ کی کھانی پڑی ۔6 ستمبر کی جنگ سے انڈیا نے کوئی سبق نہ سیکھا۔ہر سال بھارت میں اربوں کا اسلحہ خریدا جاتا ہے دوسری طرف کروڑوں بھارتیوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں اور وہ بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں ۔حکمرانوں کی ایسی سنگ دلی اور شقاوت قلبی کسی اور ملک میں نظر نہیں آتی ۔بھارتی جنگجو یا نہ پالیسی کے باعث پاکستان بھی مجبور ہے کہ وہ جدید ترین اسلحہ خرید کر اپنا قومی دفاع مضبوط کرے دعا ہے بھارتیوں کو عوام دوست اور امن پسند رہنما ملیں جو بر صغیر ہندو پاک کو امن اور پیار محبت کا گہوارا بنائے ۔

مزید : کالم