این جی اوز کالے دھن کو سفید کرنے کا بڑا ذریعہ بن چکی ہیں ، ہیومن رائٹس موومنٹ

این جی اوز کالے دھن کو سفید کرنے کا بڑا ذریعہ بن چکی ہیں ، ہیومن رائٹس موومنٹ

 لاہور(جاوید اقبال،محمد نواز سنگرا)ملک میں ضمیر فروش اور نام نہاد این جی اوزنے سماجی خدمت کے نام پر کاروبار شروع کر رکھا ہے اور خدمت کا لبادہ اوڑھ کر اندرونی اور بیرونی ممالک سے فنڈز اکٹھے کر رہی ہیں ان کے اس وطیر ہ کے باعث یہ لوگ مختلف اقسام کے جرائم میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں اور این جی اوز بلیک منی کو وائٹ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہیں ریاست میں آئین ،قانون،قرآن و سنت ، بنیادی حقوق کا تعین،آزاد عدلیہ سب موجودہونے کے باوجود کاروبار کرنے والی پروفیشنل این جی اوز کا وجود میں آنا حکومتی ناکامی ہے ۔ریاست کی رٹ قائم نہ ہونے کیوجہ سے ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے،ملک کو نقصان پہنچانے والے چہروں کو بے نقاب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ چور کبھی چور کا احتساب نہیں کر سکتاان خیالات کا اظہار ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی رہنماؤں نے پاکستان فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ہیومن رائٹس موومنٹ کے صدر ناصر اقبال خان نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے افراد کی نہیں پاکستان آنے والی نسلوں کی امانت ہے تمام اداروں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے پاکستان میں جھوٹ ،شعبدہ بازی کا راج ہے اور بے ضمیر ی سیاست ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہیومن رائٹس کے نام سے جن اداروں نے اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ہماری تنظیم ہیومن رائٹس موومنٹ ملک میں تعلیم ،صحت سمیت تمام شعبوں میں شعور اجاگر کر رہی ہے اور ہم کہیں سے فنڈزنہیں لیتے ہم ہروقت آڈٹ کیلئے تیار ہیں حکمرانوں کی ترجیحات ملکی مسائل کا حل نہ ہونے کیوجہ سے قوم پس رہی ہے۔سینئر نائب صدر فاروق چوہان نے کہا کہ ہیومن رائٹس موومنٹ انسانی حقوق کی تنظیم ہے جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کیلئے آواز اٹھار ہی ہے معاشرتی ناہمواریوں کے حوالے سے کشمیر،فلسطین،عراق اور برماجہاں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ہیومن رائٹس بھلائی کیلئے سرگرداں ہے۔پاکستان میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور دشمن قوتیں مختاراں مائی،ملالہ اور قصور جیسے واقعات کرانے میں سرگرم ہیں ۔فوج کراچی اور بلوچستان سمیت پورے ملک میں امن قائم کرنے کیلئے سر گرداں ہے سیاستدانوں اور میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔غیر ملکی ڈالرز لینے والے مکروہ چہروں کو بے نقاب کرنا چاہیے۔سنئیر نائب صدر آصف چٹھہ نے کہا کہ مختلف فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر ہیومن رائٹس موومنٹ کے پلیٹ فارم سے کام کر رہے ہیں اور ہمارا ایجنڈا صرف مسلمانوں کا نہیں غیر ملکیوں کا بھی تحفظ کرنا ہے حکومت ریاست میں انسانی حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔سنئیر نائب صدر تنویر احمد خان نے کہا کہ این جی اوز بلیک منی کو وائٹ کرنے کا بہت بڑا ذریعہ بن گئی ہیں اور ایک بڑا کردار کاروبار بھی ہے جس سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ہیومن رائٹس موومنٹ مثبت پہلو پر کام کر رہی ہے جس کی ترجیحات ہیومن رائٹس ہیں ۔سیکرٹری جنرل ایڈوکیٹ محمد رضا نے کہا کہ داغدار چہروں والی این جی اوز کے سربراہ ملک کے چند سیاستدان ہیں ۔ملک میں جن لوگوں کو حقوق نہیں مل رہے ہم ان کو حقوق دلانے کیلئے کوشاں ہیں ،ہم خیال این جی اوز اور لوگوں کو ساتھ ملا کر کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کا کوئی بھی شہری بنیادی حقوق سے محروم نہ ہو۔

مزید : میٹروپولیٹن 1