خرابی کہاں ہے؟

خرابی کہاں ہے؟

  

قصور شہر کی رہائشی نسرین بی بی میرے آفس میں میرے سامنے بیٹھی ہے اور زارو قطار رو رہی ہے، اُس کے مخالفین نے اس کے سر کے بال کاٹ کر اُس کی ٹنڈ کر دی ہے، چار، پانچ آدمی اُسے اغوا کرنے کے بعد ساری رات اُس سے شیطانی کھیل کھیلتے رہے،اُس نے مجھے بتایا کہ وہ پانچ بہنیں ہیں، ان کا کوئی بھائی نہیں ہے، اس کا والد فوت ہو چکا ہے اور والدہ بوڑھی ہیں۔ ایک گاؤں میں کچھ زرعی اراضی ہے، جس پر وہاں کے قبضہ گروپوں، غنڈہ عناصر نے گن پوائنٹ پر قبضہ کر لیا ہے، ان ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی پاداش میں اس کے ساتھ بدمعاشوں، غنڈہ گرد عناصر نے زیادتی کی ہے، جبکہ مقامی پولیس کی ملزمان کے ساتھ ساز باز ہے۔ اس کی بات سُن کر مَیں نے سوچنا شروع کر دیا کہ کیا یہ وہی مُلک ہے، جس کو حاصل کرنے کی خاطر ہمارے بزرگوں کو آگ کا دریا عبور کرنا پڑا تھا، جس کے حصول کے لئے لاکھوں انسانوں کو خانہ بندوش ہونا پڑا، اپنی عزتوں اور غیرتوں کو قربان کرنا پڑا،اپنے معصوم بچوں کی معصومیت اور جوان بیٹیوں کی جوانیوں کو داؤ پر لگانا پڑا، لاکھوں لوگوں کو اپنے بھرے ہوئے گھروں کو چھوڑ کر بے گھر ہونا پڑا۔یہ تمام صعوبتیں اور پریشانیاں ہمارے بزرگوں نے اِس لئے جھیلیں کہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں سکون، عزت اور اسلامی تشخص کے ساتھ زندگی گزار سکیں، مگر آج68سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی وہی قتل و غارت، رہزنی، لوٹ مار اور عزتوں کے نیلام کا سلسلہ جاری ہے۔

کیا ان تھکے ہارے، لٹے پٹے بے بس کمزور انسانوں کو ان کے جان و مال کا تحفظ اور ان کو اِس مُلک میں عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا گیا ہے؟ اگر ہم ایمانداری اور ذمہ داری سے ملکی حالات کا جائزہ لیں، توہمیں ہر طرف حقوق کی پامالی، غریب اور بے بس لوگوں کی عزت کا نیلام، معصوم،بے گناہ اور بے بس لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہی نظر آتا ہے، جبکہ دُکھی انسانیت ننگے سر بین کرتی نظر آتی ہے،آج 68سال گزر جانے کے باوجود بھی غریب بے بس ہے اور مظلوم انسان کے دُکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں۔ یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوا؟یہ سب سے بڑا سوال ہے۔ میرے خیال کے مطابق پاکستان بننے کے بعد سیاست کو سرمایہ داروں، صنعت کاروں، وڈیروں اور لٹیروں نے اپنے چنگل میں لے لیا اور اگر کسی غریب، مسکین، بے بس شخص نے ان لٹیروں کے خلاف نعرۂ حق بلند کیا، تو انہوں نے اسے اس طرح کی اذیتیں دیں کہ اس سے زندہ رہنے کا حق تک چھین لیا گیا اور یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا۔ آج ہمارے مُلک میں ایسا نظام ہے کہ مقامی تھانے میں کوئی بھی ایس ایچ او وہاں کے ایم این اے یا ایم پی اے کی مرضی کے بغیر تعینات نہیں ہو سکتا اور اگر ایس ایچ او وہاں کے ایم این اے اور ایم پی اے کی مرضی کے خلاف کوئی بھی کام کرتا ہے، تو وہ فوری طور پر معطل کر دیا جاتا ہے یا نوکری سے برخاست ہو جاتا ہے۔ ایس ایچ او علاقے میں جرائم کو روکنے یا جرائم میں اضافے میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔

ہمارے نظام میں کوئی بھی غریب شخص منتخب ہو کر قومی یا صوبائی اسمبلی میں نہیں پہنچ سکتا، جبکہ سرمایہ دار وڈیرا ،جاگیردار اپنے پیسے کے زور پر اسمبلی میں بآسانی پہنچ جاتا ہے، پھر علاقے میں ایس ایچ او، پٹواری، تحصیلدار وغیرہ اس کی منشا سے ہی تعینات ہوتے ہیں، اگر کوئی وڈیر ا کسی غریب کے ساتھ زیادتی کرے گا، تو غریب اور بے بس انسان مقامی ایس ایچ او کے پاس درخواست لے کر جائے گا۔ایس ایچ او کیونکہ اس وڈیرے جاگیردار کی مرضی سے تعینات ہوا ہے، تو وہ غریب کی کوئی بات نہیں سنے گا، بلکہ غریب کو بے عزت کر کے تھانے سے نکال دے گا تاکہ کوئی غریب یا مظلوم شخص دوبارہ کسی سرمایہ دار، وڈیرے یا قبضہ گروپ کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی سوچ نہ سکے۔ میری بیس سالہ پیشہ ورانہ وکالت کی زندگی میں بہت سے ایسے مقدمات بھی آئے کہ ظالم اور جابر کے خلاف کسی جرم کی پاداش میں عدالت میں چالان لگا اور اس ظالم و جابر اورطاقتور شخص نے یا تو اپنے خلاف بھگتنے والے گواہان کو قتل کروا دیا یا اپنی دھونس اور طاقت سے گواہ کی زبان ہمیشہ کے لئے بند کر دی۔ وہ ظالم اور جابر شخص عدالت سے بھی اپنے خلاف عدم ثبوت کی بناء پر بری ہو گیا۔ نسرین بی بی کی داستان غم سُن کر میری آنکھوں میں آنسو بھی ہیں اور اس نظام حکمرانی کے خلاف میرے دِل میں نفرت بھی ہے، لیکن مَیں اس سسٹم میں قصور وار ان غریب، بے بس اور مظلوموں کو ہی ٹھہراؤں گا کہ ان کو بھی مشترکہ طور پر اپنے حقوق کے لئے آگے آنا ہو گا، وڈیروں، لٹیروں اور ظالموں کے گریبانوں کو پکڑنا پڑے گا، ورنہ یہ سسٹم، یہ انداز طویل تر ہوتا جائے گا، اور امیر امیر تر کیونکہ بقول قتیل شفائی:

قتیل اس جیسا دنیا میں منافق نہیں کوئی

جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

میرے خاندان کے زیادہ تر بزرگ جنہوں نے پاکستان کو بنتے ہوئے بچشمِ خود دیکھا، اس دُنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، میرے ماموں سید محمد علی گیلانی حیات ہیں، اُن کی عمر 85سال کے لگ بھگ ہے۔ انہوں نے پاکستان بنتے دیکھا ہے۔ مَیں نے ایک بار ان سے پوچھا ماموں جان کیا پاکستان بننے سے پہلے بھی اِسی طرح کا قانون نافذ العمل تھا، پاکستان میں جس طرح کا آج نظام چل رہا ہے، کیا ایسا ہی پاکستان آپ چاہتے تھے، تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمانے لگے: ’’پاکستان بننے سے پہلے مَیں ایک دکان سے سودا سلف خرید رہا تھا کہ ایک انگریز حوالدار بھی سگریٹ لینے کے لئے آیا، انگریز حوالدار تھوڑا توتلہ تھا، اس نے دکاندار سے کہا کہ مجھے ایک پیکٹ سس سس سس سگریٹ دو، تو دکاندار بھی توتلہ بولتا تھا، اُس نے آگے سے حوالدار سے پوچھا کہ کک کک کک کون سے س س س سگریٹ؟۔۔۔ مقامی دکاندار کا توتلی زبان میں جواب سُن کر انگریز حوالدار نے سمجھا کہ یہ دکاندار اس کی نقل اتار رہا ہے، تو انگریز حوالدار نے اس دیسی دکاندار کو ایک زور دار تھپڑ رسید کر دیا، اس کے بعد وہ انگریز حوالدار تھانے چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم دو تین وقوعہ کے چشم دید گواہان کو ساتھ لے کر تھانے چلے گئے اور جا کر انگریز اے ایس پی کو سارا ماجرا سنایا، تو اُس انگریز پولیس آفیسر نے اس حوالدار کو بلایا اور دکاندار کو کہا کہ تم حوالدار کے چہرے پر دو تھپڑ رسید کرو،دکاندار نے حوالدار کے چہرے پر دو تھپڑ زور زور سے رسید کئے، پھر انگریز پولیس آفیسر نے دکاندار سے پوچھا کہ آپ کو انصاف مل گیا ہے کہ نہیں، تو دکاندار نے کہا کہ مجھے انصاف مل گیا ہے‘‘۔ مَیں ماموں جان کی بات سُن کر انگشت بدنداں رہ گیا اور سوچنے لگا کہ کیا اس طرح کا انصاف آج کے دور میں ممکن ہے ؟ نسرین بی بی کے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے مَیں عدالت میں پٹیشن دائر کر دی ہے، انشا اللہ مَیں نسرین بی بی کے ملزمان کو سزا دلوانے کے لئے اپنی پوری کوشش کروں گا، کیونکہ یہ مجھ پر فرض بھی ہے۔

مزید :

کالم -