لاہور کی ایک اَور شخصیت: ڈاکٹرشجاع ناموس!

لاہور کی ایک اَور شخصیت: ڈاکٹرشجاع ناموس!
لاہور کی ایک اَور شخصیت: ڈاکٹرشجاع ناموس!

  

لاہور کی بعض عجیب و غریب شخصیتوں پر دو چار کالم لکھے، تو میرے قدردان، مہربان اور کالم ’’بادِ شمال‘‘ کے مستقل قاری، قلم کار جنابِ افتخار مجاز نے خط لکھ کر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ لاہور میں ایک شجاع ناموس بھی تھے، وہ کیوں آپ کے قلمِ گوہر رقم کی زد میں آنے سے رہ گئے؟۔۔۔ تو لیجئے مجاز صاحب! حقیقت مُلاحظہ ہو:

ڈاکٹر ایم ایس ناموس، یعنی ڈاکٹر محمد شجاع ناموس ممتاز ماہر تعلیم تھے، مورخ تھے، شاعر تھے، ادیب تھے، دانشور تھے، شناّ زبان کے خصوصی ماہر اور اُردو، فارسی، انگریزی، عربی، ہندی، سندھی، سنسکرت، سرائیکی اور پنجابی زبانوں پر عبور رکھنے والے بہت بڑے سکالر تھے۔ مختلف مضامین اور زبانوں میں لگ بھگ ڈیڑھ درجن ایم اے ، ایم ایس سی کی ڈگریوں کے حامل تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ایم اے اُردو کیا۔ بابائے اُردو پنجاب ڈاکٹر سید محمد عبداللہ کے قدموں میں ایک مؤدب ومہذب شاگرد کے طور پر اورینٹل کالج میں بیٹھتے تھے۔ ایم اے اُردو فسٹ کلاس میں کرنے کے بعد آخری بار ایم اے پنجاب یونیورسٹی سے پنجابی میں کیا۔ غالباً پہلا ہی پنجابی کا سیشن تھا، موصوف کی عمر اُس وقت ستر پچھتر سال سے کم کیا رہی ہو گی۔۔۔؟ یہ تو تھا معاملہ ڈگریوں کے حصول کا۔ وہ پی ایچ ڈی بھی کئے ہوئے تھے۔ صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں پروفیسر آف سائنس رہے، پھر وائس پرنسپل اور پرنسپل بھی متعدد کالجوں کے علاوہ پبلک سکول پشاور کے بھی پرنسپل رہے۔ آخری دور میں اسماعیل کالج بھکر ]بعد ازاں گورنمنٹ کالج بھکر[ کے پرنسپل تھے ۔ اس کالج کی پرنسپلی کے زمانے میں انہوں نے کالج کی بیرونی دیوار پر ایک بہت بڑا سائن بورڈ آویزاں کرایا، جس میں عہدے کے ساتھ تمام ایم اے ، ایم ایس سی کی ڈگریوں کی تفصیل بھی درج تھی۔ گیٹ کے باہر پیپل کا ایک قدیم درخت بھی تھا، جس کی چھتر چھاؤں تلے رہروانِ منزل ذرا دیر کو سَستاتے تو بورڈ پر بھی نظر پڑ جاتی اور خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی دُم بخود حیرت زدہ رہ جاتے کہ اُن سے پہلے اس قسم کی ڈگریوں کی حامل شخصیت علامہ مشرقی ہی کی تھی۔ پاکستان میں کوئی اور تیسرا اِن دونوں عجیب و غریب شخصیتوں کا ہمسرو ہم قبیل نہ تھا۔ چھتنار درخت کی شاخیں جب حد سے بڑھ گئیں اور سائن بورڈ کی جلی عبارت کو یعنی ڈاکٹر ناموس پرنسپل کالج کی ڈگریوں کو بھی انہوں نے چھپا لیا، تو ڈاکٹر صاحب کی ایک دن نظر پڑی اور پیپل کے قدیم ترین درخت کی شامت آ گئی کہ انہیں اس کی یہ گستاخی ایک آنکھ نہ بھائی کہ وہ اُن کی ڈگریوں کی تفصیل کو نمایاں نہ ہونے دے۔ چنانچہ حکم صادر کِیا گیا کہ درخت جڑ سے ہی کٹوا دیاجائے۔ مالی، چپڑاسی اور چھوٹے عملے نے تو تعمیلِ ارشاد کر دی، مگر پرائیویٹ کالج کی مقتدر انتظامیہ نے اس خطا پر، پرنسپل صاحب کا پتہ ہی مستقل طور پر کالج سے کاٹ دیا۔ گویا: وہ شاخ ہی نہ رہی، جس پہ آشیانہ تھا۔ ڈاکٹر ناموس صاحب بصد حِرماں ویاس اپنے شہر لاہور کو مراجعت کر گئے۔

مَیں اُن دِنوں لاہور کے ادبی لیجنڈ ماہنامہ ’’ادبِ لطیف‘‘ کا ایڈیٹر تھا اور میرا دفتر اس قسم کے بزرگوں کی آخری پناہ گاہ۔ ڈاکٹر ناموس صاحب بھی ازراہِ لطف و کرم مجھے شرفِ ملاقات بخشا کرتے تھے، سردی گرمی اوپر سے نیچے تک لمبا چوغا نما فرغل، سر پر مرزا غالب کی سی لمبی چوگوشی ٹوپی، چی گویرا جیسی داڑھی، سرخ خضاب، یا مہندی وسمہ سے رنگی ہوئی۔کبھی کبھی تو وہ سفاری سوٹ میں فیڈل کاسترو لگتے تھے۔ گھنٹوں بیٹھتے، چائے کے دَور پر دَور چلتے اور ایران میں اپنے قیام کے نوجوانی کے قِصّے مزے لے لے کر سناتے، مَیں ابھی شادی شدہ نہیں ہُوا تھا، اس لئے چسکے لے کے سنتا اور داستان گو کا بھرپور ساتھ دیتا اگرچہ میرے رومانی معاملات بھی چلتے ہی چلے آ رہے تھے اَور بقول شخصے اُن دِنوں مَیں راجہ اِندر بنا ہُوا تھا بقول شخصے کیوں؟۔۔۔ شکیل عادل زادہ نے اپنے مشہورِ زمانہ ’’ سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ کے اداریے میں تو یہ تک لکھا تھا:’’ایک مہینے پہلے کی بات ہے۔ مَیں اور حسن ہاشمی لاہور میں اپنے ایک خوب رُو ادیب اور شاعر دوست کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمارے بیٹھے بیٹھے اس کے پاس کئی چہکتی ہوئی لڑکیاں آئیں، ہم ٹُک اُنکے چہرے دیکھا کئے۔ الامان وہ بے ساختگی، وہ اظہار، وہ تازگی اور لطافت۔ آنکھیں ترس گئی تھیں۔ دیکھا تو دیکھتے رہ گئے۔ ایک صاحبہ کے لہجے کا ترنم تو ابھی تک ہمارے رگ وپے میں موجود ہے۔ اُنہیں دیکھ کے احساس ہُوا کہ زندگی کے کتنے رنگ ہیں اور ہم نے کیا نقصان اٹھایا ہے۔ مَیں نے اپنے خوب رُو دوست سے کہا ’’اب سنبھل کے بیٹھو ہم بھی ایک ادبی پرچہ نکالیں گے اور ایسے چہروں سے تمہیں خوب جلایا کریں گے۔ ہم لاہور آئیں گے اور تمہارے رسالے کے سامنے ادب کی دُکان کھولیں گے۔ ہم بھی چہرے مُہرے سے اتنے بُرے تو نہیں‘‘۔]سب رنگ ڈائجسٹ نومبر1974ء[

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

جب ڈاکٹر شجاع ناموس اور ڈاکٹر سلیم واحد سلیم جیسے بزرگ مجھے نہ گھیرے ہوئے ہوتے تو عملاً راجہ اِندر بنے رہنے کے وقفے میں ان دونوں ڈاکٹروں کے عہدِ جوانی کے قِصے سمندِ شوق کو تازیانہ ہوتے اور جرأتِ عاشقانہ کو مہمیز کا کام دیتے۔ ڈاکٹر ناموس کے ایران میں قیام کا دَور وہ تھا جب شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی اور اُن کی حُسنِ جہاں سوز کی مالک، ملکہ کا ڈنکا ہر طرف بج رہا تھا۔ ایران کے تذکرے میں ڈاکٹر ناموس بتاتے کہ وہ اکثر ’’لینڈ لیڈی‘‘ اپنی مرضی کی پسند کر کے ’’پئینگ گیسٹ‘‘ ’’Paying Guest‘‘ بنتے رہتے تھے اور بار بار ’’لینڈ لیڈی‘‘ بدلنے کی وجہ تسمیہ ہر جملے کے بعد ’’خانم مفت‘‘ کی تکرار تھی، جو معصوم سامع کو ایران جانے اور پئینگ گیسٹ بننے پر اُکساتی اور اشتہا کو بڑھاتی تھی۔۔۔ ڈاکٹر ناموس جھوٹ نہیں بولتے ہوں گے کہ شاہِ ایران کے اُس دَور کے امریکہ زدہ، مادر پدر آزاد ماحول کو حضرت امام خمینیؓ کے انقلاب نے ہی یکسر بدلا تھا۔ اب ایران وہ ایران نہیں ہے، جس کا ہوش رُبا ذکر سُن کر مَیں بذات خود اندر سے منفعل سا رہتا تھا۔ بہرحال بقول اقبال:

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے

قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

ڈاکٹر شجاع ناموس بے حد پڑھے لکھے زندہ دل، خوش مزاج شخص تھے، مگر اُن کے پڑوسی انہیں نجانے کیوں ’’شجاع منحوس‘‘ کہہ کر خوش ہوتے۔ وہ سمن آباد میں پکی ٹھٹھی کے قریب فارسی کے سکالر اور اُردو فارسی کے صاحبِ فن شاعر پروفیسر محی الدین خلوت کے قرب و جوار میں رہتے تھے۔ تھوڑے سے فاصلے پر جناب قتیل شفائی اور جناب احمد ندیم قاسمی بھی تھے، مگر ان معتبر شاعروں کا تاثر ڈاکٹر ناموس کے بارے میں اُن کے پڑوسیوں جیسا ہر گز نہ تھا۔۔۔!ڈاکٹر شجاع ناموس کا محض ایک شعری مجموعہ بانگِ درا سائز پر ’’صبح ازل‘‘ کے نام سے چھپا تھا، جو ڈاکٹر صاحب نے اپنے دستخطوں کے ساتھ مجھے عنایت کیا تھا ان کی ایک اور کتاب’’سفر نامۂ حج و حرمین‘‘ ہے جو میری ذاتی لائبریری کی زینت ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر شجاع ناموس کی مختلف النوع مطبوعہ کتب میں ’’رَزمِ حیات‘‘۔ گلگت اور شنا زبان۔’’ آزاد قوم کی تعمیر اور پاکستان‘‘۔ بزمِ فردوس] عالمِ برزخ میں مشاعرہ[۔ سرگزشتِ دہلی۔ کتابِ ایران] دو جلدیں[۔ مسلمانوں کی سائنسی خدمات۔عہدِ اسلامی میں سائنس اور فلسفے کی تحقیق۔ مغرب پر اسلام کے احسانات‘‘وغیرہ بھی ہیں۔

ڈاکٹر محمد شجاع ناموس گجرات میں1900ء میں پیدا ہوئے۔ عمر کا زیادہ حصہ لاہور میں کٹا اور 5فروری 1984ء کو وہ84 برس کی خاصی طویل عمر پا کر لاہور ہی میں رزقِ خاک ہوئے۔’’وفیاتِ مشاہیر‘‘ مطبوعہ اکادمی ادبیاتِ پاکستان اسلام آباد میں تاریخ وفات 4جنوری 1984ء درج ہے۔ تدفین مشہور قدیم قبرستان میانی صاحب میں ہوئی۔ لوحِ مزار پر یہ دُعائیہ شعر کندہ ہے:

ہمیشہ زندہ رہے خالقِ زمان و مکاں

مرا وطن، مری جاں سے عزیز پاکستاں

مَیں اُن دِنوں اسلام آباد میں ہفت ’’روزہ حرمت‘‘ اور مطبوعاتِ حرمت سے بطور ’’ایڈیٹر‘‘ منسلک تھا۔ بروقت اطلاع نہ ملنے کے سبب اپنے ممدوح بزرگ کی تدفین میں شرکت نہ کر سکا۔ آخر میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ڈاکٹر ناموس اپنے عُجب کے باوصف حضرت علامہ اقبال ؒ سے فیض یافتہ اور اُن کے مکتوب الیہہ بھی تھے۔۔۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

مزید : کالم