آخر کار اُردو کو اس کا ’’آئینی حق‘‘ مل گیا

آخر کار اُردو کو اس کا ’’آئینی حق‘‘ مل گیا

سپریم کورٹ نے بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پراُردو کو بطور سرکاری زبان نافذ کرنے کا حکم دے دیا۔ منگل کو چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے سے متعلق مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ 26 اگست2015 ء کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔ملک میں اُردو زبان کو بطور قومی زبان رائج کرنے کے لئے ایڈووکیٹ کوکب اقبال اورمحمود اخترنقوی نے الگ الگ درخواستیں دائرکر رکھی تھیں، لیکن نوعیت ایک ہونے کے باعث ان کی اکٹھی سماعتیں کی گئیں۔ درخواست گزاروں نے موقف اپنایا تھا کہ ریاست جان بوجھ کرآئین کے آرٹیکل 251کے نفاذ سے گریزاں ہے، جس کی وجہ سے معاشرے میں ایک ایسی معاشرتی اور لسانی تفریق پیدا ہو رہی ہے، جو نہ صرف معاشرتی استحکام کے قیام کی راہ میں حائل ہے، بلکہ معاشرتی نفاق بھی پیدا کر رہی ہے۔

آئین کا آرٹیکل 251کچھ اس طرح ہے: (1) اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور آغاز سے پندرہ برس کے اندر اندر یہ انتظام کیا جائے گا کہ اس کو سرکاری و دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔(2) دفعہ (۱) کے اندر رہتے ہوئے انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری زبان کے طور پر استعمال کی جائے گی جب تک اس کے انتظامات نہیں کئے جاتے کہ اس کی جگہ اُردو لے لے۔ (3) قومی زبان کے مرتبے پر اثر انداز ہوئے بغیرصوبائی اسمبلی بذریعہ قانون ایسے انتظامات کر سکتی ہے، جس کے ذریعے صوبائی زبان کے فروغ، تدریس اور قومی زبان کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال کا بندوبست کیا جا سکے۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں آئین کے تقاضے پورے کرنے پر زور دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 5 کا حوالہ بھی دیا گیا، جس کے مطابق آئین کی پابندی ہر شہری کا لازمی و بلا استثنا فریضہ ہے۔

تفصیلی فیصلے میں ادارہ فروغ قومی زبان کی طرف سے 1981ء میں عدالت میں جمع کرائی گئی سفارشات کو بھی شامل کیا گیا نیزرواں برس6 جولائی کو حکومت نے اُردو زبان کو سرکاری و دیگرمقاصدکے لئے اُردو زبان کے استعمال سے متعلق انتظامات کے سلسلے میں جاری کئے گئے مراسلے پر عملدرآمد بھی لازمی قرار دیا گیا۔حکومت کی طرف سے ارسال کئے گئے اس مراسلے میں ہدایات دی گئی تھیں کہ وفاق کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام ادارے (سرکاری و نیم سرکاری) اپنی پالیسیوں اور قوانین کا تین ماہ کے اندر اُردو ترجمہ شائع کریں۔تمام سرکاری و نیم سرکاری وفاقی ادارے ہر طرح کے فارم تین ماہ میں انگریزی کے ساتھ ساتھ اُردو میں بھی فراہم کریں، اپنی ویب سائٹ اُردو میں منتقل کریں۔اس کے علاوہ تمام تین ماہ کے اندر عوامی اہمیت کی جگہوں مثلاً عدالتوں، تھانوں، ہسپتالوں، پارکوں، تعلیمی اداروں، بینکوں وغیرہ میں رہنمائی کے لیے لگائے گئے بورڈ انگریزی کے ساتھ اُردو میں بھی آویزاں کئے جائیں، پاسپورٹ آفس، محکمہ انکم ٹیکس، اے جی پی آر، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، واپڈا، سوئی گیس، الیکشن کمیشن آف پاکستان، ڈرائیونگ لائسنس اور یوٹیلٹی بلوں سمیت تمام دستاویزات تین ماہ میں اُردو میں فراہم کی جائیں، ساتھ ہی پاسپورٹ کے تمام اندراجات بھی انگریزی کے ساتھ اُردو میں بھی لکھے جائیں،چھوٹی بڑی شاہراہوں کے کناروں پر رہنمائی والے سائن بورڈ بھی انگریزی کے ساتھ اُردو میں نصب کیے جائیں۔ صدر مملکت، وزیر اعظم اور تمام وفاقی سرکاری نمائندے اور افسر مُلک کے اندر اور باہرتقاریر اُردو میں کریں اوراُردو کے نفاذ و ترویج کے سلسلے میں ادارہ فروغِ قومی زبان کو مرکزی حیثیت دی جائے۔

آئین کے حوالے سے اگر دیکھا جائے ،تو اُردو کے بطور سرکاری زبان نفاذکو یقینی بنانے کی مدت 1988ء میں پوری ہو چکی تھی، لیکن 42 سال گزر جانے کے باوجود اِس سلسلے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں کی گئی۔اس سب کے تناظر میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ دستور کے لازمی تقاضے سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا ،عشروں پر پھیلی حکومت کی بے عملی کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت کے پاس یہ احکامات جاری کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ فیصلے میں جو9احکامات دیئے گئے وہ مختصر کچھ یوں ہیں۔

(1)آرٹیکل251 کے احکامات کو بلا غیر ضروری تاخیر فوراً نافذ کیا جائے۔

(2) جو میعاد 6 جولائی کے مراسلے میں مقرر کی گئی ، جسے خود حکومت نے مقرر کیا اس کی ہر حال میں پابندی کی جائے جیسا کہ اس عدالت کے رو برو عہد کیا گیا ہے۔

(3) قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔

(4)تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ کر لیا جائے۔

(5) بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے اور باہمی ربط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس دفعہ کا نفاذ یقینی بنائیں۔

(6)وفاقی سطح پر مقابلہ کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی اداروں کی بالا سفارشات پر عمل کیا جائے۔

(7) ان عدالتی فیصلوں کا، جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں یا جو آرٹیکل 189کے تحت اصولِ قانون کی وضاحت کرتے ہوں، ان کالازماً اُردو میں ترجمہ کروایا جائے۔

(8) عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتیٰ الامکان اُردو میں پیش کریں تا کہ شہری اس قابل ہو سکیں کہ وہ موثرثر طریقے سے اپنے قانونی حقوق نافذ کروا سکیں۔

(9) اس فیصلے کے اجراء کے بعد، اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہلکارآرٹیکل251 کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا، تو جس شہری کو بھی اس خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا، اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہو گا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس فیصلے کے جاری ہوتے ہی سب سے پہلے امریکی سفارت خانے نے اُردو میں اپنی ویب سائٹ کا اجراء کر دیا۔پاکستان میں تو1948ء ہی سے اُردو کو سرکاری زبان قرار دینے پر زور دیا جا تا رہا، اِس سلسلے میں پہلی دستور ساز اسمبلی نے باقاعدہ قرارداد منظو کی تھی، اور اِسی کے تحت قائداعظمؒ نے اُردو کے حق میں واضح موقف اختیار کیا تھا، ہم انگریزی زبان کے ہاتھوں یرغمال بنے رہے۔دُنیا بھر میں قومی امور چلانے کے لئے اپنی قومی زبان ہی کو ترجیح دی جاتی ہے،بیشتر یورپی ممالک ایسے ہیں جہاں انگریزی سمجھی جاتی ہے نہ ہی بولی جاتی ہے، وہاں زندگی گزارنے کے لئے ان کی زبان ہی سیکھنا پڑتی ہے،لیکن ہمارے ہاں معاملہ الٹ ہے، جو اُردو زبان کو ’ترجیح ‘ دیتا ہے اسے دقیانوسی اور کم تعلیم یافتہ مانا جاتا ہے اور جسے اُردوپڑھنی اور بولنی نہیں آتی، جو انگریزی کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھتا ہے اسے ’ماڈرن‘ تصور کیا جاتا ہے۔ہمارے ہی ملک میں یہ رواج ہے کہ انگریزی اکثریت کی زبان نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے نظام کو جکڑے ہوئے ہے اور ہر سطح پردفتری زبان کے طور پر استعمال کی جاتی ہے ۔المیہ یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں انگریزی تعلیم بالکل عام نہیں ہے، جس کی وجہ سے کئی ہونہار اور قابل نوجوان انگریزی زبان سے ناواقفیت کی بنیاد پرترقی کی دوڑ میں کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بے شک انگریزی سیکھنے ، بولنے اور اس کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب بھی نہیں کہ اپنی قومی زبان کوبے یارو مددگار چھوڑ دیا جائے۔

اس میں تو کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے جاتے جاتے اُردو کے حق میں تاریخی فیصلہ دے دیا اور یقینااس کے پاکستان پر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اب حکومت وقت پر لازم ہے کہ وہ فیصلے کے نفاذ کے لئے مقررہ مدت میں تمام انتظامات مکمل کرے اور موثر اقدامات کرے تاکہ ہمارے معاشرے میں تپ دق کی طرح پھیلتے ہوئے معاشرتی و طبقاتی فرق کا علاج ہو سکے اور اُردوکو حقیقی معنوں میں اس کا حق مل جائے۔

مزید : اداریہ