بیرسٹر علی ظفر کا لائسنس معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف مذمتی قرار داد منظور

بیرسٹر علی ظفر کا لائسنس معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف مذمتی قرار داد منظور

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ بار ، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مشترکہ ا جلاس میں معروف قانون دان اورعاصمہ جہانگیر گروپ کی طرف سے سپریم کورٹ بار کے صدارتی امیدوار بیرسٹر علی ظفر کا وکالت کا لائسنس معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف متفقہ مذمتی قرار داد منظور کر لی گئی ، وکلاء تنظیموں کا کہنا ہے کہ بارکونسل کے علاوہ کسی ادارے کو وکیل کا لائسنس معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔اجلاس میں صدر ہائیکورٹ بار پیر مسعود چشتی، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان بار احسن بھون، نائب صدر سپریم کورٹ بار میاں شاہ عباس، سابق صدر سپریم کورٹ بار عاصمہ جہانگیر، سابق گورنر پنجاب سردار لطیف خان کھوسہ، سابق ہائیکورٹ بار احمد اویس سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،وکلاء رہنماؤں نے بیرسٹر علی ظفر کا لائسنس معطل کئے جانے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بیرسٹر علی ظفر کے لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ ذاتی رنجش اور عناد ہے۔، صدر ہائیکورٹ بار پیر محمد مسعود چشتی نے کہا کہ ایک سینئر وکیل اپنے سائل کے لئے بات کرتا ہے تو اس کی زبان بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے پاکستان بار کونسل سے مطالبہ کیا کہ وکلاء کے خلاف نا مناسب رویہ کی بناء پر جسٹس جواد ایس خواجہ کا عدلیہ سے واپسی پر وکالت کا لائسنس کسی صورت بحال نہ کیا جائے۔

قرار داد منظور

مزید : صفحہ آخر