ہندو قوم پرست حکومت نے ”گاﺅ ماتا“ کو بچانے کیلئے تمام حدیں عبور کر دی، تشہیری مہم میں قران کا حوالہ، مسلمانوں میں شدید غم و غصہ

ہندو قوم پرست حکومت نے ”گاﺅ ماتا“ کو بچانے کیلئے تمام حدیں عبور کر دی، ...
ہندو قوم پرست حکومت نے ”گاﺅ ماتا“ کو بچانے کیلئے تمام حدیں عبور کر دی، تشہیری مہم میں قران کا حوالہ، مسلمانوں میں شدید غم و غصہ

  

ممبئی (ویب ڈیسک)بھارت میں ہندوقوم پرست حکومت نے اپنے مقدس جانور گائے کو بچانے کیلئے تمام حدیں عبور کر لیں،بھارتی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں میونسپل کارپوریشن نے جین مت کے تہوار کے پیش نظر 8 روز کیلئے شہر بھر میں گوشت کی فروخت پر مکمل پابندی لگا دی ہے، اس دوران مرغی بکرے یا کسی پرندے کا بھی گوشت فروخت نہیں کیا جا سکے گا۔حکومت نے گجرات میں ایسے بورڈ بھی  آویزاں کر دیئے جن پر درج تحریر میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ قرآن میں بھی گائے کا گوشت کھانے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے ، بھارتی مسلمان رہنماﺅں نے ایسے تشہیری مہم کواسلام کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن میں کوئی آیت موجود نہیں جو مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے کے خلاف تنبیہ کرتی ہو۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات کی ہندوقوم پسند حکومت کی تشہری مہم انتہائی متنازعہ ہو گئی۔ ملک کی ہندو اکثریت کی طرف سے اپنے مقدس جانور گائے کے تحفظ کیلئے کی جانے والی متنازعہ کوشش کے بعد بھارتی مسلمان شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ریاست گجرات میں حکومت نے کئی مقامات پر تشہر کیلئے ایسے بل بورڈز لگا دیئے ہیں جن میں مبینہ طور پر یہ دعویٰ کیاگیا ہے کہ قرآن میں ایک آیت کی صورت میں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ گائے کا گوشت کھانے سے بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں ۔ برطانوی میڈیاکی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہندو انتہا پسند گروپ طویل عرصے سے یہ کوششیں کر رہے ہیں کہ گائے کا گوشت کھانے پر پورے ملک میں پابندی عائد کی جانی چاہیے کیونکہ گائے ہندوﺅں کیلئے ایک مقدس جانور ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ گجرات میں حکومت کی طرف سے جو اشتہاری مہم شروع کی گئی ہے اس میں ظاہری طور پر مسلمانوں کو اس مہم میں کیے گئے دعویٰ کا قائل کرنے کیلئے مسلمانوں کی مذہبی علامت ہلاک اور ستارے کو بھی استعمال کیا گیا ہے ۔ حکومت کی اس تشہری مہم پر اپنے سخت ردعمل کااظہار کرتے ہوئے احمد آباد کی مرکزی جامع مسجد کے ایک مذہبی رہنما شبیر عالم نے حکومت مہم کو اسلام کی توہین کے مترداف قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن میں کوئی آیت موجود نہیں جو مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے کے خلاف تنبیہ کرتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بل بورڈز بدامنی کی وجہ بن کر امن عامہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور یہ بات ہندوﺅں اور مسلمانوں کے آپ میں تعلقات کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے ۔

قبل ازیں نریندر مودی کی ”سنگھ سرکار“ کو خوش کرنے کیلئے مہاراشٹر حکومت ریاست بھر میں گائے کے ذبیحہ اور گوشت کی فروخت پر مکمل پابندی لگا چکی ہے جس پر فلمی ستاروں نے کڑی تنقید کی ہے۔ اداکارہ شتروگھن سنہا کی ہیروئن بیٹی سوناکشی سنہا نے ٹویٹر پر طنزاً ہندوستان کو ”بین استان“ قرار دے دیا اور کہا کہ ”بین استان“ میں خوش آمدید میرا مطلب بھارتی سٹوپڈ خودساختہ درست۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں جہالت یا غفلت پر پابندی کیوں نہیں ہے۔ آسام کے سیلاب متاثرین کا کیا ہوا ترجیحات طے کیے جائیں۔ بھارت میں آئے روز کی حکومتی پابندیوں پر اداکار انیل کپور کی بیٹی اداکارہ سونم کپور نے لکھا چند غیرروادار خواتین سے نفرت کرنے والے تنگ نظر لوگوں کی وجہ سے ہندوستان ہمیشہ تیسری دنیا میں ہی رہے گا۔

مزید : بین الاقوامی