ہائی کورٹ :ایل ڈی اے ایونیو ون کے لئے 7ہزار496کینال اراضی ایکوائرکرنے کا اقدام کالعدم

ہائی کورٹ :ایل ڈی اے ایونیو ون کے لئے 7ہزار496کینال اراضی ایکوائرکرنے کا اقدام ...
ہائی کورٹ :ایل ڈی اے ایونیو ون کے لئے 7ہزار496کینال اراضی ایکوائرکرنے کا اقدام کالعدم

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ نے ایل ڈی اے ایونیوون کے لئے7ہزار 496کینال اراضی حاصل کرنے کے اقدام کوغیرقانونی قرار دے کر کالعدم کردیا ہے ۔عدالت نے فیصلے میں قراردیا کہ کسی مالک کی رضامندی کے بغیر اس کی زمین زبردستی حاصل نہیں کی جاسکتی۔مسٹرجسٹس عبادالرحمن لودھی نے یہ فیصلہ پنجاب سول سیکرٹریٹ ایمپلائز کوآپریٹو ہاو ¿سنگ سوسائٹی، ای ایم ای ایمپلائز کوآپریٹو ہاو ¿سنگ سوسائٹی، پنجاب بورڈآف ریونیوایمپلائزکوآپریٹو ہاو ¿سنگ سوسائٹی، اسلامی ریسرچ سکالرز کوآپریٹو ہاو ¿سنگ سوسائٹی اورچنیوٹ کوآپریٹو ہاو ¿سنگ سوسائٹی کی جانب سے دائردرخواستوں پرجاری کیا ۔درخواست گزاروں کے وکلاءنے موقف اختیارکیا کہ ان سوسائٹیوں کے عہدیداروں نے ممبران کے لئے زمین خریدی۔رہائشی سکیم کی منظوری کے لئے ایل ڈی اے کودرخواست دی۔ایل ڈی اے نے درخواست منظورکرنے کی بجائے 2003ءمیں یہ زمین مالکان کی مرضی کے بغیرایل ڈی اے ایونیو ون کے لئے ایکوائرکرلی۔انہوں نے استدعا کی کہ ایکوائر کی گئی زمین کوغیرقانونی قراردے کرکالعدم کیاجائے۔ عدالت میں ایل ڈی اے کی جانب سے خواجہ حارث نے کہا کہ زمین ایکوائرکرنے کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں۔عدالت نے فریقین کے وکلاءکے دلائل سننے کے بعداراضی کے ایکوائرکاعمل غیرقانونی قراردے دیا۔ جسٹس عبادالرحمن لودھی نے فیصلے میں قراردیا کہ زمین ایکوائر کرتے وقت لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی اور قانونی تقاضے پورے کئے بغیرحاصل کی گئی ۔ایک ہاﺅسنگ سکیم کے لئے خریدی گئی زمین کو مالکان کی مرضی کے بغیر ایکوائر نہیں کیا جاسکتا ۔

مزید : لاہور