ایران میں ایک جج نے مجرموں کو جیل بھیجنے کی بجائے انوکھی ترین سزا دینا شروع کر دی، ایسی سزا کہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے

ایران میں ایک جج نے مجرموں کو جیل بھیجنے کی بجائے انوکھی ترین سزا دینا شروع ...
ایران میں ایک جج نے مجرموں کو جیل بھیجنے کی بجائے انوکھی ترین سزا دینا شروع کر دی، ایسی سزا کہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے

  

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)ہم نے عدالتوں سے مجرموں کو قید، جرمانے و دیگر سزائیں ہوتی تو بہت دیکھی اور سنی ہیں لیکن ایران کی ایک عدالت نے مجرموں کو ایسی انوکھی سزا دینی شروع کر دی ہے کہ دنیا بھر کے ملزمان چاہیں گے کہ ان کے کیس اسی عدالت میں سنے جائیں۔ایران کے شمال مشرقی شہر گوباندے کیبوس کی ایک عدالت کے جج قاسم نقی زادہ نے مجرموں کو روایتی سزاﺅں کی بجائے کتابیں خریدنے اور پڑھنے کی سزا دینی شروع کر دی ہے۔

قاسم نقی زادہ مجرموں کو 5کتابیں خرید کر پڑھنے کی سزا دیتے ہیں اور پھر انہیں ان کتابوں کی سمری لکھ کر پیش کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اس کے بعد مجرم کی خریدی گئی کتابیں مقامی جیل کو عطیہ کر دی جاتی ہیں۔قاسم نقی زادہ کا کہنا ہے کہ قید کی سزا سے مجرموں اور ان کے خاندانوں پر گہرے منفی جسمانی و نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو زندگی بھر ان کے ذہنوں پر حاوی ہوتے ہیں اور کبھی ختم نہیں ہو پاتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سزا روحانی ہونے کے ساتھ ساتھ مجرموں کی تعلیم و تربیت کا بھی باعث بنتی ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں حال ہی میں ایسا قانون منظور کیا گیا ہے جس کے تحت ججوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ بعض کیسز میں مجرموں کو اپنی مرضی سے متبادل سزائیں دے سکتے ہیں۔قاسم نقی زادہ نے اب تک جن مجرموں کو کتابیں پڑھنے کی سزا دی ہے ان میں چھوٹے جرائم میں ملوث لوگ، 20سال سے کم عمر کے مجرم اور ایسے مجرم شامل ہیں جن کا کوئی سابق مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور وہ پہلی بار جرم کے مرتکب ہوئے تھے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس