’میں ساحل سمندر پر چہل قدرمی کررہی تھی کہ اچانک ٹانگوں میں عجیب سے توانائی محسوس ہوئی، پیروں کے نیچے دیکھا تو۔۔۔‘ چلتے چلتے خاتون نے ایسی چیز ڈھونڈلی کہ سائنسدان بھی دنگ رہ گئے

’میں ساحل سمندر پر چہل قدرمی کررہی تھی کہ اچانک ٹانگوں میں عجیب سے توانائی ...
’میں ساحل سمندر پر چہل قدرمی کررہی تھی کہ اچانک ٹانگوں میں عجیب سے توانائی محسوس ہوئی، پیروں کے نیچے دیکھا تو۔۔۔‘ چلتے چلتے خاتون نے ایسی چیز ڈھونڈلی کہ سائنسدان بھی دنگ رہ گئے

  

سڈنی (نیوز ڈیسک) آسٹریلیا میں ساحل سمندر پر گھونگے تلاش کرتی ایک خاتون کو کرہ زمین پر کروڑوں سال قبل پائے جانے والے ایسے جانور کے پنجوں کے نشانات مل گئے کہ دنیا بھر کے سائنسدان بھی انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں۔

میل آن لائن آسٹریلیا سے بات کرتے ہوئے بنڈی لی پورتھ نامی خاتون نے بتایا کہ وہ بروم کیبل ساحل پر گھونگے تلاش کرنے کے لئے اپنی بیٹی کے ساتھ چہل قدمی کررہی تھیں کہ اچانک انہیں اپنے قدموں کے نیچے توانائی کی لہروں کا احساس ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے پیروں کے نیچے موجود ریت کو ہٹانا شروع کردیا اور پھر وہ نشانات دیکھ کر ان کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا کہ جن کے بارے میں انہوں نے صرف کتابوں میں پڑھا تھا یا فلموں میں دیکھا تھا۔ بنڈی نے بتایا کہ انہیں یہ نشانات دیکھتے ہی اندازہ ہوگیا کہ یہ ڈائنوسار کے پنجوں کے نشان ہیں کیونکہ انہوں نے مختلف تصاویر میں یہ نشانات دیکھ رکھے تھے۔ انہوں نے اس دریافت کے متعلق ماہرین سے رابطہ کیا تو کھدائی کے کام کو مزید وسعت دی گئی اور مزید کئی نشانات دریافت کرلئے گئے۔

مچھیرے کو مچھلی پکڑتے پکڑتے ایسی چیز مل گئی کہ پل بھر میں زندگی ہی بدل گئی، 10 ارب روپے کی یہ کیا چیز تھی؟ دیکھ کر آپ بھی کہیں گے قسمت ہو تو ایسی

آثار قدیمہ پر تحقیق کرنے والے سائنسدان سٹیون سیلسبری،جن کا تعلق یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ سے ہے، نے بتایا کہ یہ غالباً تھیروپوڈ ڈائینوسار کے پنجے کے نشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈائینوسار تقریباً 15 کروڑ سال قبل کرہ ارض پر پایا جاتا تھا۔ اس کی بلندی تقریباً 6فٹ اور لمبائی تقریباً 15 فٹ ہوا کرتی تھی۔

ڈاکٹر سٹیون کا کہنا تھا کہ ڈائینوسار کے پنجوں کے نشانات کروڑوں سال قبل ہی فوسلز میں تبدیل ہوکر پتھریلی شکل اختیار کرگئے اور پھر رفتہ رفتہ ان پر مٹی اور ریت کی تہیں جمع ہوتی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ جب زمین کی اوپری پرت ہٹتی چلی گئی اور سمندر کا پانی آہستہ آہستہ ریت کو اپنے ساتھ بہا لے گیا تو یہ نشان ایک بار پھر سطح پر نظر آنے لگے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -