بیٹا فروخت کرنے والے درندے نے احتجاج پر بیوی قتل کردی

بیٹا فروخت کرنے والے درندے نے احتجاج پر بیوی قتل کردی
بیٹا فروخت کرنے والے درندے نے احتجاج پر بیوی قتل کردی

  


قصور (ویب ڈیسک) اپنے ہی لخت جگر کو فروخت کرنے والے درندہ صفت خاوند نے احتجاج کرنے والی بیوی کو گرم استری لگا کر اس کا سارا جسم جھلسادیا، جسلم جھلسنے اور کرنٹ لگنے کے باعث تین بچوں کی ماں تڑپ تڑپ کر ہلاک ہوگئی۔

روزنامہ خبریں کے مطابق نواحی گاﺅں پانڈوکی کے محمد اسلم نے پولیس کو بتایا کہ اس کی بیٹی نصرت بی بی کی شادی چار سال قبل امیر کالونی مصطفی آباد کے محمد صفدر کے ساتھ ہوئی تھی جن کے ہاں ایک بیٹی کی ولادت ہوئی، چند روز قبل نصرت بی بی کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تو محمد صفدر جو بری شہرت رکھتا ہے نے اپنے نومولود بیٹے کو ایک رشتے دار کو فروخت کردیا جس پر نصرت بی بی سراپا احتجاج بن گئی اور ہر وقت اصرار کرتی کہ اس کے بیٹے کو واپس لایا جائے جس پر محمد صفدر اور دوسرے سسرالی رشتہ دار نصرت بی بی کو تشدد کا نشانہ بناتے مگر بیٹے کی جدائی میں نصرت بی بی کے آنسو خشک ہونے کا نام نہیں لیتے تھے۔ یہ صورتحال دیکھ کر سسرالیوں کے جبر میں مزید اضافہ ہوا اور انہوں نے استری سے نصرت بی بی کے جسم کو جلانا شروع کردیا جسم کے مختلف حصے جل جانے کے باوجود روتی بلکتی ممتا بیٹے سے ملنے کا تقاضا کرتی رہی۔

60 سالہ جعلی پیر کی 7ویں جماعت کی طالبہ سے زیادتی، حاملہ ہوگئی

جب نصرت کے جسم کے اکثر حصے جل گئے اور وہ پھر بھی بیٹے کو لانے کی دہائی دیتی رہی تو محمد صفر وغیرہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے کرنٹ لگا کر نصرت بی بی کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ نصرت کی ہلاکت پر صفدر وغیرہ نے اپنے سسر کو اطلاع کی کہ نصرت بی بی کی طبعی موت ہوگئی ہے آپ جنازے میں شرکت کیلئے آجائیں۔ جب نصرت کا والد اور دوسرے رشتہ دار موقع پر آئے اور انہیں نصرت کی ہلاکت پر شک گزرا تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو اپنے گاﺅں میں دفن کرنا چاہتے ہیں جنازہ لے کر گاڑی پر جب وہ پانڈو کی پہنچے اور نعش کو غسل دینے لگے تو نصرت کا سارا جسم جلا ہوا تھا۔ یہ صورتحال دیکھ کر نصرت کے ورثاءاس کی نعش لے کر تھانہ مصطفی آباد آگئے۔

پولیس نے نصرت کے بدقسمت والد کی رپورٹ پر مقدمہ درج کرکے دو ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ پوسٹ مارٹم کے بعد بیٹے کو ملنے کیلئے ترستی ہوئی موت کی نیند ہوجانے والی نصرت بی بی کی نعش ورثاءکے حوالے کردی گئی جسے پانڈوکی میں سپردخاک کردیا گیا۔

مزید : قصور