’مجھے 7 سال تک تابوت میں بند کر کے رکھا گیا جس سے صرف ریپ کرنے کے لئے نکالا جاتا تھا‘

’مجھے 7 سال تک تابوت میں بند کر کے رکھا گیا جس سے صرف ریپ کرنے کے لئے نکالا ...
’مجھے 7 سال تک تابوت میں بند کر کے رکھا گیا جس سے صرف ریپ کرنے کے لئے نکالا جاتا تھا‘

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) 1977ءسے 1984ءتک اغواءکاروں کے چنگل میں رہنے اور جنسی زیادتی کا شکار بننے والی خاتون اب اپنی اندوہناک کہانی دنیا کے سامنے لے آئی ہے جسے سن کر آپ پر بھی وحشت طاری ہو جائے گی۔ برطانوی اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق 1977ءمیں کولین سٹین نامی اس خاتون کی عمر اس وقت 20سال تھی جب اس نے سڑک کنارے ایک گاڑی سے لفٹ مانگی۔ گاڑی میں کیمرون اور جینائس نامی میاں بیوی سوار تھے اور ان کے ساتھ ان کا ایک بچہ بھی تھا۔ کولین کا کہنا ہے کہ ”میں نے میاں بیوی کو بچے سمیت دیکھ کر قابل اعتبار سمجھا اور ان کی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد کیمرون نے ویرانے میں پہنچ کر گاڑی اچانک ایک طرف کھڑی کی اور چاقو نکال لیا۔ اس نے مجھے قتل کرنے کی دھمکی دے کر خاموش رہنے کو کہا اور میرے ہاتھ پاﺅں باندھ دیئے اور میرے منہ پر بھی پٹی باندھ دی تاکہ میں بول نہ سکوں۔ اس کے بعد اس نے میرے سر پر لکڑی کا ڈبہ رکھ دیا۔ میں سمجھی کہ وہ مجھے قتل کرنے جا رہا ہے۔ اس کے بعد گاڑی نے دوبارہ سفر شروع کر دیا اور وہ مجھے کیلیفورنیا کے شہر ریڈ بلف میں واقع اپنے گھر لے گئے اور ایک تابوت میں بند کر دیا۔ اب میری زندگی کے سخت دن شروع ہو گئے تھے۔ کیمرون مجھے صرف اس وقت تابوت سے نکالتا تھا جب اس نے مجھے جنسی زیادتی کا شکار بنانا ہوتا۔ اس کے بعد وہ دوبارہ مجھے تابوت میں ڈال کر اسے اپنے بیڈ کے نیچے دھکیل دیتا۔

نوجوان لڑکی کا شہر کی سڑکوں پر برہنہ گشت، ایک آدمی نے جسم پر کپڑا ڈالنے کی کوشش کی تو اس نے ایسی بات کہہ دی کہ وہ بھی دم بخود رہ گیا

اس دوران مجھے انتہائی کم کھانا دیا جاتا۔ کیمرون مجھ پر تشدد بھی بہت زیادہ کرتا تھا۔ پھر اگست 1984ءمیں 7سال کی اذیت ناک زندگی کے بعد کیمرون کی بیوی جینائس کی مدد سے میں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئی۔“ رپورٹ کے مطابق بعدازاں جینائس نے کولین کے اغواءکے مقدمے میں عدالت میں اپنے شوہر کے خلاف گواہی بھی دی۔ گواہی دینے پر عدالت نے جینائس کو جرم میں شراکت داری سے استثنیٰ دے دیا اور کیمرون کو 104سال قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا۔ کولین سٹین کی ساتھ پیش آنے والے واقعے پر اب ”گرل ان دی باکس“ کے نام سے فلم بھی بن چکی ہے جس کا پریمیئر ہفتے کے روز امریکہ میں جاری کیا جائے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس