افغانستان میں اغواءشدہ مغربی شہریوں کی بازیابی کیلئے امریکی فوج کا ا ٓپریشن، پوری رات گولیاں چلانے کے بعد بالآخر مکان میں داخل ہوئے تو ایسا منظر کہ دیکھ کر ہوش اُڑگئے، پوری دنیا کے سامنے شرمندہ ہوگئے

افغانستان میں اغواءشدہ مغربی شہریوں کی بازیابی کیلئے امریکی فوج کا ا ...
افغانستان میں اغواءشدہ مغربی شہریوں کی بازیابی کیلئے امریکی فوج کا ا ٓپریشن، پوری رات گولیاں چلانے کے بعد بالآخر مکان میں داخل ہوئے تو ایسا منظر کہ دیکھ کر ہوش اُڑگئے، پوری دنیا کے سامنے شرمندہ ہوگئے

  

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) حال ہی میں افغان دارالحکومت میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والی امریکن یونیورسٹی کے دو غیر ملکی پروفیسروں کو گزشتہ ماہ اغوا کرلیا گیا تھا، جن کی رہائی کے لئے امریکی کمانڈوز کی حیرتناک ناکام کوشش کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں۔

این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اغواءہونے والے پروفیسروں میں سے ایک امریکی اور دوسرا آسٹریلوی ہے۔ انہیں 7اگست کو اغواءکیا گیا تاہم کسی گروپ نے بھی ان کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی فوج کی جانب سے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کو ایک درخواست بھیجی گئی جس میں اغواءشدہ پروفیسروں کی بازیابی کے لئے افغانستان کے ایک علاقے میں حملہ کرنے کی اجازت مانگی گئی۔ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے یہ درخواست کچھ تحفظات کے ساتھ واپس کردی گئی لیکن اگلے ہی دن دوبارہ درخواست وائٹ ہاﺅس بھیج دی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان دنوں امریکی صدر باراک اوباما چھٹی پر تھے لہٰذا فوج کو پروفیسروں کی بازیابی کے لئے ہر ممکنہ کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کا اشارہ ملتے ہی امریکی کمانڈوز کی سیل ٹیم 6 نے اپنے ہدف پر دھاوا بول دیا۔ رات بھر آپریشن جاری رہا اور امریکی کمانڈوز اندھا دھند گولیاں برساتے رہے۔ آپریشن میں نصف درجن افراد کو ہلاک کیا گیا لیکن جب بالآخر امریکی کمانڈوز نے تلاشی شروع کو تو پتہ چلا کہ اغوا شدہ پروفیسر وہاںموجود نہیں تھے، بلکہ انہیں کبھی اس جگہ لے جایا ہی نہیں گیا تھا۔ امریکی فوج کے اس آپریشن کی تفصیلات سامنے آئیں تو اعلٰی عسکری حکام کے لئے خفت چھپانا مشکل ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق اب اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -