کراچی چیمبر،تیانجن یانگ جن بزنس اینڈ ٹریڈ کارپوریشن میں معاہدہ

کراچی چیمبر،تیانجن یانگ جن بزنس اینڈ ٹریڈ کارپوریشن میں معاہدہ

کراچی (این این آئی)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) اور چین کے تیانجن یانگ جن بزنس اینڈ ٹریڈ کارپوریشن نے باہمی تعاون کی یاداشت پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت کراچی چیمبر تیانجن یانگ جن بزنس اینڈ ٹریڈ کارپوریشن کو کراچی اور دیگر شہروں میں تیا نجن کمرشل و ڈیولپمنٹ سینٹرز کے قیام میں معاونت کرے گا۔ ایم او یو پر کے سی سی آئی کے صدر یونس محمد بشیر اور تیانجن یانگ جن ٹریڈ کارپویشن لمیٹڈ کی جنرل منیجر مس یاؤ چینگ نے دستخط کیے۔ معاہدہ تیانجن پیپلز ایسوسی ایشن آف فرینڈشپ برائے بیرونی ممالک کے نائب صدر چین وی منگ کی سربراہی میں چین کے 9 رکنی وفد کے کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر طے پایا۔اس موقع پر کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ضیاء احمد خان، سابق صدر اے کیو خلیل، سابق سینئر نائب صدر شمیم احمد فرپو،سابق نائب صدر ناصر محمود اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔معاہدے کے تحت تیانجن یانگ جن بزنس اینڈ ٹریڈ کارپوریشن چین کے مختلف شہروں اور تیانجن کی تاجربرادری کے ساتھ کراچی چیمبر کے دوستانہ تعلقات کو استوار کرنے میں مدد کرے گا۔

جبکہ کراچی میں چینی سرمایہ کاروں کو کاروبار کرنے کی جانب راغب کرنے کے لیے چین کے مختلف شہروں میں تجارتی آگنائزیشنز اور تجارتی اداروں کو کراچی میں موجود سرمایاکاری کے مواقعوں سے آگاہی فراہم کرنے کے علاوہ باہمی تجارت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

وفد کے سربراہ چین وی منگ نے کراچی چیمبرکے دورے کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہاکہ تیانجن کی تاجربرادری کراچی کی تاجرو صنعتکار برادری کے ساتھ باہمی تعاون کو فروغ دینے کی خواہش مند ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تاجرو صنعتکاروں سے ملاقات کے لیے کے سی سی آئی کا دورہ کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ چند سالوں سے کراچی میں مجموعی صورتحال بتدریج بہتر ہورہی ہے جس سے معیشت کے مختلف شعبوں میں مواقع تلاش کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔وفود اور معلومات کے تبادلے سے دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کو فروغ حاصل ہو گا۔انہوں نے بتایاکہ تیانجن شہر بیجنگ سے صرف 120کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ تیسرا بڑاشہر اور چین کا معاشی مرکز ہے جہاں شمالی چین کی سب سے بڑی ساحلی پٹی ہے۔کارگو ہینڈلنگ کے حوالے سے اس کا شمار دنیا میں چوتھے نمبر پر ہوتا ہے جبکہ3 لاکھ کمپنیاں یہاں کامیابی کے ساتھ اپنا کاروباری جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں 25ہزار بڑی بین الاقوامی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ تیانجن کا شمار پورے چین کے لیے پیداواری مرکز کے طور پر کیا جاتا ہے۔ کے سی سی آئی کے صدر یونس محمد بشیر نے اس موقع پر وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا معاشی مرکز ہونے کی وجہ سے کراچی غیر ملکی سرمایہ کاری اور مشترکہ شراکت داری کے لیے چینی سرمایہ کاروں کو منافع بخش مواقع فراہم کررہاہے۔یہ شہر چینی تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی پرکشش ہے جو مشترکہ شراکت داری اور اپنا کاروبار شروع کر کے خاطرخواہ منافع کما سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ امن وامان کی بہتر ہوتی صورتحال، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے اورگوادر بندرگاہ کی تکمیل سے خطے میں قابل ذکر غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی جبکہ چین کی تاجربرادری بھی پاکستان میں سرمایہ کاری اور مشترکہ شراکت داری کے ذریعے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاکرسکتے ہیں۔انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہاکہ مالی سال 2015-16کے درمیان پاکستان کی چین کے لیے برآمدات1.903ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ درآمدات8.127ارب ڈالر کی سطح پر ریکارڈ کی گئی ہیں جو10.03ارب ڈالر سے زائد تجارتی حجم کو ظاہر کرتا ہے جس کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے اور یہ مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔کے سی سی آئی کے صدر نے گوادر بندرگاہ پر پاکستان اور چین کے باہمی تعاون سے جاری کاموں پر اطمینان کا اظہار کیا جو پاکستان کی اقتصادی سرگرمیوں کو مزید تیزی لانے کا باعث ہوگی اور چین کے مغربی علاقوں سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے اہم سمندری راستہ ثابت ہو گا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون ، تجارتی و سرمایہ کاری وفود کی تشکیل،تجارتی نمائشوں، سیمینارز اور اجلاس کے انعقاد پر بھی زور دیا۔انہوں نے کراچی چیمبر اورتیانجن پیپلز ایسوسی ایشن آف فرینڈشپ کے درمیان باہمی رابطوں کو بڑھانے پر زور دیتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ چین دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی راہیں ہموار کرے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ چینی وفد کا کراچی چیمبر کے دورہ دونوں پڑوسی ممالک کے لیے بہتر ثابت ہو گا۔

مزید : کامرس