ملک میں انشورنس کی اثر پذیری 0.7‘ ترقی یافتہ ممالک میں 5فیصد ہے

ملک میں انشورنس کی اثر پذیری 0.7‘ ترقی یافتہ ممالک میں 5فیصد ہے

  

کراچی (اے پی پی) وفاقی محتسب انشورنس رئیس الدین پراچہ نے کہا ہے کہ ملک میں انشورنس کی اثر پذیری 0.7 فیصد ہے جبکہ ترقی یافتہ مملک میں 5 فیصد ہے جو ملکی انشورنس انڈسٹری کا ہدف ہونا چاہئے ۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے آڈیٹوریم میں سیمینار بعنوان ’’ملکی معاشی ترقی میں انشورنس انڈسٹری کے ذریعے انشورنس محتسب کا فعال کردار‘‘ پر طلباء سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرجامعہ کراچی کے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ سائنسزکے ڈین فیکلٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی، کراچی چیمبرکے سابق نائب صدر ناصر محمود، فیڈریشن آف چیمبر پاکستان کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے حقوق تحفظ صارفین کی چیئرپرسن ڈاکٹر ہمابخاری،نیو جوبلی انشورنس کے کامران عارف اور حسین عابس نے بھی خطاب کیا۔

وفاقی محتسب انشورنس رئیس الدین پراچہ نے کہا کہ طلباء مستقبل کے معمار ہیں، ان کی تعلیم و تربیت ہماری اولین ذمہ داری ہے، لہٰذا انشورنس آگاہی کے سلسلے میں ابتدائی کام نوجوان طالب علموں کو معلومات فراہم کرنا ہے جس کے لئے تعلیمی نصاب کو تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات کے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں محتسب کے دیگر ادارے بشمول انشورنس، ٹیکسیشن، بینکنگ وغیرہ کا قیام بعد ازاں عمل میں آیا تاکہ متعلقہ شعبوں میں عوام الناس کے مسائل کو حل کیا جائے اور 1990ء کے ابتدائی عرصے میں پرائیوٹ سیکٹر لائف انشورنس کمپنیوں کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دی گئی جس کے نتیجے میں ملک میں وسیع سرگرمیاں شروع ہوئیں اور عوامی پیمانے پر انشورنس بزنس کے فروغ سے انشورنس انڈسٹری کے امور و معاملات منظم کرنے اور ان کے صارفین کے مسائل کو حل کرنے کے لئے متعلقہ قانون سازی کی ضرورت پڑی۔ لہٰذا انشورنس آرڈیننس2000ء کے تحت 2006ء میں انشورنس محتسب کا قیام عمل میں آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت انشورنس کی اثر پذیری پاکستان میں 0.7فیصد ہے جو خطے میں سب سے کم ہے ۔ ہمارے پڑوسی ممالک بھارت ، بنگلہ دیش وغیرہ اس سلسلے میں ہم سے بہت آگے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک میں انشورنس کی اثر پذیری تقریباً5فیصد ہے جو پاکستانی انشورنس انڈسٹری کا ہدف ہونی چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام سے بغیر کسی معاوضے کے فوری انصاف کی فراہمی کے باقاعدہ عدالتی نظام کے مقابلے میں جہاں عوام کی دادرسی کیلئے وقت اور پیسہ بہت بڑی رکاوٹ ہیں محتسب کا ادارہ فوری انصاف کی وجہ سے مقبولیت پا رہا ہے ۔انشورنس محتسب کے پاس دائر کردہ شکایات کے منصفانہ فیصلوں سے انشورنس صارف کااعتماد نہ صرف حکومت پاکستان اور انشورنس کمپنی بشمول انشورنس سیکٹر پر بحال ہوتا ہے بلکہ انشورنس انڈسٹری کے فروغ اور وسعت کا باعث بھی بنتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی انشورنس محتسب کا ادارہ پرائیوٹ سیکٹر انشورنس کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے انشورنس پالیسی کے حامل افراد، ان کے ورثاء کی جائز شکایات اور تکالیف کو بغیر کسی وکیل کی پیروی اور بلامعاوضہ اور فوری انصاف کی فراہمی کے لئے وجود میں آیا۔ وفاقی انشورنس محتسب رئیس الدین پراچہ نے کہا کہ ہمارا ادارہ جنرل انشورنس بشمول میرین، پراپرٹی، موٹروہیکل انشورنس اور لائف بشمول انفرادی، گروپ اور ہیلتھ انشورنس وغیرہ کے حوالے سے مختلف النوع شکایات کا تصفیہ کرتا ہے اور اپنے قیام سے تاحال انشورنس لینے والوں کی ہزاروں درخواستوں کو نمٹا چکا ہے ۔ اس کی تازہ مثال رواں سال کے دوران انشورنس سائلین کو کلیم تصفیے کی صورت میں 15 کروڑ روپے سے زائد جائز انشورنس کلیم کی ادائیگی کی جاچکی ہے۔

مزید :

کامرس -