کشمیر کاانسانی المیہ

کشمیر کاانسانی المیہ

کسی بھلے مانس نے سوشل میڈیا پہ خوب لکھا کہ کشمیر کے حق میں آواز اٹھانے کے لئے آپ کا پاکستانی یا مسلمان ہونا ضروری نہیں، صرف انسان ہونا ضروری ہے۔یہ قلمی جہاد اب تک کتنے ہی کالمسٹ اور ادیب کر چکے ہیں ۔ حق کا ساتھ دینے کے لئے صرف انسانیت ، محبت اور احساس کا جذبہ در کار ہے۔ میں سمجھتی ہوں کشمیر کے عوام کی آواز میں آواز ملانا اس ملک کے ہر فرد کا فرض ہے۔ اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان پر واجب ہے کہ وہ انسانیت کی بات کرے، امن اور آزادی کی بات کرے۔ کشمیر اس دھرتی پر خدا کا تحفہ ہے ، اسے تاریخی اعتبار سے اس کے قدرتی حسن کے لئے جانا جاتا ہے۔ یہ برصغیر پاک و ہند کا شمال مغربی علاقہ تھا۔ تاریخی طورپر کشمیر وہ وادی ہے جو ہمالیہ اور پیر پنجال کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع ہے۔اِس کا کُل رقبہ دو لاکھ بائیس ہزار دو سو چھتیس مربع کلو میٹر ہے، اس میں سے ایک لاکھ ایک ہزار تین سو پچاسی مربع کلومیٹر بھارت کے قبضے میں ہے، جبکہ پاکستانی آزاد کشمیر کا رقبہ اٹھہتر ہزار ایک سو چودہ مربع کلو میٹر ہے۔کچھ علاقہ چین کے زیر کنٹرول ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی آبادی اندازً دو کروڑ ہے ان میں مسلمانوں کی تعداد اڑسٹھ فیصد ہے۔جس وقت یہ تحریر لکھی گئی کشمیر میں کرفیو لگے دو مہینے سے اوپر ہو چکے ہیں ۔ یہ طویل ترین کرفیو مقبوضہ وادی میں بحرانی کیفیت پیدا کر چکا ہے۔ بھارتی ظلم کی حالیہ لہر میں 60 سے زائد بے گناہ شہری شہید ہو چکے ہیں ، جبکہ 6000سے زیادہ زخمی ہیں ، جن میں سے بیشتر کی حالت نازک ہے۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے پیلٹ گنزکے اندھا دھند استعمال کی وجہ سے 200سے زیادہ لوگ اپنی مکمل بینائی کھو چکے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ جزوی طور پر بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ آنکھوں کے ڈاکٹروں کی تین رکنی ٹیم نے انڈیا سے کشمیرکا دورہ کیا اور صورت حال کو جنگی طرز کا قرار دیااور کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اتنے زیادہ آنکھوں کے زخم نہیں دیکھے۔ اس کے علاوہ بہت سے کشمیر ی مستقل معذوری کا شکا ہو رہے ہیں ۔ مزید برآں انسانی جسم میں رہ جانے والے پیلٹس کے باعث جسم میں سیسے کے زہر کے خطرات موجود ہیں، جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں پچھلے کئی ہفتوں سے انتہائی سخت کرفیو نافذہے۔ ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارتی فوجی مسلسل جسم کے اوپری حصوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اراداتاً معصوم جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ وادی میں انٹرنیٹ کیبل ، موبائل سروسز کو بند کر دیا گیاہے ، مریضوں ، ڈاکٹر وں ، مریضوں کے لواحقین اور ہسپتال کے ٹیکنیکل سٹاف کو تشددکا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر (DAK)نے اپنی متعد د پریس ریلیز میں ان تمام حقائق کی تصدیق کی ہے ۔ بھارتی فورسز نے رضاکاروں کو بھی جوکہ زخمیوں کو مفت خوراک، ادویات ،کپڑے اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کر رہے تھے، ہراساں کیا اور انہیں کام کرنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔

طویل کرفیو کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں شدید بحران پیدا ہوگیا ہے۔ ہسپتالوں میں ضروری ادویات کی عدم فراہمی سے مریضوں کے علاج معالجے میں شدید دقت کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو ہسپتالوں تک پہنچنے میں مشکلات درپیش ہیں۔ مسلسل کرفیو کی وجہ سے گھروں میں غذائی اشیاء اور ضروری ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ یہ معاملہ نو آزادیء کشمیر کے نوجوان لیڈر برہان الدین وانی اور اِس کے ساتھیوں کے بہیمانہ قتل سے شروع ہوا۔ ہندوستان میں بھی انسانی حقوق کی تنظیموں اور دانشوروں نے برہان الدین وانی کے قتل کو حکومت کی غلطی قرار دیا۔ مودی سرکار نے اِسی پر بس نہ کی اور اِس کے حق میں ہونے والے مظاہروں پر بھی ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے کہ جدید تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ برہان الدین وانی کے ماورائے عدالت قتل نے دو باتیں واضح کردیں، ایک یہ کہ یہ تحریک خالصتاً عوامی نوعیت کی ہے اور بھارت کے ہٹ دھرم رویے کا رد عمل ہے، جس کی وجہ سے آج تک کشمیر یوں کو حق خودرادیت سے محروم رکھا گیا، یعنی پاکستان پہ دہشت گردی کا کیچڑ اچھال کر بھارت اپنے گلے سے یہ لعنت کا طوق نہیں نکال سکتا۔ مقبوضہ کشمیر میں وسیع پیمانے پر ہونے والی یہ مزاحمت ثابت کرتی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر مکمل طور پر ایک مقامی تحریک ہے اور ہندستان کے پاکستان پر لگائے جانے والے تمام تر الزامات بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی روز بروز بگڑتی صورت حال کو داخلی معاملہ قرار دینے کی تمام تربھارتی کوششیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔معصوم کشمیر ی عوام کے قتل عام کو مبینہ دہشت گردی کے ملمع میں چھپا یا نہیں جاسکتا ۔ کشمیر ی عوام کی خودارادیت کے حصول کی جدوجہدکو کسی صورت دہشت گردی نہیں قرار دیا جاسکتا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستانی افواج کی خون کی ہولی نے بھارتی عوام کے ضمیرکو بھی جھنجھوڑ دیا ہے ۔ آج بھارت میں موجود انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مختلف طبقات ہائے فکر کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے آج بھارت کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔پاکستانی عوام دکھ اور تکلیف کی ہر گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ ہم ان کے ہر درد ، ہر غم کا اپنادرد اور غم سمجھتے ہیں۔ کشمیر میں جاری ظلم و جبر کی حالیہ کارروائیوں سے پاکستان کے ہر طبقہ فکر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔کشمیر پر وزیراعظم نواز شریف کا موقف دو ٹوک ہے۔ وزیراعظم نے ڈنکے کی چوٹ پر برہان وانی کو شہید قرار دیا، جس پر شسما سوراج سیخ پا ہوگئی اور اس نے اپنے بیان میں خصوصاً اس کا ذکر کیا کہ وہ تو مطلوبہ دہشت گرد تھا۔ جواباً وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارتی حکومت کو یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہے کہ برہان الدین وانی کے جنازے میں پورے کشمیر سے بیس لاکھ لوگوں نے شرکت کی ، جبکہ بھارت نے اس وقت وادی میں تاریخ کا بدترین کرفیو نافذ کیا ہوا تھا۔ وزیراعظم نواز شریف وہ واحد لیڈر ہیں، جنہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں کئی دہائیوں بعد اقوام عالم کے سامنے نئے سِرے سے مسئلہ کشمیر پر بات کی۔ 15جولائی 2016ء کو وزیر اعظم کی ہدایت پر فارن آفس نے اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل، سلامتی کونسل کے صدر ، سیکریڑی جنرل او آئی سی اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو تفصیلی خطوط لکھے ،جن میں دنیا کو یاد دلایا کہ یہ 70سال پرانا مسئلہ ہے ، جو آج تک عالمی بے اعتنائی کا شکار رہا،اب humanitarian crisisبن چکا ہے جس سے خطے میں امن کی صورت حال میں بگاڑ پیدا کر سکتا ہے،اب جبکہ پاکستان اوربھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں ، دنیا یہ خطرہ مول نہیں لے سکتی کہ دونوں میں تنازعات کو بڑھاوا دیا جائے، اِس وقت کشمیرکا حل ناگزیر ہے ، اِس لئے بھارتی حکومت پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ وہ اِس مسئلے کو اقوام متحدہ ہی کی قرار دادوں کے مطابق حل کرے ۔

6اگست2016ء کو وزیراعظم نے ایک بار پھر عالمی برادری سے اپیل کی کہ آنکھوں کے علاج کے لئے بین الا قوامی ڈا کٹروں کی ٹیم تشکیل دے کر کشمیر روانہ کیا جائے تاکہ بھارتی فوج کے ظلم کے نتیجے میں جن بے گناہ شہریوں کی بینائی چلی گئی اور آنکھوں کے زخم ہیں، اُن کا علاج کیا جاسکے۔ حکومت پاکستان نے بھی ایسی کسی میڈیکل سہولت کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی اگر کشمیریوں کو ضرورت پڑے تو پاکستانی ڈا کٹر حکومت کی طرف سے اُن کے علاج کے لئے جائیں گے۔ کچھ فتنہ پرور لوگوں نے وزیراعظم پر کشمیر کے حوالے سے الزامات لگائے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب غیر ملکی میڈیا کا مطالعہ کریں تو وزیراعظم کے کشمیر کے حوالے سے بیانات اکثر غیر ملکی اخبارات میں موجود ہوتے ہیں۔ حال ہی میں وزیراعظم نے 22پارلیمنٹرین کی ایک ٹیم تشکیل دی جو مختلف ممالک کا دورہ کرے گی اور مختلف تنظیموں سے ملاقات کرکے کشمیر کا کیس پیش کرے گی۔ یہ اہم سفارتی فیصلہ ہے جس کی گو نج نئی دہلی میں بھی سنی گئی۔ اِس خبر کو ہندوستان کے ہر بڑے چھوٹے اخبار نے ہائی لائٹ کیا اور اپنی حکومت پر زور دیا کہ وہ معاملے کا سیاسی حل نکالے۔ وزیراعظم نے اپنے حالیہ بیان میں ایک بار پھر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ کیا ان لوگوں کے دل انسانی درد اور جذبوں سے خالی ہیں جو بے گناہ کشمیری نوجوانوں ، بچوں اور خواتین پر پینت گنوں سے فائرنگ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ بصارت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ظلم پر چپ رہنا بھی تو ظلم کی ہی ایک قسم ہے۔ برصغیر میں 68 سال سے حل طلب مسئلہ کشمیر جس نہج پر آگیا ہے، نوجوانوں نے تحریک میں جو روح پھونکی ہے اور پاکستان کی اخلاقی و سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اب نئی دہلی پر بھی بے پناہ دباؤ ہے کہ معاملے کو حل کی طرف لے جائے۔" را" کے سابق سربراہ نے خود اعتراف کیا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی بھارتی حکومت سے "سیاسی"حل نکالنے کا کہا ہے ۔ اِس میں سب سے زیادہ اہم حکومت پاکستان کا بار بار اِسے عالمی سطح پر اُجاگر کرنا ہے۔ یہ 22 رکنی پارلیمانی وفد کی تشکیل، نئی دہلی میں خصوسی توجہ حاصل کرچکی ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ، مقامی لوگوں کی سپورٹ، آزادیءِ کشمیر اور حق خود ارادیت کے لئے واضح ہوتی چلی جارہی ہے۔ حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ پُر اُمن طریقہ سے بین الا قوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کیاجائے اورتمام فورمزپر بھر پور طریقے سے مسئلے کو اُجاگر کیا جائے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا سب سے اہم فریق ہے اور اِس کے پُر امن حل کا خواہاں بھی۔

مزید : کالم