سی پیک: ترکی کی شمولیت اور بھارت کی جھلاہٹ

سی پیک: ترکی کی شمولیت اور بھارت کی جھلاہٹ
 سی پیک: ترکی کی شمولیت اور بھارت کی جھلاہٹ

  


ترکی نے بھی سی پیک منصوبہ میں شمولیت میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔اتوار اور پیر کو چین کے شہر ہانگ ژو میں G-20 سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ترکی بھی شریک تھا۔ ترکی کے صدر طیب اردوان نے اس موقع پر عالمی لیڈروں سے اہم ملاقاتیں کیں، پیر کی رات کو جب ان کی ملاقات چینی صدر شی چن پنگ سے ہوئی تو ترک صدر نے چینی صدر سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ترکی بھی سی پیک راہداری کا حصہ بننا چاہتاہے جسے چینی صدر نے انتہائی خوش آئند قرار دیا اور امید ظاہر کی جلد ہی ترکی، چین اور پاکستان کے سربراہان کی ملاقات ہو گی، جس میں ترکی کی اس خواہش کو عملی صورت دینے کی حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ چین اور ترکی کے صدور نے اس یقین کا اظہارکیا کہ پاکستان اور ترکی کے راستہ چین اور یورپ آپس میں منسلک ہو جائیں گے۔ G-20 سربراہ کانفرنس کے ساتھ ان ممالک کے بزنس مینوں کی کانفرنس بھی ہوئی، جس میں ترکی کے وزیر تجارت نہات زبیکی نے ترکی کی سی پیک میں شمولیت کی تفصیلات بتائیں۔ عوامی جمہوریہ چین اور اس کے بعد ترکی، یہ دونوں پاکستان کے عزیز ترین دوست ممالک ہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت پاکستان کے سب سے زیادہ بڑے اقتصادی پارٹنر بھی ہیں۔ جب سے یورپی ممالک، جاپان، امریکہ اور عرب ممالک کی طرف سے آنے والی براہ راست سرمایہ کاری کم ہوئی ہے، چین اور ترکی نے اس خلا کو پر کرنے کے لئے پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا ہے۔ 46 ارب ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری سے شروع ہونے والا سی پیک ایک انتہائی شاندار منصوبہ ہے،جس کے سب سے زیادہ فوائد پاکستان کو حاصل ہوں گے۔عوامی جمہوریہ چین کے لئے بھی یہ لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ سی پیک ایک بڑے کثیر الجہت ’’ون بیلٹ، ون روڈ‘‘ منصوبہ کا حصہ ہے جس میں 60 سے زائد ممالک شامل ہیں جو چھ مختلف اقتصادی راہداریوں کے ذریعہ ایک نئے عالمی اقتصادی نظام سے منسلک ہو جائیں گے۔ پاکستان کی طرح ترکی کا محل وقوع بھی بہت اہم ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ بھی ہماری طرح مستقل طور پر عالمی ریشہ دوانیوں کی زد میں رہتا ہے۔ ترکی ایک ایسا پل ہے،جو ایشیا کو یورپ سے ملاتا ہے۔ بظاہر سی پیک منصوبہ چین سے شروع ہو کر گوادر پر ختم ہوتا ہے لیکن عملاً ایسا نہیں ہے،بلکہ یہ چین کو یورپ، مشرق وسطی اور مشرقی ایشیا سے ملاتا ہے ،جس میں ترکی اہم ترین مُلک ہے۔ جوں جوں سی پیک منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے اس کی افادیت کے بارے میں تصویر زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے اور مزید ممالک اس میں حصہ دار بننے کے لئے آگے آ رہے ہیں۔ ترکی کے علاوہ برطانیہ بھی سی پیک منصوبہ میں سرمایہ کاری کرنے اور اس کا حصہ دار بننے کا خواہش مند ہے،بلکہ وہ پہلے ہی حسن ابدال سے حویلیاں کے درمیان بننے والی ایکسپریس وے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ معاملات اگر اسی نہج پر آگے بڑھتے رہے تو آنے والے چند ماہ میں کئی اور ممالک سامنے آئیں گے جو سی پیک منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ میں سی پیک میں چین کی طرف سے کی گئی سرمایہ کاری کو ابتدائی سرمایہ کاری کہتا ہوں، کیونکہ سی پیک سے ملحقہ منصوبوں میں اس سے کہیں زیادہ سرمایہ کاری دوسرے ممالک کریں گے۔

سی پیک منصوبہ کا سب سے بڑا مخالف بھارت ہے،حالیہG-20سربراہی کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جب چینی صدر شی چن پنگ سے ملاقات ہوئی تو حسب توقع بھارتی وزیراعظم نے سی پیک کے حوالہ سے ٹسوے بہائے اور اعتراضات کی بھر مار کر دی۔ ظاہر ہے یہ اعتراضات چین کے لئے کوئی نئے نہیں ہیں اس لئے نریندر مودی کو رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور چینی صدر نے بھارتی وزیر اعظم کو دوٹوک جواب دیا کہ سی پیک منصوبہ ہر حال میں مکمل کیا جائے گا۔ ترکی اور برطانیہ کی طرح جب اور ممالک سی پیک میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے سامنے آئیں گے تو بھارت کے پاس پسپائی کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا، اِس لئے میری دانست میں بھارت کے لئے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ اپنا روائتی تعصب چھوڑ کر سی پیک منصوبہ میں اپنے فوائد تلاش کرے اور خود کو چین، افغانستان، وسطی ایشیا اور ایران سے منسلک کر نے کے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کرے اور ہو سکے تو اس میں سرمایہ کاری بھی کرے، لیکن یہ اس وقت ہی ممکن ہو گا جب نریندر مودی کی آنکھوں سے تعصب کی پٹی اترے گی۔ مجھے خدشہ ہے کہ بھارت کی متعصب حکومت ان منصوبہ سے فائدہ اٹھانے کی بجائے بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گی اور اس سے بچنے کے لئے پاکستان کو انتہائی ہوشیار رہنا ہوگا۔ بھارت کی کوشش ہوگی کہ وہ ان صوبوں میں نہ صرف دہشت گردوں کی سرپرستی کرے،بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ قوم پرست، فرقہ وارانہ اور علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی کرتے ہوئے حالات خراب کرنے کی کوشش میں تیزی لائے گا۔ حال ہی میں آل انڈیا ریڈیو نے بلوچی زبان میں پہلی بار سروس شروع کی ہے جس میں بلوچستان کے علیحدگی پسند عناصر کی طرف سے پاکستان کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے اور بلوچ عوام کو پاکستان کے خلاف اکسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارت نے پاکستان میں موجود اپنے ایجنٹوں کو متحرک کردیا ہے جو پاکستان میں قتل و غارت گری کے علاوہ نظریاتی اور سیاسی محاذوں پر انتشار پھیلانے کی کوشش کریں گے تاکہ پاکستان میں انارکی جیسی صورت حال پیدا ہو جائے۔ بھارتی عزائم کو امریکہ اور اسرائیل کی مکمل سرپرستی اور اشیرباد حاصل ہے کیونکہ چین کا ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کا مقام حاصل ہونے سے یہ تینوں ممالک سخت خوفزدہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سی پیک کو ناکام بنانے کے لئے انتہائی تیزی سے سرگرم ہیں۔ چین کے لئے گوادر کی بندرگاہ اور پاکستان کے راستہ اقتصادی راہداری اس لئے بھی اہم ہے کہ چین کی تمام تجارت آبنائے ملاکا کے راستہ ہوتی ہے جو انتہائی تنگ ہے اور کسی بھی کشیدگی کے دوران امریکہ اور بھارت آبنائے ملاکہ کی ناکہ بندی کرکے چین کو محتاج کر سکتے ہیں۔اِسی طرح چین اپنا درآمد کردہ سارا تیل بھی آبنائے ملاکا کے راستہ سے منگواتا ہے اور ناکہ بندی ہونے کی صورت میں چین بہت مشکل صورت حال میں گھر جائے گا،جس کا حل گوادر کی بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ سی پیک کے حوالہ سے دونوں طرف انتہائی تیزی آچکی ہے، دوست ممالک اس کی کامیابی کے لئے پہلے سے زیادہ سرگرم ہو گئے ہیں اور دشمن ممالک،خاص طور پر بھارت اور اسرائیل اسے ناکام بنانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے دوست اور دشمن کی پہچان میں غلطی نہ کریں۔ہمیں سب سے پہلے اپنی صفوں میں موجود دشمن کے ایجنٹوں کو پہچان کر انہیں کیفر کردار تک پہنچانا ہو گا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ پہچان بالکل مشکل نہیں ہے، ہر وہ شخص جو پاکستان کو سیاسی، مذہبی، فرقہ وارانہ یا علاقائیت کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔بلوچستان سے گلگت بلتستان تک سی پیک کے راستہ میں جہاں جہاں اور جو بھی کسی بھی شکل میں انتشار پھیلا رہا ہے وہ پاکستان کے دشمنوں کا ایجنٹ ہے۔اس وقت پاکستان کی حکومت، سیاست دان اور سیاسی پارٹیاں فوج، سفارت کاروں،دانشور حضرات، عوام اور میڈیا پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی فرائض کے تقاضے پورے کریں۔ میرا پختہ ایمان ہے ان نازک حالات میں جو بھی اور جس شکل میں بھی انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے، عوام اس کا سختی سے محاسبہ کریں ۔ پاکستان اس وقت کسی بھی بات کا متحمل ہو سکتا ہے، لیکن انتشار، دہشت گردی، قتل و غارت، مذہبی یا علاقائی منافرت اور تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔جہاں تک دوسرے ممالک کا تعلق ہے ، ہمارے دوست اور دشمن اب کھل کر سامنے آتے جا رہے ہیں۔جہاں ایک طرف بھارت سی پیک کو ناکام بنانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تلا بیٹھا ہے، وہیں ترکی جیسے دوست ممالک اسے کامیاب بنانے کے لئے کھل کر سامنے آگئے ہیں۔بھارت کی جھلاہٹ جتنی مرضی بڑھتی رہے، ترکی کی شمولیت انتہائی خوش آئند ہے اور اس بات کے واضح اشارے سامنے آ رہے ہیں کہ ترکی کے بعد مزید ممالک بھی سرمایہ کاری کرنے جارہے ہیں اور سی پیک کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں روس بھی سی پیک کا حصہ بننے اور سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔دوست اور دشمن ممالک کے درمیان تفریق کرنا ایک آسان کام ہے ، البتہ اصل چیلنج ہماری اپنی صفوں میں گھسے ہوئے دشمن کے ایجنٹوں کو پہچاننا ہے اور اندرونِ ملک دشمن ایجنٹوں کا قلع قمع ہمیں خود کرنا ہوگا۔

مزید : کالم


loading...