’’کون ہمارا دشمن ہے‘‘

’’کون ہمارا دشمن ہے‘‘

کام سے واپس آئی تو دیکھا کہ میرا چھوٹا بیٹا جو مجھ سے محبت کی غرض سے ٹی وی لاؤنج میں میرے آنے کے وقت اردو چینل لگا دیتا ہے تاکہ نہ صرف ماں کی تھکاوٹ، بلکہ اداسی میں بھی یکدم کمی آ جائے۔ میرے بیٹے کا یہ عمل غم و غصے کا نام و نشان مٹا دیتا ہے۔ یہ کیا آج تو وہ بار بار چینل بدل رہا تھا۔بولا! ماں ایک اور۔ میں نے کہا کیا؟کہنے لگاجملہ ادا کیا اور پھر ساتھ ہی بولا آخر ہمارا دشمن ہے کون؟کوئٹہ میں ہائی کورٹ کے وکلاء پر دہشت گردی کے حالیہ خودکش حملے کے مناظر دیکھنے کی مجھ میں سکت نہ تھی۔ ابھی گزشتہ دہشت گردی کے سفاک حملوں پر نظمیں لکھ کر فارغ ہوئی تھی کہ ایک اور اس قدر بڑے سانحہ کو نظروں میں سمانا اور پھر دل میں اتار کر نوکِ قلم تصویر کشی کا حوصلہ روز روز کہاں سے لاؤں؟ ایک وڈیو بار بار چل رہی تھی جو کسی بھی ہالی وڈ کی سائنس فِکشن فلم کے مناظر سے کم نہ تھی۔ جہاں پر خون میں لت پت لوگ ایک دوسرے پر اوندھے اور سیدھے پڑے تھے۔دیواروں پر سُرخ خون کے نشانات نے اس کا رنگ بدل دیا۔

حادثے کی جگہ پر فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اور سیکیورٹی اداروں کے حکام مدد کے لئے پہنچ گئے۔ منظر کشی ضروری تو نہیں تھی، لیکن کرنی اس لئے پڑی کہ دشمن کی تلاش کے لئے کوشش کرلیں تو بہتر ہے کہ اِنسانوں ہی کے ہاتھوں غیر انسانی دہشت گردی کی آفات سے جان چھوٹ سکتی ہے۔یوں سمجھئے کہ اگر مرض کی وجہ معلوم ہو جائے تو علاج معالجے میں آسانی ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمارا دشمن کون ہے،اور کون کس کس کا دشمن ہے؟ ہمارے ہمسایہ ملک یا ہمارے ہمسائے، ہمارے رشتہ دار یا ہمارے مددگار، یا بین الاقوامی ایجنسیوں کے آلۂ کار، ہمارے سیاست دان یا جاگیر دار اور صنعت کار، یہ انٹرنیٹ،فیس بک یا سائنس و ٹیکنالوجی یا سب سے بڑھ کر ہم خود!دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ جائے حادثہ پر سب سیاسی، سماجی، انقلابی اور اخلاقی اداروں کے افراد آتے ہیں۔ حکومتی ادارے ’’ہمارے دشمن‘‘ کو نامعلوم افراد،خود کش حملہ اور اندرونی خلفشار، بیرونی پریشر گروپس، سازشوں اور بین الاقوامی طاقتوں کے ملوث ہاتھوں سے تفتیش کا آغاز کرتے ہیں اور چند روز اِدھر اُدھرکی ہانکنے کے بعد حالات معمول پر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ یہ’’ہمارا دشمن‘‘نہایت منظم اور وقت کا پابند ہے۔ نہ یہ جائے حادثہ پر دیر سے پہنچتا ہے اور نہ ہی اس کا وارنشانہ سے ادھر ادھر ہوتا ہے۔ یہ جو ہمارا دشمن ہے، یہ انسانیت،ملک و قوم، جمہوری اداروں، آئین اور عالمی برادری میں ہماری شناخت کو برباد کررہا ہے۔ اب وقت بہت کٹھن آگیا ہے، کیونکہ نہ میڈیا پر آکربحث مباحثے سے حالات درست ہو رہے اور نہ ہی ضمیمے چھاپنے سے حالات میں درستی کے امکانات نظر آرہے ہیں،چونکہ ہمیں ایک کثیر ملک گیر خانہ جنگی سے بچنے کے لئے سب کو ’’ایک‘‘ہونا پڑے گا۔

’’تہذیبوں کے تصادم‘‘کی صورت حال سمجھنے کے لئے سیموئیل ہنٹنگٹن اپنی تصنیف ۔۔۔The clash civilisations۔۔۔ میں بیان کرتے ہیں کہ ہمارے مستقبل اور آنے والی جنگوں کا دارومدار جہاں اقتصادیات کی بنیاد پر ہوگا، وہاں پریشانی، سماجی اور مذہبی اختلافات بھی آئندہ معاشروں کے امن و امان کو ترتیب دینے میں اہم کردار ادا کریں گے، جس پر تقریباً آج کے دور میں موجودہ صورت حال کو دیکھ کر ہم ایک ہی ملک میں ایک ہی شہر میں اور ایک محلے اور حتیٰ کہ ایک گھر میں رہتے ہوئے یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ سامنے والا شخص ہمارا دوست ہے یا دشمن؟ اس کی وجہ میری ناقص عقل میں تو یہی بنتی نظر آ رہی ہے کہ ہم لوگوں نے اپنی اپنی تہذیبی روائتوں، معاشرتی قدروں اور بلا وجہ نقل اور ترقی کے نعرے لگانے میں کہیں اپنے پُرامن معاشرے کی شکل و صورت کو بگاڑ کر نہ صرف دنیا کو پیش کر رہے ہیں، بلکہ اُس پر فخر بھی کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمیں معلوم نہیں، ہمارا ہمسایہ کون ہے، ہمارے محلے میں کون کون رہتا ہے اب جس روش پر ہم چل رہے ہیں، اس سے تو یوں معلوم ہو رہا ہے کہ وہ مقام دور نہیں، جب ہم ایک گھر میں ان مکینوں سے میلوں دور ہو جائیں گے، جبکہ ہماری چھت اور زمین ایک ہے۔میں نے بھی دل میں ٹھان لی ہے کہ کچھ عرصہ وطن سے دور پردیسی بنی رہی، لیکن’’سندیسہ‘‘لکھنے کے بعد اب میں نے بھی اپنی ماں کو لکھا ہے کہ ’’میرے لئے واپسی کا سندیسہ بھیج‘‘ تاکہ میں اہلِ وطن کے ساتھ مل کر وطن کا ’’ہمارا دشمن‘‘ ڈھونڈ کر اُس سے نجات حاصل کرلوں۔ میرے لاشعور نے میرے ذہن کی سکرین پر تلاشِ دشمن کا چہرہ پیش یوں کیا!

نفس کو کھلا نہ چھوڑو!

جھوٹ کی مذمت کرو!

شکر کرو حسد نہ کرو!

عفوو درگزر کرو!

اتحاد پر ایمان نہ بیچو!

مذہب کے ساتھ کھیل کھلواڑ نہ کرو!

مزید : کالم