قربانی کی عید، قربانی اور اس کے مراحل

قربانی کی عید، قربانی اور اس کے مراحل
 قربانی کی عید، قربانی اور اس کے مراحل

  

عیدالفطر کو میٹھی عید کہتے ہیں اور عیدالاضحی عیدِ قربان کہلاتی ہے، میٹھی عید پر نماز سے پہلے سیویوں سے مُنہ میٹھا کر کے جاتے اور عیدالاضحی پر نماز کے بعد قربانی کر کے مُنہ نمکین کرتے ہیں، ہمارے یہاں کچھ روایات ایسی بھی ہیں، جن کا کوئی جواز نہیں۔ یہی رواج کہ جس شخص نے قربانی کرنی ہے وہ صبح کچھ نہیں کھاتا اور اسے روزہ کہتا ہے، جو قربانی کے جانور کی کلیجی بھنوا کر کھولا جاتا ہے، کسی عالم دین اور معتبر ذریعے سے تو اِس کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن بہت سے لوگوں کو اِس رسم پر عمل کرتے ضرور دیکھا ہے، جہاں تک اِس روایت کا تعلق ہے تو یہ ویسے دلیل نہیں رکھتی، اِس لئے اسے ماننے کی ضرورت نہیں کہ روزہ تو سحر اور افطار سے مشروط ہے۔ بہرحال پچھلے دِنوں ویٹس ایپ پر یہ بات بہت چلائی گئی کہ جس جس صاحب نے قربانی دینا ہے وہ یکم ذوالحج کے چاند سے عیدالاضحی تک ناخن نہ تراشیں اور نہ ہی بال کٹوائیں یا داڑھی کا خط کرائیں اور جو شیو کرتے ہیں وہ شیو نہ کریں، اِس بارے میں بھی ابہام ہے کہ حج سے تو ایسی شرائط منسلک ہیں، لیکن کیا یہاں جو مروج ہے وہ بھی ضروری ہے کہ بال اور ناخن کے حوالے سے جو کہا گیا وہ حج کرنے والوں کے لئے تو ہے، کیا یہاں قربانی کرنے والے کے لئے بھی یہ شرط ہے۔ اِس بارے میں علماء کرام کو رہنمائی کرنی چاہئے۔

یہ تو دو باتیں ہیں، جن کا تعلق علماء دین سے ہے۔ آج ہمیں ایک عمل پر بات کرنا ہے، جو بظاہر بڑا معقول اور مسائل سے بچانے والا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں جو ہے وہ بہت اہم ہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر بینرز لگا اور اشتہار چھپوا کر ترغیب دی جاتی ہے کہ گائے کی قربانی میں حصہ ڈالیں۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ گائے کی قربانی میں سات افراد شامل ہو سکتے ہیں اور یہ اجتماعی قربانی ہوتی ہے۔ اس کے لئے اہتمام کرنے والے عموماً مساجد والے یا دینی تنظیموں والے ہیں۔ اس عید پر آٹھ ہزار روپے سے دس ہزار روپے فی کس حصہ نکالا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اجتماعی قربانی کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اکیلا قربانی کرنے سے قاصر ہے اور کرنا چاہتا ہے تو اس ثواب میں شامل ہو جائے۔ اس میں کئی فائدے ہیں کہ حصہ دار حصہ دے کر فارغ ہو جاتا ہے، خریداری سے قربانی تک متعلقہ مسجد یا ادارے کی ذمہ داری ہے وہ اس کا اہتمام عموماً مساجد کے صحن میں کرتے یا مسجد کے باہر سڑک پر کرتے ہیں، چنانچہ ہر جگہ ایک سے زیادہ گائے قربان کی جا تی ہیں، پھر اس میں حصہ داروں کے لئے گوشت الگ کر کے ان کو دے دیا جاتا ہے، جو وہ خود ہی ایک دو چکر لگا کر لاتے ہیں، کھال اجتماعی قربانی کے لئے کوشش کرنے والی مسجد یا دینی ادارے کی ہوتی ہے۔ اِسی طرح مساجد والے بکروں کی قربانی دینے والوں کے لئے بھی ذبیحہ اور گوشت بنانے کی پیشکش کرتے ہیں،جو مفت یا معمولی معاوضے پر ہوتی ہے، جو صاحب ان سے استفادہ کرتے ہیں وہ بھی جانور کی کھال وہیں عطیہ کر کے آتے ہیں، چاہے انہوں نے کسی سے بھی وعدہ کیا ہو، یہ سلسلہ اِس مرتبہ کافی پھیلا ہوا نظر آ رہا ہے اور شہر کے ہر بازار اور ہر گلی میں یہ اہتمام موجود ہے، اس کے پیچھے یہ حکمت تو اپنی جگہ کہ گائے میں سات حصوں میں نچلے درمیانے طبقہ والا بھی قربانی میں حصہ دار ہو جاتا ہے،لیکن اس حکمت عملی کا تو جواب نہیں کہ اِس طرح بلا تردد کھالیں تو جمع ہو جاتی ہیں، پھر جو حضرات ذبیحہ کے لئے رجوع کرتے ہیں، کھال تو وہ بھی دے آتے ہیں، حرج کیا ہے آخر کسی کو تو دینا ہے، ان کو دے دی تو کیا ہوا۔

یہ کیفیت اپنی جگہ، اب جو حضرات خود قربانی کرنا چاہتے ہیں، ان میں سے وہ خوش نصیب جو صاحب حیثیت ہیں وہ تو منڈی جا کر پسند کے جانور خرید لاتے ہیں، جب سے سات حصوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تب سے گائے کی قربانی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ہمارا لاہور بھی اب جگہ جگہ گائے اور بچھڑے قربان ہوتے دیکھتا ہے۔ دس پندرہ برس پہلے گائے کی قربانی کا رواج زیادہ نہیں تھا اب تو صاحبِ حیثیت اگر چار یا چھ بکرے خریدتے تو ایک گائے بھی لے آتے ہیں، دوسرے درجہ والے منڈی میں کئی روز تک خوار ہوتے ہیں اور اپنی حیثیت کے مطابق جانور خریدنے کی کوشش کرتے اور مشکل سے کامیاب ہوتے ہیں۔

یہ سب مراحل طے ہو جائیں تو قصاب کا مرحلہ آتا ہے۔ آج کل تو ہم نے قصابوں کی دکانوں پر بینرز لگے دیکھے ہیں کہ تینوں دن(عید+ٹرو+مرو) کے لئے بکنگ جاری ہے یہ حضرات باقاعدہ کاپی میں بکنگ کا اندراج کرتے ہیں اور اس بار ان لوگوں نے بکرے ذبح کرنے کے نرخ تین سے پانچ ہزار روپے تک کر دیئے ہیں اور پھر بکرے میں سے بھی کچھ حصہ طلب کر لیتے ہیں، جس قصاب سے ہم گوشت لیتے ہیں اس کا طریقہ سادہ ہے وہ کہتا ہے، جانور دکان پر لے آؤ، باری پر ذبح کر کے گوشت بنا دیا جائے گا۔ اب اس کے بعد تقسیم اور کھال کا مسئلہ کہ ایک سے پندرہ تک کھال لینے والے تشریف لاتے اور اپنا حق جتاتے ہیں، چاہے آپ پہلے ہی نیت اور ارادہ کر چکے ہوں اس کے علاوہ مانگنے والے آپ کا دروازہ بجا بجا کر جتنا تنگ کرتے ہیں وہ الگ حساب میں ہے اور یہ تینوں دن تک ہوتا رہتا ہے، اس میں فریزر والی بات رہ گئی کہ اس حد تک ہی کافی ہے۔

قارئین! اگر آپ توجہ فرمائیں تو خود علماء کرام کے نزدیک قربانی واجب ہے، لیکن یہاں جو صورت ہے وہ فرض کی سی بن گئی ہے، علماء کرام کو سات حصوں پر لگانے کی بجائے یہ بتانا چاہئے کہ واجب ادا کرنے کے لئے استطاعت ہونا ضروری ہے۔

مزید :

کالم -