افغانستان کی صورت حال

افغانستان کی صورت حال
افغانستان کی صورت حال

  

افغانستان کی تازہ ترین صورت حال سے ظاہر ہورہا ہے کہ افغانستان کی ریاست اب بھی اپنے تحفظ کے لئے مکمل طور پر امریکی افواج کے رحم و کرم پر ہی ہے۔ماہ اگست میں ہونے والے چند اہم واقعات کو دیکھ کر یہی ثابت ہو رہاہے کہ اگر افغان طالبان کے ساتھ با قاعدہ مذاکراتی عمل کاآغاز نہ کیا گیا تو افغان حکومتی ڈھانچے کے لئے اپنے دم پر قائم رہنا مشکل ہوتا جا ئے گا۔افغان طالبان نے اگست میں قندوز اور اوزگان کے صوبوں پر قبضے کے لئے بھر پور حملے کئے۔ ہلمند کے دارالحکومت’’لشکر گاہ‘‘ پر بھی قبضے کے لئے بھرپور کارروائی کی گئی۔ 20اگست کو یہ خبر سامنے آئی کہ طالبان نے قندوز شہر سے صرف 30کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع ’’خان آباد ‘‘پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ افغان نیشنل سیکیو رٹی فورسز اس حملے کوناکام نہیں بنا سکیں، اس لئے امریکی افواج کی معا ونت کے بعد اس اہم ضلع کا کنٹرول واپس لیا گیا۔ اس حملے کے صرف چھ روز بعد 26اگست کو یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ طالبان نے افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے پکتیا کے ضلع ’’جانی خیل‘‘ پر قبضہ کر لیا ہے۔افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز اس شہر کا دفا ع کرنے میں بھی ناکام رہیں اور پکتیا کی صوبا ئی کونسل نے الزام عائد کیا کہ افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کی نااہلی کے باعث ’’جانی خیل‘‘ کا کنٹرول طالبان نے حاصل کیا۔جانی خیل سے طالبان کا کنٹرول ختم کروانے کے لئے بھی با قاعدہ طور پر امریکی افواج اور ہوائی حملوں کا سہارا لیا گیا۔ ابھی جانی خیل میں شدید لڑائی کا سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ قندوز میں طالبان کے حملے کو نا کام بنا نے کے لئے 100 سے زائد امریکی فوجی اہلکاروں کو قندوز بھیجنا پڑا۔

اگست کے وسط میں شمالی صوبے بگلان کے اہم شہر ’’دہانہ غوری‘‘ سے بھی طالبان کا قبضہ ختم کروانے کے لئے امریکی افواج کا ہی سہارا لینا پڑا۔دوسری طرف شہری علاقوں میں بھی صورت حال خراب ہے۔ 25اگست کو افغان دارالحکومت کابل میں قائم ’’امریکن یونیورسٹی‘‘ کو طالبان نے اپنے حملے کا نشانہ بنایا۔ 10گھنٹوں تک جا ری رہنے والے اس حملے میں 8طالب علموں سمیت 16افراد ہلا ک ہوئے۔داعش بھی اس صورت حال میں افغانستان میں اپنے قدم جمانے کے لئے بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے۔ 23جولائی کو کابل میں ہزارہ کمیونٹی پر بڑے خود کش حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔ اس حملے میں 84افراد ہلا ک اور 230زخمی ہو ئے ۔حالیہ حملوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ داعش اور افغان طالبان کے کابل شہر میں بھی اثر ات موجود ہیں۔ ایسی صورت حال میں افغانستان میں قیادت کا بحران بھی پہلے سے زیادہ سنگین صورت اختیار کر رہاہے۔’’ کابل‘‘ میں حکومت کے باہمی اختلافات اب ملکی افواج اور بیوروکریسی پر بھی اثر انداز ہورہے ہیں ۔ افغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے مابین اختلافات اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ دونوں کے مابین تین ماہ سے ہر طرح کی بات چیت بند ہے۔ انہیں اختلافات کے باعث کئی اہم تعیناتیاں بھی نہیں ہوپارہیں۔ افغان صدر کی ہر تجویز کو چیف ایگزیکٹو کی جانب سے رد کر دیا جا تا ہے اسی طرح افغان صدر بھی چیف ایگزیکٹو کی کسی تجویز کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اشرف غنی ہر اہم تعینا تی کے لئے پختونوں کو اور عبداللہ عبداللہ صرف تاجکوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔عبداللہ عبداللہ کے حامی ان کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ اس اتحادی حکومت سے الگ ہو جا ئیں، کیونکہ اشرف غنی نے دو سال پہلے انتخابی اور سیاسی اصلاحات کے حوالے سے کیا گیا اپنا وعدہ پو را نہیں کیا۔

اسی طرح جنوبی افغانستان کے اہم پشتون رہنما سابق افغان صدر حامد کرزئی کے ایما پر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ دو سال پہلے کئے جا نے والے معاہدے کی روشنی میں اشرف غنی فوری طور پر قومی جرگہ بلائیں تاکہ حکومتی سطح پر اصلاحات متعارف کروائی جا سکیں۔اس معاہدے کی ڈیڈ لائن ستمبر تک ہے۔اس مطالبے پر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں حکومتی سطح پر کسی بھی قسم کی اصلاحات متعارف کروانے سے سیا سی کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔مرکز میں بحران اور صوبوں پر کنٹرول نہ ہونے کے با عث غربت، کرپشن اور منشیات کی تجارت میں اضافہ ہو رہاہے۔ان ساری مشکلات سے غریب افغانی کوہی گزرنا پڑ رہاہے، کیونکہ معا شی طور پر خوشحال افغان تو تیزی کے ساتھ یورپ اور امریکہ کی جانب ہجرت کر رہے ہیں۔سیاسی اور نسلی کشیدگی کا سیدھا اثر فوج پر بھی پڑ رہا ہے۔خود افغان میڈیا کے دعویٰ کے مطابق اس وقت ایک بھی صوبہ ایسا نہیں جہاں پر فوج، خصوصی فوجی دستے، پولیس، مقامی اور دیہی ملیشیا اور مقامی جنگجو ہر طرح کے نسلی و لسانی امتیازات سے با لاتر ہو کر کام کر رہے ہوں۔۔۔ Special Inspector General for Afghanistan Reconstruction ۔۔۔کی رپورٹ کے مطابق اس سال 2016ء کے آغاز سے اب تک افغان حکومت کے 5فیصد علاقے پر طا لبان نے کنٹرول حاصل کیا۔اسی رپورٹ کے مطابق ملک کے 407اضلاع میں 36اضلاع ایسے ہیں جو سرے سے حکومت کے کنٹرول میں نہیں یا ان صوبوں میں حکومتی اثر نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ104اضلاع ایسے ہیں، جہاں پر حکومتی رٹ ختم ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

موسم گرما کے دوران ہمیشہ افغان لڑ ائی میں شدت آجاتی ہے، مگر اس مرتبہ موسم گرما کے با قا عدہ آٖغاز سے پہلے بھی صورت حال اچھی نہیں تھی۔اس سال کے آغاز،یعنی جنوری سے جون تک 1,601 افغان شہری ہلاک اور 3, 565زخمی ہوئے ہیں۔اگر ان چھ ماہ کا تقابل گزشتہ سال کے ابتدائی چھ ماہ سے کیا جا ئے تو اس سال ان ہلاکتوں میں 4فیصد اضافہ ہوا ہے۔ افغان حکومت اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے پاکستان کو بھی اس ساری صورت حال کامورد الزام ٹھہرا رہی ہے، مگر یہ امر خوش آئند ہے کہ امریکی، یورپی اور خود افغان میڈیا کے سنجیدہ حلقے افغان حکومت کو مسلسل یہ با ور کر وا رہے ہیں کہ اپنی کمزوری اور نا اہلی کو دور کر نے کی بجائے ساری صورت حال کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینا درست نہیں۔پاکستان نے گزشتہ دوسال سے دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لئے جو اقدامات اٹھا ئے ہیں ساری دنیا میں اس کا اعتراف کیا جا رہاہے۔یہاں اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف زیا دہ بڑی کامیابیاں اس وقت حاصل ہوئیں جب ضربِ عضب اور نیشنل ایکشن پروگرام کا اعلان کر کے یہ تسلیم کیا گیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے خارجی عوامل سے زیادہ اندرونی عوامل سے بھی نمٹنا پڑے گا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا افغان قیادت کو بھی ادراک ہو نا چا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اپنے داخلی عوامل اور مسائل پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔

مزید :

کالم -